خاکوانی صاحب ، قطرہ شبنم اور نوک بیاباں ۔ ۔ ۔ ۔


usman Qazi  مقام شکر ہے کہ خاکوانی صاحب نے ہماری دیرینہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے ’رائٹسٹ‘ کی اصطلاح کے بارے میں اپنے فہم کو واضح کیا۔ ان کے اس موقف کے اعادے سے بھی اطمینان ہوا کہ ان کے “رائٹ ازم” میں تہتر کا آئین پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے لئے کافی ہے۔ خادم یہ عرض کرنے کی اجازت چاہتا ہے کہ تہتر کا آئین ایک خالص سیکولر طریقہ کار، یعنی بالغ رائے دہی کے نتیجے میں تشکیل پانے والی مجلس قانون ساز میں غور و خوض اور بحث و تمحیص کے بعد وجود میں آیا تھا۔ اس آئین کی شقوں پر عمل درامد کے لئے ضمنی قوانین، اصول و ضوابط بھی اسی سیکولر طریقہ کار کے تحت وضع کیے جاتے ہیں، جس میں مثلاً، کسی بھی بزعم خود اسلام کے منتہی فرد کے فہم اسلام کے مقابلے میں اراکین کی اکثریت کے فہم اسلام کو برتری حاصل ہوتی ہے، چونکہ اس اکثریت کے پیچھے ملک کی آبادی کی اکثریت کی اسلامی امنگیں کارفرما فرض کی جاتی ہیں۔ جمہوری طریقے سے وجود میں آنے والے اجماع کی کیسی خوب صورتی ہے کہ محترم خاکوانی اس پر نظر ڈالتے ہیں تو انہیں اس میں “اسلامسٹوں” کی توقعات کا عکس جھلملاتا نظر آتا ہے، اور ہم جیسے کم سواد اسی میں سیکولرازم کا جلوہ دیکھتے ہیں۔ ایک نوے فی صد سے زیادہ مسلم اکثریت کے حامل ملک میں یہ اندیشہ ہاے دور و دراز کچھ وقعت نہیں رکھتے کہ ان کی منتخب کردہ پارلیمان کوئی ایسا قانون بنا ڈالے گی جو اسلام کے صریحاً متضاد ہو گا۔ ایسی سوچ اس ملک کی عظیم اکثریت کے ایمان اور ان کی عاقبت اندیشی کے بارے میں شدید بد گمانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس قسم کی حوصلہ افزا صورت حال میں، ہم جیسے خفقانی “اسلام ازم” کے سایہ گل سے کیوں ڈرتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ سن تہتر کے متفقہ آئین کو پے در پے پامال کیا گیا ہے۔ اس میں عوام الناس کی توجہ، جذباتیت پروری کے آزمودہ ہتھکنڈے کی مدد سے ہٹانے کے لئے، فرد واحد نے ایسی ترامیم کی ہیں جن کا اسلام کی “عدل اجتماعی” کی روح سے واجبی، مگر ظواہر پرستی، فروعیات پسندی اور اذیت پسندانہ جبریت سے گہرا تعلق ہے۔ آج یہ بات کم و بیش سب اہل نظر پر عیاں ہے کہ ان ترمیمات کی تہہ میں فرد واحد کے ناجائز تسلط کو دوام بخشنے کی خواہش ہی کارفرما تھی۔ مگر چونکہ اس زہر ہلاہل پر “اسلام ازم” کا خوش نما لیبل چسپاں ہے، چنانچہ اسے چھیڑنے سے ہر کوئی گھبراتا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ مذکورہ فرد واحد کو “اسلامسٹ” طبقے کی ایک چھوٹی سی جماعت کی (پہلے جلی، بعد میں خفی) حمایت بھی حاصل رہی جب کہ جمیعت علمائے اسلام، جمیعت علمائے پاکستان، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے علاوہ، مسلمانوں ہی کی اکثریت پر مشتمل کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اس کے خلاف جد و جہد میں قربانیاں دیتی رہیں۔ ایسے ہی اندیشوں کے پیش نظر ہم “اسلام” کی جگہ “اسلام ازم” پر غیر ضروری اصرار دیکھتے ہیں تو خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر کسی قسم کی طالع آزمائی کو تقدس کا جامہ پہنانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ ۔ ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں۔ ۔ ۔ ۔

حاصل گزارش یہ کہ محترم خاکوانی صاحب ہوں یا محترم وجاہت مسعود اور ان کے الگ الگ حلقہ بگوشان ہوں، یا ہم جیسے ان دونوں کے بہ یک وقت قتیل، سب کا اجماع جمہوری طرز سیاست پر ہے۔ چونکہ خاکوانی صاحب مکالمے کو پاکستان کی حد تک رکھنے پر مصر ہیں، تو یہ عرض ہے کہ پاکستان میں عوام کے حق حکمرانی پر شب خون مارنے کے لئے زیادہ گہرے وار “اسلام ازم” کے پردے میں ہوئے ہیں۔ جبھی ہم اس دن سے ڈرتے ہیں جب اس اصطلاح کو طالع آزمائی کے خوگر لے اڑیں اور ہم اور خاکوانی صاحب منہ دیکھتے رہ جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ جمہوریت پر جب بھی ڈاکہ مارا جاے گا، عوام کے حقوق کے پاسدار ضرور اس کی مخالفت کریں گے۔ اگر ایسا پچھلی آمریت کی طرح “سب سے پہلے پاکستان” کے نام پر ہوگا تو ہمیں جد و جہد میں بوجوہ آسانی ہوگی۔ ہاں، اگر “اسلام ازم” کا نعرہ استعمال ہوا تو اس سے وابستہ جذباتیت کے سبب فتوی فروشی کا ایک بازار بازار بھی کھل جاے گا اور جد و جہد کا پودا خون ناحق سے آبیاری مانگے گا۔ بہتر ہوگا کہ اس ملک کی تاریخ میں پائے جانے والے “اسلام ازم” سے جڑے جبر و استبداد کے تاثر سے بچنے کے لئے خاکوانی صاحب کے ہم صفیر “رائٹسٹ” کوئی ایسا عنوان اختیار کریں جیسے “اسلامی جمہوریت” تاکہ انہیں داعش ، طالبان وغیرہ کے ساتھ نتھی کیے جانے کی کوفت نہ اٹھانا پڑے، جیسا کہ ہمیں جنرل سیسی، جنرل کنعان ایورن، انور خواجہ وغیرہ جیسے “سیکولرسٹ” جابروں کی صف میں شمار کیے جانے پر ہوتی ہے۔ دیکھئے غالب یاد آ گئے

لرزتا ہے مرا دل زحمت مہر درخشاں پر

میں ہوں وہ قطرہ شبنم جو ہو نوک بیاباں پر


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “خاکوانی صاحب ، قطرہ شبنم اور نوک بیاباں ۔ ۔ ۔ ۔

  • 23-02-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    بھت خوب قاضی صاحب. آج کی تحریر سے مجھے یہ واقفیت ہوئی کہ آپ “اسلام ازم ” کے پردے میں ہونے والی جبر واستبداد کے مارے ہوے ہیں. لگے ھاتھوں اُن ترمیمات کا ذکر بھی ہو جائے جس نے لوگوں کو اب چھاج بھی پھونک پھونک کر پینے پر مجبور کر دیا ہے. دوسرے یہ کہ اگر کچھ لوگ اسلام کے پردے میں ہونے والی اسلام ازم کی چیرہ دستیوں سے خاءیف ہیں تو دوسری طرف سیکولرازم کے نام پر مبینہ “خرافات ” سے الرجک لوگوں کو پہلے گروپ سے جھالت کے طعنے ہی کیوں سننے پڑتے ہیں. ؟ اصطلاحات اور ان کی حقیقی ترویج میں جو تفاوت کا خدشہ ہر دو جانب نظر آتا ہے اس کی موجودگی میں کیا ضروری ہے کہ ایک کا ابطال اور دوسرے کو برحق ہی سمجھا جائے ؟

  • 23-02-2016 at 7:49 pm
    Permalink

    قاضی صاحب جیتے رہیے، خوش رہیے۔ آمین۔

  • 23-02-2016 at 8:46 pm
    Permalink

    محترم عابد صاحب، خادم کو ہرگز علم نہیں کہ کوئی ایک گروہ دوسرے کو جہالت کے طعنے کیوں دیتا ہے. یہ سراسر ذوقی بات ہے کہ کسی کو کیا بات خرافات لگتی ہے . اگر معاشرہ نمائندہ مکالمے کے ذریعے یہ طے کر لے کہ فلاں چیز خرافات ہے تو اس بارے میں قانون سازی ہوتی ہے. مثلا پاکستان میں سر عام برہنگی کے خلاف قانون موجود ہے. یہ مضمون محترم خاکوانی صاحب کے شروع کیے گئے ایک مکالمے میں اس کم ترین کا حصہ تھا. مدیران کرام نے اسے انفرادی مضمون کی شکل میں شایع کرنا مناسب سمجھا. خاکوانی صاحب کے مکالمے کا موضوع سماجی رویوں سے متعلق تھا، سو خادم نے اس میں اپنا حصہ ڈالا. آئین میں کی گئی من مانی ترامیم پر اس موضوع کے ماہرین قرآن و حدیث کی روشنی میں کافی روشنی ڈال چکے ہیں. الحمد لللہ ان میں کئی اجزا کو پارلیمان نے متفقہ طور پر باہر نکال دیا ہے. اگر پاکستانی مسلمانوں کی اجتماعی دانش کے جمہوری طریقے سے اظہار کا سلسلہ جاری رہا تو مزید بہتری ہو گی، انشا اللہ.

  • 24-02-2016 at 10:35 am
    Permalink

    آپ کی اس خوفزدگی میں ہم برابر کے شریک ہیں

  • 24-03-2016 at 8:14 pm
    Permalink

    بہت اعلیٰ قاضی صاحب،،، اسلام کی آڑ میں جبر اور چیر دستی اور اس پر ردعمل کے حوالے سے فیض صاحب کی ایک نظم کے اشعار یاد آجاتے ھیں ،،، کیا فرما گئے کہ،،
    ۱۔
    میرا مسلک بھی نیا راہِ طریقت بھی نئی
    میرے قانوں بھی نئے میری شریعت بھی نئی
    اب فقیہانِ حرم دستِ صنم چومیں گے
    سرو قد مٹی کے بونوں کے قدم چومیں گے
    فرش پر آج درِ صدق و صفا بند ہوا
    عرش پر آج ہر اِک بابِ دعا بند ہوا
    ۲۔
    وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے
    وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے
    گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟
    ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟

Comments are closed.