محمود پیغمبرﷺکے نام پر مذموم قتل


دو انتہائیں ہمارے معاشرے کو برباد کر رہی ہیں اور دونوں کی اسلام  سختی سے مذمت کرتا ہے۔ پہلی انتہا پسندی کو ذات باری تعالیٰ ، پیغمبر اسلام ، کتاب اللہ اور بنیادی دینی عقائد کے نام پر پروان چڑھایا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف وہ انتہا پسند ٹولا ہے جس نے نام نہاد دانشوری اور روشن خیالی کے زعم میں مذہب کو بازیچہ اطفال بنایا ہوا ہے۔ یہ دونوں انتہائیں ایک دوسرے سے متصادم ہو رہی ہیں اور تصادم کے نتیجے میں شدید نفرت اور عداوت پیدا ہونے کے بعد بالآخر نوبت قتل وقتال تک پہنچ جاتی ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ خدا اور رسولﷺ کو وہ محبت کیسے قبول ہوگی جس کی آڑ میں ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان کو محض دانستہ یا نادانستہ اور چھوٹی غلطی پر جان سے مارڈال کر غازی بننے کا سوچتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی عقل سے بالاتر ہے کہ ایک مسلمان معاشرے سے تعلق رکھنے کے باوجود بعض لوگ مذہب اور شعائرال لہ کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ دوسروں کوبھی یہ وائرس   منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ان دومذموم انتہاﺅں کے بارے میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں جبکہ مردان میں پیش آنے والا المناک واقعہ ایک مرتبہ پھرمجھ طالبعلم کو کچھ لکھنے پرمجبورکررہا ہے۔

گزشتہ ہفتے مردان کے عبدالولی خان یونیورسٹی میں پیش آنے والےدرد ناک واقعے نے ساری قوم کو دکھی کر دیا خصوصاً ان لوگوں کو تو آٹھ آٹھ آنسو رلایا ہو گا جنہوں نے اس انسانیت سوز واقعے کی ویڈیو بھی دیکھی ہو۔ صوابی سے تعلق رکھنے والے نہایت حسین اور خوبرو نوجوان مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر یونیورسٹی کے طلبا نے جس بے دردی سے ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا، وہ ہمارے سماج کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہے۔ مشال کی زندگی کے خاتمے کیلئے ان کے سر اور سینے میں گولیاں اتارنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان کی لاش کا مُثلہ (Mutilation) بھی کرکے اپنی دانست میں ہر ایک نے اپنے آپ کو اسلام کے سب سے بڑا غازی ٹھہرا لیا۔ مشال خان اور مشتعل طلبا کے درمیان بنیادی مسئلہ توہین رسالت سے متعلق تھا ۔ مشال نے مذہب کے بارے میں گستاخی کی تھی اورنہ ہی پیغمبر ﷺ کی شان میں اہانت کا مرتکب ہوا تھاجس کے بدلے میں ان کی جاں لینے کا سوال پیدا ہوتا تھا۔ خبر واحد کاسہارالے کرکچھ اخبارات اور سوشل میڈیا کے غازیوں نے واقعے کے بعد بھی انہیں گستاخ ثابت کرنے کی کوششیں کیں لیکن تادم تحریر مشال کی گستاخی کے بارے میں تواتر کے ساتھ میڈیا اور وہاں کے لوگ ان کی معصومیت کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان کی عصمت پران کے غریب والدین کے دلائل پر اگر کوئی اعتبار نہ کرتا تو ان کے کمرے میں پڑی جائے نماز، دیوارپر آویزاں چار مشہور قرآنی سورتوں کا مبارک چارٹ اور وہاں پڑا قرآنی صحیفہ اُن کی ارتداد اور گستاخ میں مانع ہے۔

اسی بارے میں: ۔  چور چوکیدار اور ترکی کے جمہور پسند عوام

مشال مسلمان والدین کا بیٹا تھا اور ایک پختون روایتی گھرانے میں پلا پڑا تھا سو ممکن نہیں کہ ایسے ماحول میں پروان چڑھنے کے باوجود وہ گستاخی کا مرتکب ہوا ہو۔ معاملے کے برعکس بالفرض ہم خبر واحد پر یقین کرنے کے ساتھ ان کی مارکسزم سے متعلق باتیں اور خیالات کو سامنے رکھیں (اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ مارکسزم کے مباحث خوامخواہ بندے کو ارتداد تک لے جاتے ہیں ) اورانہیں خدانخواستہ گستاخ مذہب بھی تسلیم کر لیں تو کیا ایک مسلمان ریاست میں گستاخی کے مرتکب شخص کو سزا دینے کا استحقاق ہر کس وناکس کو پہنچتا ہے؟  کیا عدالتیں، انتظامیہ اور ایک فعال ریاستی نظام کے ہوتے ہوئے بھی گستاخی کے مرتکب ملزم (مجرم نہیں) کوجذبات کی بنیاد پر رعایا اور جہلا، انہیں مارنے اور پھر لاش کا مثلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ جنگ احد میں پیغمبر اسلام ﷺ کے محبوب چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کرنے کے بعد ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے ان کی لاش کا مثلہ کرکے دشمنی کی انتہا کردی۔ پیارے آقاﷺ اپنے پیارے چچا کی لاش کی یہ بے حرمتی دیکھ اتنے دل برداشتہ ہوئے اور حلفاً فرمایاکہ” اگر موقع ملا تو حمزہ کی لاش کا مثلہ کرنے کے بدلے وہ ستر مشرکین کا اسی طرح مثلہ کریں گے ‘۔بعد میں وحی آنے پر آپ ﷺ کو خبردار کیا گیا ’ اور اگر تم بدلہ لو توبس اسی قدر لو جس قدرتم پر زیادتی کی گئی ہو، لیکن اگر تم صبرکرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے“۔

مدعا یہ ہے  کہ گستاخی کی صورت میں حکام وقت ایسے معاملے سے نمٹ سکتے ہیں نہ کہ ہرکسی کویہ حق حاصل ہے کہ جس طرح چاہے اپنا غصہ نکالنے کی سبیل نکالے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اسلام میں کسی کی لاش کی بے حرمتی یا مثلہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگرچہ وہ کوئی غیرمسلم ہی کیوں نہ ہو۔ مشال کے قتل میں مشتعل طلبا اور یونیورسٹی کے چند ملازمین کی طرف سے اس وحشیانہ عمل کو روکنے میں اگرچہ حکومتی ادارے کامیاب نہیں ہوپائے لیکن یہ امر بہت خوش آئند ہے کہ اس واقعے کے مرکزی کردار گرفتاری سے نہیں بچے ۔ابھی تواس کیس کے مرکزی ملزم وجاہت خان کا ابتدائی بیان بھی سامنے آیا ہے جواس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے جبکہ صوبے کے آئی جی پولیس صلاح الدین محسود نے بھی گزشتہ روز مشال قتل کیس کی تفصیلات پیش کیں جس میں یونیورسٹی انتظامیہ کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا کیونکہ اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کی خاطر یونیورسٹی انتظامیہ پولیس کو آگاہ کرنے کی بجائے فیکلٹی کی غیر قانونی انکوائری کمیٹی کے ذریعے اس معاملے کوانجام تک پہنچانا چاہتی تھی۔ دوسری طرف پولیس کی کڑی نگرانی میں مزید حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے مشال کے ایک دوست عبداللہ نے کہا ہے کہ مشال سمیت اُن پربھی توہین مذہب کا الزام تھا ، کلمہ پڑھنے پر ہجوم ان سے مشال کو گستاخ ثابت کرانا چاہتا تھا لیکن میں نے انکار کر دیا اور چیئرمین آفس کے باتھ روم میںچھپ گیا جبکہ مشال کی زندگی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ عبداللہ کایہ انکشاف قابل غور ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ مشال کے خلاف تھی جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مشال انتظامیہ کی غفلت اور نا اہلی کے خلاف آواز اٹھاتا تھا اور اے وی ٹی خیبر کو انتظامیہ کے خلاف انٹرویوبھی دیا تھا‘۔ بے شک مشال کی اذیت ناک موت اگرچہ توہین مذہب جیسے سنگین الزام کے نام پر ہوئی لیکن قرائن سے صاف پتا چلتا ہے کہ اس المناک قتل کی اصل وجہ مشال کی وہ آواز تھی جو گاہے بگاہے یونیورسٹی انتظامیہ کی بدانتظامی اور مبینہ کرپشن کے خلاف اٹھتی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبا کو اشتعال دلا کر مشال کو ایک ناکردہ جرم کی سزا دی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  تہذیبی ورثے سے انحراف

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔