صدر بش کو عالمی عدالت سے لاکھ سال کی جیل


جون 2015 ء میں امریکی ریاست ساو¿تھ کیرولینا میں بلیک کمیونٹی کے ایک چرچ پر ایک امریکی گورے دہشت گرد نے بندوق سے حملہ کیا۔ دہشت گردی کے اس واقعہ میں نو (9) لوگ قتل ہوئے اور تین زخمی تھے۔ مرنے والے اور زخمی سبھی کا تعلق افریکی امریکن کمیونٹی سے تھا جبکہ قاتل امریکی گورا۔ بہت امکان تھا کہ شہر میں کالے اور گورے کی چپقلش شروع ہو جاتی اور ایک دوسرے پر حملے کرنے لگتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد چرچ کے پادری جی، جو کہ افریقی امریکی تھے، نے اعلان کیا تھا کہ حملہ آور دہشت گرد کی یہ بھول ہے کہ وہ ہمارے شہر میں کالے اور گورے کے درمیان دشمنی شروع کروا سکے گا۔ ہم اسے کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ اس حملے میں کسی گورے کا کوئی قصور نہیں ہے سوائے اس شخص کے جس نے یہ حملہ کیا ہے۔ شہر کا امن قائم رہا اور دہشت گرد کو ناکامی ہوئی۔

نائن الیون کے حملے کے بعد ایسا نہیں ہوا۔ امریکی صدر بش نے وہ کیا جو القاعدہ چاہتی تھی اور دہشت گردوں کو خوب کامیاب بنایا۔ اسامہ بن لادن صرف ورلڈ ٹریڈ سنٹر نہیں گرانا چاہتا تھا بلکہ وہ دنیا میں مذہب کے نام پر جنگ چاہتا تھا۔ اس کی یہ خواہش بش نے پوری کر دی۔ بش نے ایک اسامہ بن لادن اور اس کے چند سو ساتھیوں کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے تک لانے کی بجائے پورے ملک کو دشمن قرار دے دیا۔ بھلا افغانستان کے عام لوگوں، بچوں اور عورتوں کا نائن الیون کے حملے میں کیا رول تھا کہ ان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا جاتا۔ لیکن بش نے بے وقوفی میں اسامہ بن لادن کی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے ایسا کیا۔

القاعدہ کو اور کیا چاہئے تھا، امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ اور اس میں 31000 سویلین تھے۔ 41000 لوگ زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جن کو ریکارڈ کیا جا سکا۔ لیکن مجھے یقین ہے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی۔ کیونکہ ہم سب سمجھتے ہیں کہ جنگ کے ماحول میں لوگوں کا ٹھیک ریکارڈ رکھنا تقریبا ًناممکن ہوتا ہے۔ اس قتل عام کے علاوہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور پندرہ سال گزرنے کے بعد بھی وہ پردیس میں رل رہے ہیں اور کوئی خبر نہیں کہ وہ کب جا کر اپنے گھر اور اپنے گاو¿ں بسا پائیں گے۔ لاکھوں افغان بچے روٹی ،کپڑے اور چھت کو ترستے ہیں سکول یا صحت کی سہولتوں کی تو بات ہی الگ ہے۔

صدر بش ہی عراق کی جنگ شروع کرنے والے بھی ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تعلیمی ریسرچ کے مطابق عراق میں 2003ء میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے کوئی پانچ لاکھ سے زیادہ لوگ قتل ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں عراقی بے گھر ہوئے اور بہت سوں کو تو اپنا ملک بھی چھوڑنا پڑا۔ عراقی عوام پر اس جنگ کے اثرات بہت لمبے عرصے تک رہیں گے۔

عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بالترتیب 4486 اور 2345 امریکی فوجی مارے گئے۔ زخمیوں کی تعداد کافی زیادہ ہے مثلاً صرف عراق میں بیس ہزار سے زائد امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ ذہنی بیمار ہونے والے فوجیوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے۔ کئی رپورٹس کے مطابق ہر تیسرا امریکی فوجی جو عراق سے واپس آتا تھا وہ شدید ذہنی دباو اور ڈپریشن کا شکار ہوتا تھا۔ اسے باقاعدہ نفسیاتی مدد درکار ہوتی تھی۔ بہت سارے تو سالوں زیر علاج رہے اور شاید کبھی بھی بھرپور زندگی کو نہ پا سکیں۔

ان بے پناہ نقصانات کے علاوہ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے ساری دنیا میں انتہا پسندی پھیلانے میں بہت کردار ادا کیا ہے۔ القاعدہ جتنا بھی زور لگا لیتی ساری دنیا سے اتنے مسلمان نوجوانوں کو کبھی بھی اپنی صفوں میں نہ لا سکتی جتنے صدر بش نے بھرتی کر کے انہیں دے دیے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی ملک بھی محفوظ نہیں۔ یورپ اور امریکہ کے اندر دہشت گردی کی واردات کرنے کے لئے دہشت گردوں کو ویزوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ پیدائشی امریکی یا یورپین ہیں۔ اسی طرح انہیں بموں کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ایک ٹرک یا کاریں ہی بم کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں اور تباہی پھیلا رہی ہیں۔

داعش بھی اسی جنگ کی پیداوار ہے اور اس نے قتل عام اور تباہی کا بد ترین سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ بھی دنیا میں رجعت پسندی بڑھی ہے۔ آزادیاں کم ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے پر اعتماد کو بہت گہری ٹھیس پہنچی ہے۔

ان ساری باتوں کی بنیاد پر پریذیڈنٹ بش کو اس صدی کا ابھی تک کا سب سے بڑا قاتل اور بد ترین شخص قرار دیا سکتا ہے۔ کاش امریکی صدر پر بھی انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے عالمی عدالت میں چلائے جا سکتے۔ امریکہ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس (دی ہیگ) کو بوجوہ تسلیم نہیں کیا ہوا ورنہ اگر ہیگ میں مقدمہ چل سکتا تو امریکی صدر کو لاکھ سال کی جیل ہوتی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 119 posts and counting.See all posts by salim-malik