سونو نگم کے مکان تک تو اذان کی آواز جاتی ہی نہیں


 انڈین فلم انڈسٹری کے مشہور گلوکار سونو نگم نے ٹوئٹر پر جب یہ کہا کہ اذان کی آواز سے ان کی نیند خراب ہو جاتی ہے تو سوشل میڈیا پر ہنگامہ ہوگیا۔ ان کے الفاظ کے انتخاب پر تنقید بھی ہوئی لیکن بہت سے لوگوں نے ان کے بنیادی پیغام سے اتفاق بھی کیا۔ پھر سونو نگم نے وضاحت کی کہ وہ صرف مساجد میں نہیں کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سونو نگم کے گھر اذان کی آواز پہنچتی ہے اور اگر ہاں تو کیا واقعی اس سے کسی کی نیند خراب ہو سکتی ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں آج اذان کے وقت سے پہلے ہی ممبئی میں سونو نگم کے گھر کے قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔ وہ ورسووا میں رہتے ہیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ عام طور پر انتہائی مصروف رہنے والی ممبئی کی سڑکیں خالی پڑی تھیں لیکن اس خاموشی میں بھی سونو نگم کے دو منزلہ مکان کے باہر صحافی پورے ساز و سامان کے ساتھ موجود تھے۔ گھر کی تمام لائٹیں بند تھیں اور باہر سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پولیس کی ایک گاڑی بھی موجود تھی۔

میری طرح باقی دوسرے صحافی بھی اذان کی آواز کا انتظار کرتے رہے لیکن رات کی خاموشی نہیں ٹوٹی۔ ممبئی میں فجر کی اذان پانچ بج کر چار منٹ پر ہوتی ہے لیکن میں آدھا گھنٹا اور بیٹھی رہی۔ آہستہ آہستہ باقی صحافی وہاں سے چلے گئے۔ دن نکلنے لگا تو میں نے بھی اپنا سامان سمیٹا، تب تک ٹریفک کے شور کے سوا میں نے کوئی دوسری آواز نہیں سنی تھی۔

مقامی لوگوں سے معلوم ہوا کہ اس علاقے میں تین مساجد ہیں اور تینوں سے سونو نگم کے گھر سے تقریباً 600 میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ سونو نگم کے گھر کی بائیں جانب تقریباً آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر مدرسہ تعلیم القرآن ہے جہاں فجر کی اذان پانچ بج کر بیس منٹ پر ہوئی۔

مسجد کے ایک منتظم نے بتایا ‘سونو نگم دو چار سال پہلے ہی یہاں رہنے آئے ہیں اور یہ مدرسہ 30 سے 35 پینتیس سال سے قائم ہے۔اب سے پہلے کبھی کسی نے اذان کی آواز کے بارے میں شکایت نہیں کی، سونو نگم جہاں رہتے ہیں وہاں ہمارے مدرسے کی اذان کی آواز جاتی بھی نہیں ہے، یہ صرف ایک پبلسٹی سٹنٹ ہے۔’

سونو نگم کے گھر کی دائیں جانب بھی دو مدرسے ہیں۔ ان میں سے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وہاں لاؤڈ سپیکر استعمال نہیں کیا جاتا جبکہ دوسرے نے کہا کہ ان کے یہاں اذان آج سوا پانچ بجے ہوئی تھی۔ اس مدرسے میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جنھوں نے اپنا نام غلام بتایا۔ انھوں نے کہا ‘سونو نگم پہلے رات بھر جاگرن (ہندو مذہبی تقریب) میں گانا گایا کرتے تھے، وہ بھول گئے ہیں کہ اس وقت کتنے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہوگی۔ اب نئے گائیک آ گئے ہیں اور انھیں کام نہیں ملتا۔’

میں نے سونو نگم کے بنگلے کا رخ کیا۔ وہاں قریب ہی ایک عمارت میں لتا سچدیو رہتی ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ انھیں پورے دن میں کبھی کسی اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ قریب ہی رہنے والی کرن واسن کا کہنا تھا کہ انھیں اذان کی آواز کبھی کبھی دوپہر کو سنائی دیتی ہے لیکن فجر کے وقت انھوں نے اذان کی آواز کبھی نہیں سنی۔ خود سونو نگم نے ٹویٹر پر وضاحت کی ہے کہ ان کا مقصد کسی کے بھی جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔

)سپریا سوگلے(


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 573 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp