میرے سب بچے مشال خان ہیں۔۔۔۔


اپنے حق کو حق جان کر جینے والوں کی شان بہت بلند ہے۔ انہی کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر ایک جگہ ڈوب جائیں تو دوسری جگہ چمکنے لگتے ہیں۔ یہی ماجرا اس خورشید کا ہےجسے مردان کی ایک اندھیری شام میں تاریکی نے نگل لیا تو وہ جہاں بھر کے سینوں میں غم کی لو بن کر روشن ہو گیا۔ مشعل خان بے گناہی کا وہ دیا تھا جسے بارشِ سنگ نے توڑا تو ان گنت دل خوف کی دیوار گرا کر سڑکوں گلیوں پر خون رونے اور اس خون سے ظلم کی دھبے دھونے کی امید سے زندہ ہو گئے۔

انہی دلوں میں چند دل میرے بچوں کے سینے میں دھڑکتے ہیں اور میرے انہی بچوں نے کل میرے ساتھ کھڑے ہوکر اس بات کا ثبوت دیا کہ ابھی چند مشعلیں اور بھی روشن ہیں جن کی تب و تاب، جن کی روشنی اب ہتھیلیوں کی اوٹ سے چھپائی نہیں جا سکتی۔

میں وہ دن نہیں بھول سکتی جب میں نے اس بہیمانہ قتل کی ویڈیو دیکھی اور اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں کبھی یہ ویڈیو نہ دیکھتی۔ فیس بک پر ایک دم جب یہ مناظر سامنے آئے تو مجھے لگا جیسے میرے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں اور چند لمحوں کے لیے جیسے میرا ذہن ان مناظر کو دور ہٹانے کا طریقہ ہی بھول گیا ہو۔ وہ رات میں نے جس کرب میں گزاری اس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں۔ وہ مناظر اس قدر ہولناک تھے کہ ساری سوچیں ختم ہو گئی تھیں اور کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ میں کیا کروں۔ بار بار ذہن میں اس دوست کا چہرہ آ جاتا تھا جو اس رات پنجاب یونیورسٹی کے کسی ہاسٹل میں سو رہا تھا اور جس نے شام ہی بتایا تھا کہ یہاں پر بھی حالات بہت خراب ہیں۔ رات گئے میری بے چینی کی یہ حالت تھی کہ میں نے اسے فون کر کے کہا کہ خدارا یہاں ایک لمحہ بھی مزید مت گزارو اور کہیں بھاگ جاؤ۔ تب خوف کا یہ عالم تھا کہ میں اسے کہہ رہی تھی وہ وحشی سب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مار رہے ہیں تم کہیں دور نکل جاؤ۔ اپنے اپارٹمنٹ میں تنہا میں بس یہی سوچ رہی تھی کہ کس طرح اپنے سب پیاروں کو لے کر یہاں سے بھاگ جاؤں۔ نجانے کتنی ہی بار دل میں اس بات کا شکر ادا کیا کہ میرے اپنے بھائی اس ملک میں نہیں ہیں، لہذا محفوظ ہیں۔ میں بے حد مجبور اور خوفزدہ تھی اور اس مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ اس رات میں نے اپنے تمام پیاروں کی خیر کے لیے انہیں لے کر یہاں سے بھاگ جانے کا بار بار سوچا۔

اسی بارے میں: ۔  کیا پنجاب میں موٹرسائیکل سواری ایک جرم ہے ؟

صبح جب میرا الارم بجا تو مجھے ایسا لگا جیسے کوئی ڈنڈوں سے دروازہ پیٹ رہا ہو اور چلا چلا کر مجھے باہر آنے کا کہہ رہا ہو۔ پسینے سے شرابور جب میں بستر سے نکلی تو اپنے آپ کو سلامت پا کر سکون آیا۔ تھوڑی ہی دیر میں میری ٹیکسی کا ہارن بجا تو میں جوں توں کر کے دفتر آ گئی۔ دل خوف کی گرانی سے بوجھل اور زندگی بے معنی محسوس ہو رہی تھی۔ دفتر آئے کچھ ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ میرا ایک اسٹوڈنٹ میرے دفتر کے سامنے سے گزرا۔ اس دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں اور جی میں یہی آیا کہ اسے سینے سے لگا لوں اور کہوں کہ میرے بچے تجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس لمحے سے پناہ مانگنی چائیے جب آپ اور آپ کے پیاروں کے درمیان ناچتے خوف کے سوا
کوئی احساس باقی نہ رہے۔ میں دفتر سے نکلی تو اسی بچے سے نظر ملی اور دیکھا تو اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔ ہم دونوں کو محسوس ہو گیا کہ ہماری آنکھیں ایک ہی درد کے سانجھے آنسو بہا رہی ہیں۔ اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ مجھے اپنے ان بچوں کی طاقت بننا ہے جن کے آنسو میرے ہم زبان ہیں۔ اگر آج یہاں ان بچوں کو خوف کے حوالے کردیا جائے گا تو یہ آنسو اگلی نسل کا ترکہ بن کر رہ جائیں گے۔ مجھے اپنے بچوں کے آنسوؤں نے وہ طاقت بخشی کہ وہیں کھڑے کھڑے ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اس ظالمانہ قتل کا بدلہ اپنی طرح سے لیں گے۔ ہم سب اکھٹے ہوں گے اور ان وحشیوں کو یہ پیغام دیں گے کہ اب ہر مشعل کے گرد پہرہ ہے اور اب کوئی لو شہید نہ کی جائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  'مسئلہ عورت کے خلاف تشدد سے نہیں فلم سے ہے؟‘

میرے بچوں نے میرا ساتھ دیا اور ہم نے فیس بک پر ایک ایونٹ بنایا کہ منگل کی شام اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ہم سب اپنے اپنے حصے کی شمعیں جلائیں گے۔ اپنے تین بچوں کے ہمراہ میں ٹھیک ساڑھے چار بجے وہاں پہنچ گئی۔ کچھ پلے کارڈ لکھے اور چند موم بتیاں روشن کیں۔ فیس بک پر کئی لوگ آنے کو تیار تھے مگر فی الحال کوئی بھی نہ آیا تھا۔ اسی دوران شام کے پانچ ہونے کو آئے تھے اور ہم محض چار لوگ وہاں بیٹھے چیزیں جوڑتے رہے اور ذرا سا ناامیدی بھی کہ ہم کتنے کم ہیں۔ لیکن دل میں یہ اطمینان تھا کہ جتنا بھی کم سہی ظلمت شب کا پردہ اسی سے چاک ہوگا۔ اچانک ہی لوگ وہاں جمع ہونے شروع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پنڈال بھر گیا۔ یہ دیکھ کر ہمارے جذبے بھی جوان ہو گئے اور ہم نے پرامن احتجاج کا آغاز کیا۔ ہم سب نے بتایا کہ ہم اس قتل پر کتنے دکھی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جالب اور فیض کا کلام گایا گیا اور اس امید کی طاقت کہ ” یہ ہاتھ سلامت ہیں جب تک۔۔۔ ”۔ مت پوچھیے۔ میرے بچوں اور میں نے اس امید کو شعروں سے نکل کر دست و بازو بنتے دیکھا۔ وہ ہاتھ جو کسی آندھی کو کسی مشعل پر، کسی مشال خان پر نہ پڑنے دیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔