غازی علم الدین بنتے ہو؟ پہلے طہارت تو کر آؤ


  میری اماں عجب عاشق رسولﷺ تھیں. خود اپنے عشق میں بڑی حجتی تھیں مگر مجال ہے کوئی نوجوان ان کے سامنے دین پر بحث کرتا. فوراً کہتیں …. طہارت کرتے ہو؟ جاؤ پہلے طہارت ٹھیک سے کر آؤ پھر اللہ رسولﷺ کے بارے میں بات کرو. پھر غصے سے بڑبڑاتیں کہ …. ہے ڈھنگ طہارت کرنے کا بھی نہیں انہیں اور چلے ہیں اللہ رسولﷺ پر بات کرنے…..

لفظ طہارت تو میں نے حدِ ادب میں لکھ دیا ہے، وہ تو ٹھیٹھ سندھی میں اعضا کے نام لے کر کہتی تھیں کہ پہلے جا کر دھو کے آؤ … پھر بات کرو ……

ذکر آج کل بہت ہے غازی علم الدین کا. بہت سے نوجوان اس شوق کے اضطراب میں مبتلا ہیں.

مگر کچھ پتہ بھی ہے بیٹا جی! عشقِ رسولﷺ کیا ہے! کس کس طرح نہ انسان کے وجود اور روح کے نکالتا ہے کس بل اور کس طرح بندہ اس دعویِٰ عشقِ رسولﷺ کے خیال سے ہی پسینے میں شرابور ہو کر پوری جان سے لرز کر رہ جاتا ہے کہ پتہ نہیں میں اس قابل ہوں بھی کہ نہیں! اپنے آپ کو ٹٹولتا ہے تو اپنے ہی ہاتھ اپنی ہی کیچڑ میں لت پت ہوئے جاتے ہیں کہ اُف… اتنا گندہ ہوں میں! اتنی بوُ ہے مجھ میں میری میں کی! کس منہ سے دعویٰ کروں اس پیغمبرﷺ کے حضور اپنے عشق کا جو کہہ چکا کہ خدا کی قسم سب اپنے اعمال سے چھٹکارہ پائیں گے، چاہے وہ فاطمہ بنت رسول اللہﷺ ہی کیوں نہ ہوں!

بیٹا جی عشق رسولﷺ میں مبتلا صحابہ بھی جب حقیقت میں آپﷺ کے روبرو بیٹھتے تھے تو گھنٹوں گردنیں سینوں تک ڈھلکی رہتی تھیں. پرندے سروں پر بیٹ چھوڑ جاتے پر وجود جنبش نہ کر پاتا تھا.

بڑی بڑی ہستیاں اس عشق کی تمنا میں اپنے نفس اور نیتوں کو رگڑ رگڑ کر ریزہ ریزہ ہو گئیں، تم کیا شے ہو!

مشال خان کی وڈیو میں مشال خان کی زخمی لاش پر بھاری پشاوری چپلوں میں تمہارے ٹھڈوں کی برسات دیکھ کر میں سوچتی رہی کہ یہ ہے تمہارا عشقِ رسولﷺ اور عشقِ الہٰی؟

مشال خان کی جوان لاش پر تمہاری ٹھوکریں اور ٹھڈے دیکھ کر اور تمہارے فلک شگاف تکبیری نعرے سن کر پہلی بار مجھے قران کی ان آیات کا مطلب سمجھ میں آیا کہ …. اچھا تمہارا اور میرا رب تم جیسوں کے لیے فرماتا ہے کہ ……

 اور زمین پر اِترا کرمت چلو.کوئی اِترا کر چلنے والا، فخر کرنے والا اﷲ کو پسند نہیں ہے.اور درمیانی چال چلو (نہ بہت ہی آہستہ اور نہ بلا ضرورت دوڑ کر) اور بات چیت میں اپنی آواز پست رکھو بے شک سب آوازوں میں بُری آواز گدھے کی آواز ہے۔(پ21،لقمان:18)

توُ زمین پر اترا کرمت چل. بے شک توُ ہر گز نہ تو زمین کو چیر ڈالے گا اور نہ تو بلندی میں پہاڑوں کو پہنچے گا۔ (پ15،بنی اسرائیل:37)

رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں۔( پ19،الفرقان:63)

بیٹا جی …. عاشقانِ رسولﷺ تو خوفِ خدا سے زمین پر پیر رکھتے ہوئے لرز لرز جاتے ہیں کہ کہیں کوئی کیڑا مکوڑا نہ پیروں تلے کچلا جائے. تم نے ایک گبھرو اور سوچ سمجھ رکھنے والا قیمتی جوان انسان نعرہِ تکبیر لگا لگا کے پیروں میں کچل دیا! تمہاری زبانوں سے اللہ کا نام اس وقت ادا کیسے ہوا؟ خوف خدا نے لمحہ بھر کے لیے بھی تمہاری سانس نہیں مٹھی میں لی؟ اگر اس وقت خوفِ خدا نے تمہارے سینوں پر لمحہ بھر کی دستک بھی نہ دی تھی اور ٹھوکریں مارتے تمہارے قدم زرا بھی نہیں ڈگمگائے تو یقین کر لو کہ تم وہ ہو جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے. ورنہ جب رب کہتا ہے کہ میں تمہاری نیتوں کو تم سے زیادہ جانتا ہوں تو بندہ تو اپنی نیکیوں پر بھی شرمسار ہو جاتا ہے کہ پتہ نہیں یہ میری نیکی تھی یا میرا مفاد!

یہ بلاسفیمی نہیں ہے کیا کہ خواہشِ حور و بہشت کو نام دیتے ہو عشقِ الہٰی اور عشقِ رسولﷺ کا!

غازی علم الدین کی مثالیں دیتے پھرتے ہو. پہلے طہارت کر کے آؤ. منہ دھو. پھر اس کی بات کرو.

جانتے بھی ہو کہ 1928 کا زمانہ کیا تھا. جس زمانے میں غازی علم الدین کا نام ملتا ہے.

 1857 کی بغاوت کے بعد انگریز سرکار کی ٹھوکروں میں پڑے تھے مسلمان، جیسے تمہاری ٹھوکروں میں پڑا تھا مشال خان. برطانوی سامراج کے سامنے لرزاں تھا پورا ہندوستان. کیا ہندو، کیا سکھ، کیامسلمان! برطانوی تخت و تاج کے خلاف آواز اٹھانا اسی طرح جرم تھا جیسے آج تم ولی خان یونیورسٹی میں اپنے جرم پر زباں بندی کا حکم نافذ کر رہے ہو. ہندوستان کے مسلمانوں کی حالتِ زار اور برطانوی سامراج کے جبر کا یہاں کیا ذکر کرنا. اتنا تو تم بھی جانتے ہو مگر جو بات کہنی ہے، وہ یہ کہ جبر اور ذلّت کے اُس الاؤ میں بیٹھے مسلمانوں کا بچا کھچا اعتماد اور فخر جو صرف نبی کریمﷺ کی نسبت سے تھا، کو کمزور کرنے کے لیے سازش کے تحت لاہور کے ایک پبلشر راج پال نے گستاخانہ کتاب شائع کی۔ جس سے مسلمانوں میں سخت اضطراب پھیل گیا. مگر انہوں نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا. ہندوؤں کے ساتھ بلوہ نہیں کھیلا.

مسلمان رہنماؤں نے انگریز سرکار سے کتاب پر پابندی عائد کرنے اور ناشر کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ مجسٹریٹ نے راج پال کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف راج پال نے ہائی کورٹ میں اپیل کی جہاں جسٹس دلیپ سنگھ نے اس کو رہا کردیا۔ اس فیصلے نے مسلمانوں کی مایوسی اور احساسِ کمتری کو اور بھی شدید کر دیا.

مایوس ہو کر مسلمانوں نے جلسے جلوس کیئے مگر حکومت نے دفعہ 144 نافذ کرکے مسلمان رہنماؤں کو گرفتار کرنا شروع کردیا۔ مسلمانوں میں یہ احساس پختگی اختیار کر گیا کہ حکومت راج پال کو بچانا چاہتی ہے اور مسلمانوں کو اجتماعی طور پر دیوار سے لگانا چاہتی ہے. راج پال پر اس دوران ایک ناکام قاتلانہ حملہ بھی ہوا. کچھ عرصہ وہ مفرور بھی رہا. ناکام قاتلانہ حملے کے بعد حکومت نے اس کے تحفظ کے لیے سرکاری گارڈز بھی فراہم کر دیے. راج پال گویا سامراج اور مسلمان دشمن قوّتوں کی بچھائی ہوئی بساط پر رکھا ایک ایسا مہرہ تھا جس سے چال چلی جا رہی تھی مسلمانوں کے اجتماعی اعتماد اور انا کو کچلنے کی کہ دیکھو تمہارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا سرخرو ہے اور تم زلیل و خوار. 29 اپریل 1929 کو کوہاٹ کے بنوں بازار میں اپنے ابا کی فرنیچر کی دکان پر بیٹھا 21 سالہ علم الدین پتہ نہیں کب سے سامراجی پرچم تلے مسلمانوں کی بے بسی دیکھ دیکھ کر سُلگ رہا تھا. دیکھ چکا تھا کہ تاجِ برطانیہ کے خلاف تو لفظ بھی بولنے کی اجازت نہیں ہے. جو بھی بولا، جس نے بھی اس تاج کے سامنے گردن اٹھائی وہ گولیوں سے بھون دیا گیا. گردنوں سے لٹکا دیا گیا. اور نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی پوری آزادی بھی ہے اور اسے تحفظ بھی ہے! لعنت ہے ایسی اظہارِ رائے کی آزادی پر!

زرا تصوّر تو کرو بیٹا جی، زرا تاریخ کے اوراق پر ایک نظر ڈال کر تاجِ برطانیہ کے جاہ و جلال کا منظر نامہ تو دیکھو اور اس جاہ و جلال کے الاؤ میں کوہاٹ کے بنوں بازار میں فرنیچر کی دکان پر لکڑی کا حساب کرتے 21 سالہ علم الدین کا خاموشی کے ساتھ اٹھ کر راج پال کے سامنے آ کھڑے ہونا دیکھو اور پرسکون آواز میں یہ کہنا سنو کہ …. راج پال تم اپنے کیے کی معافی مانگ لو اور اپنی گستاخانہ کتاب کو تلف کردو اور آئندہ کے لئے ان حرکات سے باز آ جاؤ….

اس نے حملہ نہیں کیا. راج پال کو موقع دیا، معافی کا. ازالے کا. صلح کا. مگر راج پال سامراج کی نوازشوں کے نشے میں چوُر تھا. سوچا ہوگا کہ لاکھوں مسلمان میرا کیا بگاڑ سکے! یہ معمولی سا، دبلا پتلا، باریک سی مونچھوں والا لڑکا میرا کیا بگاڑ لے گا. مجھ پر تو تاج برطانیہ کا سایہ ہے جو سدا سلامت رہے گا. جس کا سورج کبھی بھی غروب نہ ہوگا. علم الدین کی طرف دیکھ کر حقارت سے ہنسا بھی ہوگا اور کچھ کہا بھی ہوگا. قانون جو مسلمانوں کے حق کے لیے نہیں تھا، علم الدین نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گورے صاحب کی طرف سے رائج اظہارِ رائے کی غیر منصفانہ اور متعصبانہ آزادی کے خلاف احتجاج میں راج پال کو ایک ہی وار میں ختم کر دیا. مر چکے راج پال پر اس نے مسلمانوں کا ہجوم بلا کر بلوے کی دعوتِ عام نہیں دی کہ مسلمانو آؤ …. آؤ ….. میں نے راج پال مار گرایا ہے اور اب تم اس مردے پر ٹوٹ پڑو.

اس نے اپنے عمل کو اپنا ذاتی عمل قرار دیتے ہوئے فرار ہونے کے بجائے بڑے سکون کے ساتھ خود کو اسی سامراجی قانون کے حوالے کر دیا.

اسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لوئس کی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے اسے صفائی کا موقع دیئے بغیر مقدمہ سیشن کورٹ کو منتقل کردیا، جہاں نیپ نامی انگریز جج نے ٹھیک 23 دن بعد اسے سزائے موت کا حکم سنا دیا۔ علم الدین کی وکالت میں محمد علی جناح نے یہ مقدمہ لڑا۔ جناح صاحب ہمارے آجکل کے وکیلوں کی طرح چھلانگیں مارتے ہوئے وکیل نہیں تھے. یہ مقدمہ مسلمانوں کی بقا کا مقدمہ تھا. شاید اسی طرح کے تجربات جناح صاحب کو دو قومی نظریے کے قریب لے آئے تھے. جناح صاحب جیسے وکیل کو معلوم ہوگا کہ وہ یہ مقدمہ سامراجی عدالتوں سے جیت نہیں سکیں گے مگر اہمیت جیت کی نہیں تھی. اہمیت مقدمہ لڑنے کی تھی. اسی سال 15 جولائی کو ہائی کورٹ نے بھی سیشن کورٹ کی سزا کو بحال رکھتے ہوئے علم الدین کی اپیل خارج کردی۔ مسلمانوں نے لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کی، جس کا ڈرافٹ محمد علی جناح کی نگرانی میں تیار کیا گیا۔ مگر انگریز حکومت نے اس اپیل کو بھی مسترد کر دیا.

اسی سال 31 اکتوبر 1929 کو میانوالی جیل میں سزا پر عمل درآمد کرتے ہوئے علم الدین کو تختہِ دار پر لٹکا دیا گیا. انگریز حکومت نے چھ مہینے کے اندر اندر بڑی مستعدی کے ساتھ اس کہانی کو اپنی مرضی کے انجام پر پہنچا دیا، اور اس کی لاش کو کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا.

جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا۔ علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان سمیت مسلمان رہمناؤں نے گورنر پنجاب سے علم الدین کی لاش کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔ گورنر کی طرف سے شرط عائد کی گئی کہ اگر یہ لوگ پرامن تدفین کی یقین دہانی کرائیں تو علم الدین کا جسد خاکی مسلمانوں کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں نے پرامن تدفین کا وعدہ کیا اور محکمہ ریلوے نے 15 نومبر 1929ء کو لاہور چھاؤنی میں علم الدین کی لاش علامہ اقبال اور سر محمد شفیع کے حوالے کی.

لاہور میں لاکھوں مسلمانوں نے پرامن طریقے سے اس کی جنازہ نماز ادا کی. مولانا دیدار شاہ اور علامہ اقبال نے اسے اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ جس پر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا کہ کاش مجھے یہ مقام نصیب ہوتا. علامہ اقبال جو بلا مبالغہ عاشقِ رسولﷺ تھے اور مسلمانوں کے زوال سے ایک نئے عروج کے طلوع کے راستے تلاش کر رہے تھے، کہا کہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا اور ہم باتیں کرتے رہ گئے.

کہتے ہیں اس 21 سالہ نوجوان نے آخری الفاظ میں کوئی بڑا جذباتی بیان نہیں دیا. دعویِٰ عشق نہیں کیا. نعرہ نہیں لگایا. یہ نہیں کہا کہ میرے استقبال کے لیے رحمت للعالمین ﷺ میرے منتظر ہوں گے. اسے حدِ ادب معلوم تھا شاید کہ کس مقام پر فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں اور کس کے حضور فرشتے بھی پر سمیٹ لیتے ہیں اور آواز دھیمی کر دیتے ہیں. بس اتنا کہا کہ میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے آپ لوگ بخشے نہیں جائیں گے. ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا.

علم الدین میانی صاحب قبرستان میں ابدی نیند سو رہا ہے. قریب ہی اس کے ماں باپ بھی سو رہے ہیں.

برطانوی راج کے کبھی نہ غروب ہونے والے سورج کے سائے سمٹتے سمٹتے اس زرا سے دائرے تک محدود ہوتے چلے گئے، جہاں سے وہ طلوع ہوا تھا.

رسول اللہﷺ کی شانِ اعلی میں تب بھی کوئی فرق نہ آیا تھا اور نہ کبھی آئے گا. جس شان کی سلامتی کا وعدہ اللہ نے کیا ہو، اس شان کو بلند رکھنے کے لیے بھگوڑے اور بنا طہارت کیے جنونی ہجومِ کی ضرورت نہیں ہے بیٹا جی.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 35 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah