مسلم لیگ (ن) کا یوم دستور


یوم دستور منانے کا اقدام درحقیقت ایک تاریخ کو ایک دن میں سمو لینے کا نام ہے۔ دستور کی، آئین کی حیثیت کسی مملکت میں درحقیقت دوڑتے ہوئے لہو کی مانند ہوتی ہے کہ جس کی روانی میں تعطل گلنے سڑنے کے آغاز کا باعث بن جاتا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان وطن عزیز کے ذیل میں اس کی تلخ ترین مثال ہے۔ جب 12 اکتوبر 1999ء کو سرحدوں کے محافظوں کو ایک آمر کے حکم پر ریاست کے اداروں پر شب خون مارنے کا حکم ملا تو اہل سیاست میں سے تاریخ کو جاننے والے مستقبل میں اس کے اثرات کو نوشتہ دیوار سمجھ رہے تھے۔ ایک طرف اقتدار تھا جو چوکھٹ پر سجدہ ریز اس شرط پر ہونے کے واسطے تیار تھا کہ آمر کی چوکھٹ کو سجدہ کر لیا جائے اور دوسری طرف قید و بند اور ریاستی جبر پابہ زنجیر کرنے کے واسطے گھات میں تھا۔

مگر اقتدار کے سنگھاسن سے لطف اندوز ہونے کی بجائے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں کا انتخاب کرنے کے لئے بھی کچھ تھے جو دیوانہ وار تھے۔ یوم دستور منانے پر ان افراد کا تذکرہ مصیبتوں میں گھرے ایام مگر قابل فخر دور کو دہرانے کے واسطے بہترین ہے۔ ملک کے حالات اس وقت عجیب گہرا سکوت لیے ہوئے تھے۔ عوام سیاسی طور پر جہاں تھے وہیں تھے مگر سطوت شاہی کا مقابلہ کرنے کے واسطے کچھ لوگ ’دیکھا جائے گا ہم نہیں ڈرتے ‘کی حکمت عملی پر کاربند تھے۔ لاہور ہائی کورٹ اسی زمانے میں اس مقصد کے لئے اہم ترین مقام بنتا چلا گیا۔ اقبال چیمہ ایڈووکیٹ مرحوم ، وسیم بٹ ، سردار ایوب لودھی ، رانا مشہود ، نصیر بھٹہ اور میاں عبید کے چیمبر لاہور ہائی کورٹ کی بیٹھکوں سے لے کر اپنے دفاتر تک میں جمہوریت کے پروانوں کی نشست گاہوں کا اہم مرکز بنے ہوئے تھے۔

جبکہ راجہ ظفر الحق، چوہدری نثار ، شاہد خاقان عباسی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، چوہدری تنویر، صدیق الفاروق، انجم عقیل خان، ذوالفقار بلتی مرحوم ، سلمان عباسی، راجہ ظریف، صوبیدار نیاز، سجاد ، اسحاق ڈار، سردار ذوالفقار کھوسہ ، خواجہ آصف ، پرویز رشید، زعیم قادری، خواجہ عمران نذیر، طارق محمود گل، میاں مرغوب احمد، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، منشاءبٹ، ڈاکٹر اسد اشرف، ڈاکٹر سعید الٰہی، سعید مہدی، خواجہ حسان، شعیب خان نیازی، اصغر ڈار شہید، رانا فاروق، الیاس خان، خالد آفتاب شیخ، میاں طارق، زکریا سعید، اویس بشیر خان، تارا بٹ، ملک عمران، ملک فیصل اسلام، حافظ رحیم، نوشاد حمید، زریں خان، امجد سیال، طارق وسیر، عمران گورایہ، ناصر اقبال خان، رانا اعجاز حفیظ، رانا ثناءاللہ، چوہدری شیر علی، میاں منان، چوہدری اسد الرحمن، غلام حسین شاہد، قیصر شیخ (جاپان والے) سر انجام خان ، اقبال ظفر جھگڑا ، مہتاب احمد عباسی، صابر شاہ، سلام الدین کھٹک، سردار مشتاق، سردار یعقوب ناصر، ممنون حسین، سلیم ضیائ، امداد چانڈیو، نہال ہاشمی، غوث علی شاہ، مخدوم شاہ نواز مرحوم، شاہ محمد شاہ، علی اکبر گجر، منور رضا، خواجہ طارق، لیاقت آرائیں، ناصر الدین محمود، اسد عثمانی، رفیق رجوانہ ، سعود مجید، رانا محمود الحسن، بلیغ الرحمن، تہمینہ دولتانہ، عشرت اشرف، طاہرہ اورنگزیب، نجمہ حمید، زکیہ شاہ نواز، پرویز ملک، چودھری عبدالغفور،  فرزانہ بٹ اور دیگر ان گنت ایسے تھے کہ اپنا سب کچھ داﺅ پر لگانے پر ادھار کھائے بیٹھے تھے۔ ان میں بہت ساروں سے کبھی ملاقات نہ اس وقت ہوئی نہ اس کے بعد ہوئی۔

اسی بارے میں: ۔  سہاگ رات کسی اجنبی کے ساتھ ہی ہو

لیکن ان کے تذکرے سنتا رہا۔ اگر ان سب کے ساتھ جڑے واقعات ضبط تحریر میں لانا چاہوں تو مضمون کا اختصار اس کی اجازت نہیں دیتا۔ زندگی رہی تو کبھی کتابی صورت میں اس کو مفصل بیان کروں گا۔ مگر دو واقعات ضرور بیان کرنا چاہوں گا۔ مشاہد اللہ خان جمہوریت کی خاطر پہلے اسیر کے طور پر قید و بند سے نبٹتے رہے۔ اس حبس کے دور میں آئین دوستوں کے واسطے نسیم سحر کی مانند ان کی شخصیت تھی۔ مگر نسیم سحر بننے کے لئے ان کو کال کوٹھڑیوں کے اذیت خانوں میں جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ یہ سننے کے واسطے بھی مل رہا تھا کہ تمہارے بچے ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔ تمہیں پہلے اسیر کی حیثیت سے عبرت کی مثال بنا دیا جائے گا۔ مگر وطن عزیز کی گزشتہ تاریخ سے واقف کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ صرف اپنے بچوں کو بچانے کے لئے پوری قوم کی خاطر جدوجہد کو ترک کر دے۔ اسی طرح جب بیگم کلثوم نوازشریف متحرک ہوئیں تو اس وقت ماڈل ٹاﺅن کا رخ کرنا قابل گردن زدنی تھا۔ خواجہ سعد رفیق کسی صورت گردن شکنجے میں دیئے بنا راضی نہیں ہو رہے تھے۔ نتیجتاً قید و بند کی صعوبتوں نے خوش آمدید کہا۔ سیاسی کارکن کے واسطے یہ تمغے ہوتے ہیں ۔ مگر اس وقت خواجہ سعد رفیق کی والدہ شدید علالت کا شکار تھیں اور خواجہ سعد رفیق اپنی طبع کے مطابق بپھرے بیٹھے تھے۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک دن مجھ سے ان دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ میرے علم میں خواجہ سعد رفیق کی والدہ کی بیماری تھی۔ گرفتار میں بھی تھا ۔ خواجہ سعد رفیق کو کسی وجہ سے آمر وقت مجھ تک پہنچنے دینے کے لئے تیار تھا۔ جب خواجہ سعدرفیق میرے پاس آیا تو ماں جی کی بیماری کا تذکرہ ہوا۔ میں نے کہا کہ تم پیرول پر والدہ سے ملاقات کی درخواست کرو۔ خواجہ جھٹ بولا نہیں۔ ان سے کوئی رعایت نہیں مانگوں گا۔ میں اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور اس کے دونوں گالوں کو تھپتھپاتے ہوئے بولا کہ تم اپنی آنکھوں میں وہ طلب جو بچے کی ماں کے واسطے ہوتی ہے چھپا نہیں سکتے۔ خواجہ سعد رفیق کی آنکھیں نمی سے بھر گئیں۔ میں نے کہا کہ اس ضد کو چھوڑو اور پیرول پر اپنی والدہ سے مل لو۔ بس خواجہ سعد رفیق کی اپنی والدہ سے ملاقات تھی اور ان کا دم واپسی۔ بہرحال جمہوریت ان جمہوریت پرستوں کے سبب سے بحال ہو گئی۔ ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ’اچھائی اور برائی کے معرکے میں کوئی غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ خیر و شر کی اس معرکہ آرائی میں محض تماشائی کا کردار ادا کرنے والے بزدل ہوتے ہیں یا غدار‘۔ اور تاریخ شاہد ہے کہ یہ لوگ اس دور میں نہ بزدل تھے نہ غدار۔

اسی بارے میں: ۔  سعودی مطوع، امریکی فوجی عورتیں اور عراقی سکڈ میزائل

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔