نوازشریف کو ضرورت پڑی تب بھی ان کے کام نہیں آؤں گا، آصف زرداری


انٹرویو دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں پاناما کیس کے فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار ہے، نوازشریف کو کسی فیصلے کو ماننے کی عادت نہیں اس لیے معلوم نہیں کہ وزیراعظم پاناما کیس فیصلے کے بعد کیا کریں گے تاہم پاناما فیصلے پر احتجاج جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا جب کہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف آیا تو مان لینا بہتر ہوگا کیونک ان کے پاس بہت لوگ ہیں جن میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ شہنشاہ بن کر پارلیمنٹ چلا رہے ہیں جب کہ حکومت کے خاتمے تک پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ 2014 میں حکومت کوسیاسی شہید نہیں ہونے دیا لیکن اب نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہی ہوگی جب کہ حکومت بھی قبل ازوقت الیکشن پرجاسکتی ہے اور ہم بھی جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت زیادہ بددیانتی کی اور اب نوازشریف کو ضرورت بھی پڑی توفون نہیں اٹھاؤں گا جب کہ وفاق اورصوبے کی لڑائی ہے جو بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتی ہے لیکن وفاق تنازعات کو سیاسی معاملہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز حکومت سستا تیل ملنے کے باوجود بجلی سستی نہیں کررہی، اب توکسان کے پاس پانی ہے نہ بجلی، حکمران روڈ بنواسکتے ہیں اور کمیشن لے سکتے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے جب کہ میں نوازشریف سے بہتر مینجمنٹ کرسکتا ہوں۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میرے ساتھیوں کوکیوں اٹھایا اور ان کے ساتھ کیا جارہا ہے یہ تواٹھانے والے جانیں جب کہ میرے ساتھیوں کوجواٹھارہے ہیں ان سے نہیں لڑوں گا اور نہ کسی قسم کے دباؤ میں آوں گا، جیل میں قید تنہائی میں تھا تب دباؤ میں نہ آیا تواب کیا آوں گا۔ انہوں نے کہا کہ حسین حقانی کو غدار سمجھتا ہوں اور اگر ہماری حکومت آئی توحسین حقانی کو کوئی نہ کوئی سزادیں گے کیوں کہ جس نے دھرتی سے وفا نہیں کی وہ اپنی ماں سے بغاوت کرتا ہے اور ایسا شخص کچھ بھی کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے اپنے سامنے مشرف کونکالنے اور اداروں کو بنانے کا مقصد رکھا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں