میں اخبار جمع کر کر کے تھک چکا ہوں


 مجھے صرف کتابیں نہیں، اخبار بھی پڑھنے کرنے کا شوق ہے۔ صرف پڑھنے کا نہیں، جمع کرنے کا بھی۔ گھر میں اتنی کتابیں اور اخبارات جمع ہوگئے ہیں کہ گھر والوں کے رہنے کی جگہ نہیں رہی۔ بیوی سنبھال سنبھال کر عاجز آچکی ہے۔ میں نے سوچا کہ کتابوں کا کوئی اور ٹھکانا ہونا چاہیے اس لیے ایک دوچھتی کرائے پر لے لی ہے۔ آج اخبارات کو ترتیب سے رکھ رہا تھا تو کئی یادگار شمارے سامنے آگئے۔

اتفاق دیکھیں کہ چوبیس سال پہلے آج کی تاریخ کا اخبار مل گیا۔ 19 اپریل 1993 کو صدر غلام اسحاق خان نے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کردی تھی۔ اس سے ایک دن پہلے کا اخبار جانے کہاں ہوگا لیکن مجھے یاد ہے کہ اس کی شہ سرخی میاں نواز شریف کا ایک بیان تھا کہ حکومت کہیں نہیں جانے والی۔

اس واقعے سے ایک ماہ پہلے سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کا انتقال ہوگیا تھا۔ جونیجو صاحب کی حکومت جنرل ضیا الحق نے 29 سال پہلے 29 مئی 1988 کو ختم کی تھی۔ اس سے اگلے دن کا اخبار میرے پاس ہے۔ میں اس وقت نویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن اس وقت بھی مجھے شعور تھا کہ یہ اخبار تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔


بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کی برطرفی، دوسری حکومت کی برطرفی، نواز شریف کی پہلی حکومت کی برطرفی، دوسری حکومت کی برطرفی، غلام اسحاق کی رخصتی، فاروق لغاری کی رخصتی، رفیق تارڑ کی رخصتی، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس سعید الزماں کی متوازی عدالتوں کے ایک ہی دن میں ایک دوسرے کے خلاف فیصلے، ان سب تاریخی واقعات کی سرخیاں، ان کی کہانیاں، ان کی تصویریں میری الماری میں سجی ہوئی ہیں۔

1993 کا ہنگامہ خیز سال کون بھول سکتا ہے۔ اپریل میں صدر غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی توڑی اور نواز شریف کی حکومت کو گھر کا راستہ دکھایا۔ میاں صاحب گھر جانے کے بجائے عدالت پہنچ گئے۔ نسیم حسن شاہ چیف جسٹس پاکستان تھے۔ وہ 1979 میں سپریم کورٹ کے اس سات رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے قتل کے مقدمے میں ذوالفقار علی بھٹو کی اپیل مسترد کی تھی۔ بعد میں انھوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں تسلیم کیا کہ ان کا فیصلہ غلط تھا اور اگر وہ ضمیر کی آواز سنتے تو بھٹو کو پھانسی نہ ہوتی۔

جسٹس نسیم حسن شاہ نے ایک وزیراعظم کے خلاف غلط فیصلے کا کفارہ دوسرے وزیراعظم کے حق میں فیصلہ دے کر ادا کرنا چاہا۔ 1993 میں انھوں نے صدر غلام اسحاق کا اقدام غلط قرار دیا اور 27 مئی کو نواز شریف حکومت کو بحال کردیا۔ گیارہ رکنی بینچ کے صرف ایک جج نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔ اس جج کا نام سجاد علی شاہ تھا۔

بعد میں آئینی ڈیڈلاک کی وجہ سے صدر غلام اسحاق اور وزیراعظم نواز شریف دونوں مستعفی ہوگئے اور نئے انتخابات کے نتیجے میں بینظیر بھٹو دوسری بار وزیراعظم بن گئیں۔ بینظیر سمجھیں کہ جسٹس سجاد علی شاہ جیالے جج ہیں چنانچہ انھیں جسٹس سعد سعود جان پر فوقیت دے کر چیف جسٹس بنادیا۔ دوسرا کام یہ کیا کہ فاروق لغاری کو صدر بنا دیا۔

اپنے صدر نے بھی بینظیر کی حکومت کو برطرف کردیا اور پھر بظاہر اپنے چیف جسٹس نے بینظیر کی اپیل کو مسترد کرکے انھیں حیران کردیا۔ بعد میں صدر لغاری اور جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ تاریخ کا عبرت انگیز باب ہے۔ اخبارات کی شہ سرخیوں میں وہ سب دیکھنا بہت عجیب لگتا ہے۔

میاں نواز شریف کی دوسری حکومت کو کسی صدر نے نہیں، فوجی جرنیلوں نے فارغ کیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد نواز شریف پر کئی مقدمات قائم کیے۔ ایک مقدمہ طیارہ سازش کیس تھا۔ جن دنوں سندھ ہائیکورٹ میں یہ مقدمہ چل رہا تھا، میں روزنامہ ایکسپریس کراچی کی نائٹ ڈیسک کا رکن تھا۔

ایکسپریس کے ایڈیٹر نیر علوی صاحب تھے۔ انھیں صحافت کا چالیس سالہ تجربہ تھا اور وہ متعدد اخبارات میں کام کرچکے تھے۔ ایک دن انھوں نے اپنے کسی ایڈیٹر کا دلچسپ قصہ سنایا کہ جس دن انھیں شراب کے لیے پیسے دیے جاتے تو بہت مزے کی شہ سرخی بنا کر دیتے تھے۔ بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک کے دوران کسی دن پانچ رہنما گرفتار کرلیے گئے۔ علوی صاحب نے ایڈیٹر صاحب سے کہا کہ آج شہ سرخی آپ نکالیں۔ ایڈیٹر صاحب نے کہا، لاؤ ہمارا معاوضہ، ادھے کے پیسے۔ علوی صاحب نے مطلوبہ رقم ان کی ہتھیلی پر رکھ دی۔

ایڈیٹر صاحب نے بوتل منگوائی، جام چڑھایا اور سرخی لکھی، گرفتار گرفتار گرفتار گرفتار گرفتار۔

جس دن نیر علوی صاحب نے یہ قصہ سنایا، اس کے دو دن بعد طیارہ سازش کیس کا فیصلہ آگیا۔ نیوز ایڈیتر طاہر نجمی صاحب نے علوی صاحب سے کہا، آج شہ سرخی آپ نکالیں۔ علوی صاحب کچھ دیر نیوزروم میں کھڑے سوچتے رہے۔ پھر خبر کا پرنٹ لے کر اپنے کمرے میں جا بیٹھے۔ چند منٹ بعد باہر آکر نجمی صاحب کو ایک کاغذ تھمایا اور ہاتھ ہلا کر گھر چلے گئے۔

میں نے ویسی شہ سرخی آج تک کسی اخبار کی نہیں دیکھی۔ اس کی خاص بات یہ تھی کہ وہ گرافیکل ہیڈلائن تھی۔

نواز شریف: سزائے موت √؛ عمر قید X

میاں نواز شریف اس کے بعد جلاوطن کردیے گئے اور وہ 2007 میں واپس آئے۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور نو سال بعد انھیں طیارہ سازش کیس سے بری کردیا گیا۔

اب میاں صاحب کو ایک بار پھر بڑے مقدمے کا سامنا ہے۔ ماضی میں ان کی حکومت گئی تو سپریم کورٹ نے بحال کردیا۔ انھیں سزا سنائی گئی تو سپریم کورٹ نے کالعدم کردیا۔ اب پاناما لیکس کیس میں ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ جیسے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ کیا کل کوئی انقلاب آنے والا ہے؟ کیا اگلے دن کا اخبار تاریخ میں اہمیت حاصل کرے گا؟ میں ایسا نہیں چاہتا کیونکہ ایک تو حکومت کو رخصت کرنے کی غلط روایت قائم ہوگی، دوسرے یہ کہ میں اخبار جمع کر کر کے تھک چکا ہوں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 74 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi