مشعل خان، تم زندہ ہو


فائزہ منیر نےایک سادہ سی نظم لکھی ہے۔ اور  محبت  کے رنگوں سے ایک خاکہ بنایا ہے۔۔۔۔  ظلم کے خلاف انسان  بس یہی جگنو، تتلیاں پیش کر سکتے ہیں۔۔۔

مشعل خان، تم  زندہ ہو

ہم مردہ ہیں

تم جیت کی پہلی کرن کے جیسے

روشن ہو

ہم پژمردہ،  افسردہ ہیں۔۔۔

 اور  مردہ ہیں

حیوان کی مانند زندہ ہیں

تم زندہ ہو، ہم مردہ ہیں

زندہ کی پہچان یہی ہے

تم نے جو  مشعل روشن کی

اس سے سارے اندھے چہرے

ہر   پہلو سے ظاہر ہیں

ہر نکڑ  کے کچرا گھر کی زینت ہیں

نفرت کے بارود کے ذرے

راکھ کی مانند کوچہ کوچہ بکھرے ہیں

روشن روپ کے کالے درشن

سب آنکھوں نے دیکھ لئے ہیں

منزل اب آسان ہوئی ہے

دشمن کی پہچان ہوئی ہے

کٹھ پتلی کی ڈور  کا  پھندا

پتھر دل کے اندھیارے تک

پہنچ چکا ہے

مشعل خان، تم  زندہ ہو

جاوید رہو گے


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔