انصاف عوام نہیں کرتے مولانا صاحب!


مولانا فضل الرحمن زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھتے ہیں یا شاید ہمیشہ انہوں نے وہی کیا جو عوام کی خواہش تھی۔ کل فرمایا کہ مشال خان جس معاملے میں قتل ہوا ہے، اگر حکومت ایسے مقدمات کا جلد فیصلہ کرے تو یہ سب کبھی نہ ہوتا۔ انگریزی میں اس رویے کو اپالوجسٹ لوگوں سے جوڑا جاتا ہے۔ یعنی کوئی تنازع جس میں صاف ستھری بات کرنے کی گنجائش موجود ہو، اس میں آپ ادھر ادھر کی کہانی کریں، حکومت کو رگڑا لگائیں، دو چپتیں تعلیمی اداروں کو ماریں، ایک آدھ جگت عدالتی نظام پر رکھیں اور ہاتھ جھاڑ کر ایک سائیڈ پکڑ لیں۔

دو باتیں مشال کیس میں بار بار کہی گئیں، ایک تو یہ کہ جو کچھ بھی ہوا، یونیورسٹی میں ہوا، یہ کوئی مدرسہ نہیں تھا جو مولویوں کو الزام دیا جائے۔ دوسری بات وہی تھی جو مولانا نے فرمایا، قتل والی شام سے آج تک کئی بھائی یہی بات بارہا کر چکے ہیں۔ یہ سمجھے بغیر کہ اس بات کا مطلب کیا نکلتا ہے، بس دن رات یہی بات چل رہی ہے کہ حکومت ایسے مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کرتی ہے تو عوام قانون ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ کہ نہ وہ لوگ عوام تھے، اور نہ یہ معاملہ ابھی کہیں سے بھی قانونی ہوا تھا، یہ انصاف یونیورسٹی والوں کی لوکل پیداوار تھا! مشال کو مارنے والے جس بھی سٹوڈنٹ یونین سے تھے، بہرحال عوام کا لفظ ان کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا۔ عوام وہ ہے جو سبزی والا ہے، جسے شام تک ریڑھی پر موجود سبزی بیچ کر ختم کرنی ہے۔ عوام وہ ماں ہے جو بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے گھروں میں برتن اور کپڑے دھوتی ہے۔ عوام وہ ڈرائیور ہے جو پہاڑوں سے اتر کے شہر کی گرمی میں پبلک ویگن چلاتا ہے اور بار بار تولیہ گیلا کر کے سر پر رکھے گھومتا ہے۔ عوام وہ لکھنے والا ہے جو بارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ میں نیکر پہن کر سوتا جاگتا ہے اور یہ قتل اس کے دماغ سے نہیں ہٹتا۔ عوام وہ مستری ہے جو چلچلاتی گرمی میں گاڑیوں کے گرم انجن پر جھک کر انہیں ٹھیک کرتا ہے۔ یہ کون سے عوام ہیں جو دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرتے ہیں، دل بھر کے قتل و غارت کرتے ہیں، لاشوں پر کھڑے ہو کر حلف اٹھاتے ہیں کہ قاتلوں کے نام نہیں بتائے جائیں گے اور پھر ان ’عوام‘ کو بچانے والے بھی وہیں سے آتے ہیں جن کا بیوپار ہی یہی رہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ دیوانی مقدمہ ہو یا فوجداری، عدالتیں اپنا وقت لیتی ہیں۔ اس بیان کے مطابق تو سین یہ ہو گا کہ اگر میرے دادا کی زمین کا فیصلہ نہیں ہوتا تو میں آٹھ دس بندے بلا کر مخالف پارٹی والے کو فنا کر دوں اور بعد میں کہتا رہوں کہ حکومت فیصلہ نہیں کرتی جی، اب کیا ہو سکتا ہے۔ چوری، ڈکیتی، قتل، راہزنی، طلاق، زمینوں کے مسئلے، سو طرح کے مقدمے عدالتوں میں چلتے ہیں، بعض کے تو فیصلے دو دو ماہ محفوظ رکھے جاتے ہیں، وہاں کسی نے کبھی یہ کیوں نہیں کہا کہ عوام خود فیصلہ کر لیں گے؟ اس لیے کہ سیدھی سیدھی گرفتاریوں کا شوق کسی کو نہیں ہوتا۔ خدا رسول کے نام پر اتنی بڑی بات کرنے سے پہلے انہی کا واسطہ ہے، ایک مرتبہ سوچ لیا جاتا۔ کوئی چاہے گا کہ اس کا جوان بیٹا اس طرح سفاک قتل کا شکار ہو؟ جو چاہتا ہے وہ اس بیانیے کو الاپتا پھرے۔ جس کی دشمنی جس کسی بات پر بھی ہو گی، آخری حل پھر یہی ہوا کرے گا کہ ایسا کوئی الزام لگاؤ اور خود فیصلہ کر لو، اب تو مولانا کی سند بھی موجود ہے۔

تیسری بات یہ کہ بلاشک و شبہ یہ یونیورسٹی تھی، جدید تعلیم کا ادارہ تھا۔ لیکن ذرا ایک نظر ہاسٹلوں پر جا کے مار آئیے یا ادھر بیٹھے بیٹھے پڑھ لیجیے۔ الحمدللہ کالج ہو یا کوئی یونیورسٹی ہو، ہر جگہ کسی نہ کسی طلبہ تنظیم کا مکمل ہولڈ ہوتا ہے۔ جہاں نہیں ہوتا وہاں دھیمے سروں میں دین کی باتیں بتانے والے بھائی موجود ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی میں پہلے دن کے ویلکم سے لے کر آخری دن تک یہ آپ کا سایہ ہوتے ہیں۔ شبیر کی طرح یہ بھی ہر وقت ہر خبر پر نظر رکھتے ہیں۔ جس دن جدید تعلیمی اداروں سے کسی بھی قسم کی طلبا یونین کا خاتمہ ہو گیا، اس کے دس برس بعد جا کر یہ فصلیں ختم ہوں گی جو وہاں آج بھی برابر تیار ہو رہی ہیں۔ یہ بات کون نہیں جانتا، شاید وہ جو ان اداروں میں پڑھا نہ ہو، یا پھر وہ جو جاننا نہیں چاہتا۔ تو یہی نیٹ ورک خدا کے مقدس اور پاک دین کے نام پر لوگوں کو آہستہ آہستہ اپنے قریب کرتا ہے اور پھر وہ نورین لغاری بنے یا ایک وحشی ہجوم میں تبدیل ہو جائے، دماغ ان سب کا ماؤف اور نفرتوں سے اندھا ہو چکا ہوتا ہے۔

نورین لغاری واپس اپنے گھر جائیں گی، احسان اللہ احسان صاحب کی ہنستے ہوئے تصویریں آئیں گی، مولانا صاحب اپنی گدی کا حق ادا کریں گے اور پاکستان کے ایک لاکھ سے زیادہ شہید مسلمان سوال کریں گے کہ ہمارے مرنے پر تو نہیں جاگے، مشال کی باری پر ہی جاگ جاو!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 297 posts and counting.See all posts by husnain