ہمارے احساسِ گناہ کا شکار مشال


میرا خیال یہ ہے کہ جدید جامعات کا عام نوجوان احساس گناہ کاشکار رہتا ہے۔میوزک، مووی، پورن ،فون پہ افیئرز جیسے’مکروہات‘ سے دل لگی اور دوسری طرف مذہبی تبلیغی یا دعوتی جماعتوں کی باتیں ہاسٹل و جامعہ میں اس کے کانوں پڑتی رہتی ہیں اور ایسی جماعتوں کے پاس اٹھنا بیٹھنا بھی ہوتا ہے جہاں مذکورہ افعال کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔ اپنی ذات کے لئے منتخب کردہ یہ منافقانہ سا ماحول اس کو احساس گناہ میں مبتلا کئے رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ نہیں کرپاتا کہ کس اوڑھ جائے۔ مکمل’تقویٰ‘’ اختیار کرے کہ یہ مولوی کہلانا بھی پسند نہیں کرتا اور مکروہات ِ زمانہ سے پیچھا چھڑانا بھی ممکن نہیں۔ اب جب سے مغرب میں گستاخانہ خاکے شائع ہوئے ہیں، اس جوان کو اپنے احساس گناہ کو برتر احساس نیکی میں بدلنے کا آسان سستا اور سنہری موقع مل گیا ہے۔ جیسے ہی کسی پہ گستاخ ہونے کی انگلی اٹھتی ہے یہ پتھر اٹھا لیتا ہے اور بلا تحقیق و استحقاق کھینچ مارتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں نے حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کا حق ادا کردیا اور میں سرخرو ہوگیا۔ اس سارے عمل میں جرمنی میں حملہ آور ہوئے نوجوان عامر چیمہ نے رول ماڈل کا سا کردار ادا کیا ہے- 2004 یا 2005 میں ہمارے گورنمنٹ پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سرگودھا سے کیریکیچرز کے خلاف احتجاجی جلوس نکلا۔ اساتذہ روکنے کی کوشش کرتے رہے کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آگیا تو والدین کو ہم کیا جواب دیں گے مگر اس عمر میں طلبا خود کو عقل کل سمجھنے کی غلط فہمی کاشکار بھی ہوتے ہیں۔ اس جلوس میں ہم وہ سارے لوگ زیادہ ایکٹو تھے جو عام زندگی میں کچھ زیادہ نیکوکاروں میں شمار نہ ہوتے تھے۔

اسی بارے میں: ۔  یادوں کی بے تھاہ نیلگوں جھیلیں

کالج سے نکلا یہ جلوس سرگودہا شہر کا چکر کاٹ کر خیام چوک پہنچا اور خیام سینما کے شیشے توڑ کر پولیس لاٹھی چارج شروع ہونے پہ شام سے پہلے واپس ہاسٹل پہنچا مگر اس روحانی جلوس کے بعد بھی ہماری عام روٹین میں کوئی تبدیلی نہیں آئی- محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و حرمت یقینا ہمارے لئے اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر کیا اس محبت و حرمت کا یہ تقاضا نہیں کہ ہم قانون کو ہاتھ میں لے کر لوگوں کی زندگیاں چھیننے کے بجائے اپنی زندگی محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کی نہج پہ لائیں۔ پتھر پھینکنے سے پہلے ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ سب سے وزنی جنازہ ہمیشہ جوانوں اور پھول سے بچوں کا ہوتا ہے اور کاندھا بھی دینا سب سے زیادہ مشکل انہی دو جنازوں کو ہوا کرتا ہے۔

اس وزن و مشکل کو مگر وہی سمجھ سکتا ہے جو اس کرب سے گزر چکا ہو۔کسی جوان و بچے پہ پتھر برسانے کے لئے اٹھے ہوئے ہر دست و بازو کو اسی وزن و مشکل کے کرب کو خدارا سمجھنا چاہیے۔ تمہارا اٹھا ہوا ایک پتھر کسی ماں کے کلیجے کو پاش پاش کرتا ہے اور کسی ضعیف باپ کے خوابوں و امیدوں کے شیشے کے گھر کو پل بھر میں ریزہ ریزہ کردیتا ہے۔ مشال خان کے سوشل میڈیا پیج کے غیر تصدیق شدہ مبینہ سکرین شاٹس شیئر کرنے والوں کو اس کے بوڑھے باپ کی گفتگو بھی ایک دفعہ یہ تصور کرتے ہوئے سننی چاہیے کہ ہم بھی کسی بوڑھے باپ کے بیٹے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  خوفزدہ لوگ اور جشن آزادی !

پانچویں اسلام آباد لٹریچر فیسٹیول میں جانا ہوا جہاں ایک نشست میں افتخار عارف، حارث خلیق اور آصف فرخی کی معیت میں اپنی گفتگو اور شاعری سے محفل کو رونق بخش رہے تھے۔ بزرگ شاعر نے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابوذرغفاری ؓپہ لکھی ہوئی اپنی نظم مشال خان کی اندوہ ناک موت کا افسوس کرتے ہوئے سنائی۔ پھر’یہ تماشا کب ختم ہوگا‘ سنائی۔ مشال خان جیسی اموات برپا کرنے والے ہمارے تماشے کب ختم ہوں گے پر تبصرہ ہوااور پھر تیسری ’امت سید لولاک سے خوف آتا ہے‘…..مجھے اگر اختیار ہو تو میں یہ تینوں نظمیں اس مجلس کی طرح مشال خان کے نام معنون کرتا اور ہر قانون کو ہاتھ میں لینے والے شخص سے میری استدعا ہوگی کہ ان نظموں کو اپنے پاس رکھے اور جب کبھی بھی وہ توہین کا الزام لگا کر کسی کی جان کے درپے ہو تو ایک مرتبہ یہ نظمیں ضرورپڑھ لے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔