جشن چترال، حرام خواتین اور حلال شراب


اللہ تعالی نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے اور دین اسلام اس آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔ حدود و قیود اپنی جگہ، مگر کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالے۔ کسی کو یہ حق کیسے ملا کہ وہ میری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کے بارے میں فیصلہ کرے کہ اسے کہاں جانا ہے، کہاں نہیں جانا، کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، کیا پہننا ہے کیا نہیں پہننا، کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا؟ فرض کرلیں کہ میں کسی ایسے بندے کی بات مان بھی لوں کہ میرے گھر کی خواتین کے لئے زندگی گزارنے کا لائحہ عمل وہ طے کرے مگر اپنے فیصلے کے بعد گھر جا کر اپنی ماں اور بیوی کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ اگر انہوں نے پوچھا کہ ہمارے فیصلے اگر غیر اور نامحرم مرد ہی کو کرنا ہے تو آپ کی ماں ، بیوی اور بیٹی ہونے کا طعنہ ہم کیوں سہہ لیں؟ جتنا سوچو، اتنا ہی اپنے آپ سے گھن آنے لگتی ہے۔

چترال ایک مہذب ترین علاقہ ہے یہاں خواتین کی بہت زیادہ عزت کی جاتی ہے۔ والدین بیٹا اور بیٹی میں کوئی تفرقہ رکھے بغیر دونوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں پڑھاتے ہیں۔ ان کے مستقبل کے لئے ہر ستم سہہ جاتے ہیں۔ ہر شعبہ زندگی میں ہماری بہنوں اور بیٹیوں نے اپنے آپ کو منوایا ہے۔ وہ عزت اور وقار کے ساتھ ہر فیلڈ میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ہمیں ان کی کامیابیوں اور ان کے کردارپر فخر ہے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چترال کی بیٹیوں کی وجہ سے ہمارا سر شرم سے جھک گیا ہو۔ مستقبل میں بھی چترالی بیٹیوں پر اعتماد اور بھروسہ ہے کہ وہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھتے رہیں گے وہ جدید دنیا کا جدید تقاضوں کے مطابق مقابلہ کریں گے۔ جدید علم سے روشناس ہو کر اپنے بچوں کی بہترین تربیت کررہے ہیں اور کریں گے۔ ایک غیر متعلقہ شخص کا انٹرنیشنل میڈیا میں یہ بیان کہ خواتین کی وجہ سے فحاشی اور عریانی میں اضافہ ہورہا ہے، اس لئے ہم انہیں کسی تہوارمیں شرکت کرنے نہیں دیں گے۔ یہ ہمارے مہذب ترین معاشرے کی توہین ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مردم شماری کا ناقص طریقہ کار

میری دو بیٹیاں ہیں۔ میں ان کو پوری دنیا پوری نزاکتوں اور محبتوں کے ساتھ دکھانا چاہتا ہوں۔ اس کے لئے مجھے کسی غیر متعلقہ شخص سے اجازت لینا پڑے گی؟ میں اپنی بیٹیوں کو آکسفورڈ میں پڑھانا چاہتا ہوں، اس کے لئے کس سے پوچھنا پڑے گا؟

میرے محترم!، میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ قہقہے لگانا چاہتا ہوں، آپ کی کیا رائے ہے، قہقہہ لگاؤں یا نہیں؟ میں اپنی بوڑھی ماں کے گود میں سر رکھ کر دنیا و مافیا سے کہیں دور چند لمحے گزارنا چاہتا ہوں، یہ آپ کے خیال میں کس زمرے میں آئے گا؟ میری بیوی، جس دن مجھے گھر جانا ہوتا ہے، کم از کم 40 دفعہ فون کرتی ہے کہ کب آرہے ہو، کدھر تک آئے ہو، کتنی دیر لگے گی، فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا، اماں کی دوائی لے لی ہے؟ بابا کے لئے پھل لے کے آنا، میرے محترم! کہیں یہ سب کچھ بھی ناجائز تو نہیں ہے؟ ویسے آپ ہوتے کون ہیں میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟

پاکستان کے آئین میں خواتین کو بھی انسان ہی کا درجہ دیا گیا ہے، آئین کے مطالعے کے بعد کہیں یہ نظر نہیں آیا کہ لاہور، اسلام آباد یا چترال کے کسی کونے سے کوئی بھی فرد اٹھ کر خواتین سمیت کسی کو بھی انسانیت کے دائرے سے خارج کر سکتا ہے، باقی معاشرہ صرف تماشا دیکھے گا۔ معاشرے میں رہنے والے افراد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس مداخلت کار فرد کے خلاف آواز اٹھائیں؟ کیا معاشرے ایسے ہوتے ہیں؟ کیا انسانوں کے رہنے کے قابل معاشرے ایسے تشکیل دیے جاتے ہیں۔

جشن قاق لشٹ کے نام سے چترال میں جو سالانہ تہوار منعقد کیا جاتا ہے اس میں سینکڑوں قسم کے کھیل کھیلے جاتے ہیں، لوگ وہاں پر پولو، رسہ کشی، بزکشی، نشانہ بازی، کرکٹ، فٹ بال اور والی بال وغیرہ دیکھنے جاتے ہیں، لڑکے نیکر پہن کر جب فٹ بال کھیل رہے ہوتے ہیں تو ہم ان کے نیکر کا سائز نہیں ناپتے، مگر 100 گز دور بیٹھے ہوئے کسی خاتون کا کرتا ہوا سے تھوڑا سا ادھر ادھر ہوجائے تو  ہمیں اس کی ٹائٹ جینز نظر آتی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ عریانی کہاں ہے؟ ہمارے ذہن میں یا اس خاتون کے ٹائٹ جینز میں؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم 100 گز دور بیٹھی خواتین کے کپڑوں کا سائز ناپنے کی بجائے دس فٹ کے فاصلے پر موجود کھلاڑیوں پر توجہ مرکوز کرتے، کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم خواتین کے پاجاموں کا سائز ناپنے کی بجائے پولو کا مزہ لیتے۔

اسی بارے میں: ۔  گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ نہیں ہے

چونکہ ہم قاق لشٹ کے مقام پر اس جستجو میں لگے ہوتے ہیں کہ خواتین کے کپڑوں کا سائز اس سال کیا رہا، گلابی رنگ کے کتنے پاجامے ہیں، سفید رنگ کے کتنے کرتے، کس کس خاتون نے لپ اسٹک لگایا ہے، کس نے اونچی ہیل کے سینڈل پہنے ہیں؟ کس خاتون کے ہاتھ میں موبائل ہے؟ کہیں کوئی عریانی یا فحاشی کا عنصر رونما نہ ہوجائے۔ اس لئے ٹنوں کے حساب سے شراب جو پی جاتی ہے وہ ہمیں نظر نہیں آتی۔ منوں کے حساب سے چرس بکتی ہے وہ بھی ہمیں قبول ہے۔ کہیں ہماری سمت غلط تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں حلال پاجاموں کو چھوڑ کر حرام شراب و چرس کی فکر کرنی چاہئے۔ اس سے واقعی ہماری نئی نسل تباہ ہو رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔