ریل کی سیٹی بجتی رہنی چاہیے


ایک کتاب میز پر دھری ہے۔ کتاب اٹھاتا ہوں۔ فلیپ پر دو جملے لکھے ہیں۔ ’پت جھڑ کی ہر ٹہنی لہو نشان ہے اور انسانی معاشرہ جنگل نہیں کہ خزاں کے بعد بہار کی آمد یقینی ہو۔ انسانی اجتماع میں گل کا نصاب مقرر ہے، جسے ادا کئے بغیر بہار کا امکان روشن نہیں ہوتا‘۔ یہ مرشدی وجاہت مسعود کی کتاب ’نصاب گل ‘ ہے۔ نصاب گل جاننے کے لئے کتاب کھولتا ہوں۔ وجاہت مسعود کے ہاتھ سے پہلے پنے پر لکھا ہے، ’ ظفراللہ ! بہار آئی تو گل کا نصاب کیا ہو گا؟‘۔ گھنٹوں سوچتا رہتا ہوں کہ بہار کب آئے گی۔ آئے گی بھی یا نہیں۔ کتاب کی فہرست دیکھتا ہوں۔ ’ شہر کی دیوار پر دہشت کے سائے کب تلک، زیست کا دامنِ صد چاک رفو ہو جائے، ہوائے دل کے لئے کھڑکیاں کھلیں پیہم، کس طرح پاک ہو بے آرزو لمحوں کا حساب، نازک سی کونپل کے بھیتر روپ چھپا ہے فردا کا‘۔ مضامین کے عنوانات بہار کے ابواب ہیں۔ امید کی کرنیں ہیں۔ میں کتاب نہیں پڑھتا۔ بند کر دیتا ہوں۔ سوچتا ہوں پڑھوں گا تو بہار کے ابواب تمام ہو جائیں گے۔

رات ہوتی ہے۔ اس پر بھی سوچتے ہیں کہ ہماری تقدیر میں راتوں کا نصاب کیوں زیادہ ہے مگر رات ہوتی رہتی ہے۔ سرہانے ایک اور کتاب پڑی ہے۔ ریل کی سیٹی۔ حسن معراج نے لکھی ہے۔ حسن معراج دلدار دوست ہیں۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے کتاب لکھی ہے۔ مارکیٹ سے کتاب خرید لایا۔ سرورق پر ایک اداس پلیٹ فارم کی تصویر ہے۔ کتاب کے فلیپ پر ناصر عباس نیر صاحب نے کتاب کا ایک مختصر تعارف لکھا ہے۔ معلوم ہوا کتاب پنڈی سے اچ شریف تک ریل کی پٹڑی کے ساتھ سفر ہے۔ راستے میں آنے والوں قصبوں اور شہروں کی تاریخ ہے۔ سوچتا رہا کہ مجھے ریل سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ناصر عباس نیر صاحب نے حسن معراج کی تحریر کی بہت تعریف لکھی ہے۔ سوچا پنڈی سے اچ شریف تک کے قصبوں کی تاریخ جان کر میں نے کیا کرنا ہے؟ دل میں بدگمانی سی در آئی کہ ناصر عباس نیر صاحب حسن معراج کے دوست ہوں گے۔ مروت میں مبالغے کے صیغے لکھ گئے ہوں گے۔ آج کے پوسٹ ماڈرن مباحث میں ریل اسٹیشنوں کے بارے میں جاننا بھلا کیا دلچسپی کا سامان ہو گا۔ کتاب الماری کی نذر ہو گئی۔ بہت مدت گزری۔ ایک دن حسن معراج سے فون پر بات ہو ر ہی تھی۔ چلتے چلتے انہوں نے کہا، ’ سائیں کتاب پڑھی‘۔ جھوٹی مروت میں کہہ دیا کہ جی پڑھی ہے، بہت اعلی کتاب ہے۔ خود سے ایک عجیب سی شرمندگی ہوئی مگر کتاب پھر بھی الماری میں پڑی رہی۔

ایک دن پھر رات آئی مگر نیند نے آنے سے انکار کر دیا۔ الماری کے سامنے کھڑے ہو کر سوچتا رہا کہ کون سی کتاب اٹھاﺅں۔ غیر ارادی طور پر ریل کی سیٹی پر ہاتھ جا لگا۔ سچ پوچھیں تو اٹھائی اسی لئے تھی کہ ریل اور اسٹیشن سے زیادہ نیند آور عنوانات کیا ہو سکتے ہیں۔ پہلا باب کھولا۔ عنوان ہے ’راول رویل‘۔ یہ بھی بھلا کوئی عنوان ہے؟ نیم دلی سے پڑھنا شروع کیا۔ چوتھی سطر نے پکار کر کہا۔ رک جا پتر، بھاگا کہاں جا رہا ہے؟ پھر سے چوتھی سطر پڑھی۔ ’ جس طرح ریلوے اسٹیشن کی عمارت کے ماتھے پر تین تکونوں کا تاج دھرا ہے، اسی طرح شہر بھی تین ثقافتوں کی ترشول پہ ٹنگا، تین آمروں کی یاد دلاتا ہے‘۔ ارے! یہ تو ایک جملے میں نصف صدی کا داستان پرو دی گئی ہے۔ کس اختصار اور پرکاری سے پروئی گئی ہے۔ تھوڑا آگے پڑھیں۔ حسن معراج راولپنڈی کا تعارف لکھتے ہیں۔ ’ شہر کا پہلا حصہ ایوب دور کی علامت ہے۔ اس علاقے کو بجا طور پر پہلے فوجی دور حکومت کا ” Who is who and what is what“ کہا جا سکتا ہے۔ ‘ شہر کا دوسرا حصہ مرد مومن کے دور کی سکیم تھری۔ ’ جہاں پچیس برس پہلے افغان جہاد کی مشاورت ہوتی تھی، وہاں اب بیوٹی پارلر اور بنک کثرت سے کھل گئے ہیں۔ ۔ چکلالہ بیس سے پرے، ویول لائن کراس کریں تو اسلام آباد کی حدود کا آغاز ہوتا ہے جو پاکستان سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے‘۔

 اب آپ افغان جہاد کے علاقے میں بیوٹی پارلر اور بنک کھلنے کے بیان کو ذرا تمثیل میں تصور کریں، متن میں انسانی سرشت کی کیسی المناک داستان موجود ہے۔ پاکستان سے اسلام آباد کا فاصلے ناپ لیجیے۔ قریب ترین شہر راولپنڈی ہے۔ معلوم نہیں شاہراہ دستور سے ویول لائن تک دس کلومیٹر کی زنجیر عدل کیسے بچھ سکتی ہے؟ ہاں! مگرشاہراہ دستور پرموجود ایک پرشکوہ عمارت ، شاہدرہ میں مدفون نور الدین جہانگیر کے مقبرے سے مشابہت ضرور رکھتی ہے۔ شہر کے آخری حصے کا تعارف بھی پڑھ لیجیے۔ ’ شہر کا آخری حصہ مگر دلفریب حصہ، میرے عزیز ہموطنو کی آخری قسط ہے۔ ۔ یہاں کے مکین گھر بناتے وقت اپنے اپنے ٹھیکیداروں سے محض ایک ہی فرمائش کرتے ہیں کہ کمرے میں ٹھنڈک تو ہو مگر اے سی کا شور سنائی نہ دے اور روشنی پیہم ہو مگر بلب دکھائی نہ دے۔ ۔ چونکہ پنڈی کے گھروں کی اکثریت عسکری مزاج ہے لہذا زیادہ تر گھر مدھم بتیوں سے روشن ہیں‘۔ کیا یہاں بھی کسی تمثیل کی ضرورت ہے؟ دعا کیجیے کہ عزیز ہم وطنو کی قسط آخری ہی رہے۔ نہ رہی تو اس خاک پر انکار کا قرض واجب ٹہرا۔ ہاں اس بات پر غور کرتے رہنا چاہیے کہ زیادہ روشنی سے آنکھیں کیوں چندھیانے لگتی ہیں؟

 کتاب پڑھتے پڑھتے احساس ہوا کہ اکیس باب تمام ہو گئے اور خبر نہ ہوئی۔ تب سے اب تک یہ کتاب سرھانے دھری ہے۔ کتاب بیچ بیچ سے کھولتا ہوں، چند جملے پڑھتا ہوں اور گھنٹوں سوچتا رہتا ہوں۔ یہ خیال دامن گیر رہتا ہے کہ کتاب ختم ہو گئی تو کیا پڑھوں گا؟ کوئی شخص پوچھے کہ آپ نے ریل کی سیٹی پڑھی ہے، تو میرا جواب ہو گا کہ نہیں میں نے اس کے سو صفحات پڑھے ہیں۔ سچ پوچھیئے تو بیچ بیچ میں سے پڑھتے پڑھتے میں کتاب دو بار پڑھ چکا ہوں مگر دل کو تسلی دیتا رہتا ہوں کہ باقاعدہ تو ابھی سو صفحے پڑھے ہیں اور ایک سو بائیس صفحے باقی ہیں۔

حسن معراج دوست ہیں۔ ان کے بارے میں جو بھی لکھوں احباب مبالغہ قرار دے سکتے ہیں۔ معلوم نہیں نقاد اس کتاب کے بارے میں کیا کہتے ہوں گے۔ میرا ایک ذاتی تاثر ہے ۔ پچھلے دنوں مختار مسعود ہم سے بچھڑ گئے لیکن یقین جانیں کہ جو رچاﺅ، جو بہاﺅ، جو محبت مختار مسعود کی تحریر میں ہے وہی تخلیق، وہی آہنگ، وہی محبت حسن معراج کی تحریر میں ہے۔ تخلیق مرتی نہیں ایک اور صورت میں جنم لیتی رہتی ہے۔ مرشدی وجاہت مسعود نے اپنی کتاب دیتے ہوئے سوال کیا تھا، ’ ظفر اللہ! بہار آئی تو گل کا نصاب کیا ہو گا؟‘ مرشدی! کیا مجھے کہنے کی اجازت ہے کہ حسن معراج لکھتے رہے تو پت جھڑ کی ٹہنیوں سے لہو کا نشان مٹ جائے گا۔ بہار ضرور آئے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 143 posts and counting.See all posts by zafarullah