تلور سے پاناما تک!


1960 کی دہائی تک ایک عام پاکستانی کے نزدیک سعودی عرب کا تعارف مقاماتِ مقدسہ کے نگہبان ملک کا تھا۔ لوگ باگ ریاض سے واقف نہ تھے بس مکہ اور مدینہ جانتے تھے۔

متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین جیسے ناموں سے اس زمانے کا کوئی پڑھا لکھا پاکستانی واقف ہو تو ہو البتہ ایران اور ترکی کے ساتھ ثقافتی و تاریخی رشتوں کا خوب سرکاری و غیر سرکاری چرچا رہتا تھا۔

جب 1970 کے عشرے میں خلیجی ممالک میں تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوا اور پاکستان سے افرادی قوت ان ممالک میں روزگار پانے لگی اور خلیجی ممالک کی افواج کی تربیتی سہولتوں میں پاکستان نے اہم کردار ادا کرنا شروع کیا تو روایتی علاقائی رشتوں کا مدار بھی بتدریج بدلنے لگا۔

اکتوبر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد شاہ فیصل اور پھر شاہ خالد سے بھٹو صاحب کا ذاتی قربت و احترام کا رشتہ استوار ہونے سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے متاثر ہونے والی مغربی پاکستانی معیشت کو ایک زبردست نفسیاتی و مالی سہارا ملا اور یوں بجٹ خسارہ کم سے کم رکھنا ممکن ہو سکا۔

پاکستانی سیاست میں پہلی بار سعودی عرب سے خصوصی تعلق کی اہمیت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے سبب حزبِ اختلاف کی نو جماعتوں نے قومی اتحاد کے پلیٹ فارم سے بھٹو مخالف تحریک شروع کی۔

فریقین کے مابین جب کشیدگی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہ رہے تو اسلام آباد میں متعین سعودی سفیر ریاض الخطیب کی شٹل ڈپلومیسی نے کام دکھایا اور پی این اے بھٹو صاحب سے مذاکرات پر رضامند ہوا مگر اس کا پھل ضیا الحق نے اچک لیا۔

ضیا الحق نے اسلامائزیشن کا منصوبہ شروع کیا تو سعودیوں کی جانب سے ان کے لیے پسندیدگی شروع ہوئی۔ دیوانی و فوجداری قوانین کو اسلامی قالب میں ڈھالنے کے کام میں سعودی حکومت اور علما نے ضیا الحق کی بھرپور مدد کی۔ وہی حدود قوانین جو سعودی عرب میں نافذ تھے، پاکستان میں بھی نافذ ہوگئے۔

سعودی عرب بھٹو کو پھانسی دینے کا مخالف تھا مگر پھانسی پھر بھی ہوئی لیکن ضیا الحق کے ساتھ سرد مہری اس لیے نہیں برتی جا سکتی تھی کیونکہ سعودی عرب پاکستان کے جوہری پروگرام میں بوجوہ دلچسپی رکھتا تھا اور پھر بھٹو کی پھانسی کے آٹھ ماہ بعد افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد نے سارا نقشہ ہی بدل دیا۔

افغان مجاہدین کی تربیت و تیاری کے لیے ہر ایک امریکی ڈالر کے بدلے سعودی عرب نے بھی ایک ڈالر دان کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ سوویت کفر سے نبردآزمائی کے لیے نظریاتی افرادی قوت کی مسلسل ترسیل کے لیے سعودی اور خلیجی نجی و سرکاری تعاون سے مساجد و مدارس کا جال بچھا اور ہم خیال مجاہدین و مذہبی و سیاسی گروہوں کے لیے مالی امداد کوئی مسئلہ نہ رہی۔

اس دوران ایران میں شیعہ انقلاب آ چکا تھا لہذا پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس جغرافیائی ثقافتی و تاریخی مروت سے بھی آزاد ہو گئی جو اب تک ایران سے قریبی رشتے کا جواز فراہم کر رہی تھی۔ پنڈولم پوری طرح خلیج کی جانب جھکتا چلا گیا اور پاکستان کے سبز نظریاتی نقشے میں سعودی سبز بھی شامل ہوتا چلا گیا۔ دفاعی، نظریاتی و سیاسی لحاظ سے دونوں ممالک یک جان دو قالب نظر آنے لگے۔

اگرچہ بھٹو صاحب سے سعودی شاہی خاندان کے خصوصی تعلقات تھے مگر بینظیر بھٹو کا وزیرِاعظم ہونا ویسی گرمجوشی پیدا نہ کر پایا تاہم اس کا متبادل متحدہ عرب امارات کی شکل میں موجود تھا۔
متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں نے بینظیر بھٹو کے دور میں خدمات و صنعت کے شعبوں میں سرمایہ کاری شروع کی اور آج اماراتی کمپنیاں ٹیلی مواصلات، بینکاری کے شعبوں میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔

دبئی اقتدار سے معزول بینظیر بھٹو کا گھر بنا اور آج بھی عملاً لگتا ہے کہ کراچی کے ساتھ ساتھ دبئی سندھ کا دوسرا دارالحکومت ہے۔ اس پورے عرصے میں پاکستان سے باہر اگر پاکستانیوں نے سب سے زیادہ املاک کسی ملک میں خریدیں تو وہ امارات ہے۔

سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات دوسرا خلیجی ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی کارکن موجود ہیں اور پاکستان کو ہر سال تارکینِ وطن جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں اس کا نصف انھی دو ریاستوں سے آتا ہے۔

چنانچہ پاکستان کی اندرونی سیاست میں اماراتی کردار بھی لامحالہ بڑھنا تھا۔ جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے مابین این آر او کی بنیاد پر سمجھوتہ بھی امارات میں طے پایا۔ جنرل مشرف کو صدارت سے سبکدوشی کے بعد بلا مقدمہ پاکستان سے بخیریت 18 اگست 2008 اڑان بھرنے کی ضمانت دینے والے ممالک میں امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ اماراتی اسٹیبلشمنٹ بھی بتائی جاتی ہے۔

پرویز مشرف کا ایک گھر اگر لندن میں ہے تو ایک دوبئی میں۔ اور پاکستان تو خیر ان کا ہے ہی۔ چند ماہ پہلے مشرف صاحب ایک پاکستانی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ انھوں نے لندن اور دبئی میں سبکدوشی کے بعد جو گھر خریدے ان کی رقم ان کے عزیز ترین دوست مرحوم شاہ عبداللہ نے فراہم کی۔ بقول جنرل صاحب اتنی بےتکلفی تھی کہ اگر شاہ عبداللہ کبھی کبھار تمباکو نوشی سے شوق فرماتے بھی تھے تو صرف انھی کے ساتھ۔

انھی شاہ عبداللہ کے احسان مند نواز شریف بھی ہیں جنھیں شاہ عبداللہ نے اپنے دوست پرویز مشرف کے چُنگل سے 10 دسمبر 2000 کی شب شاہی طیارے میں بٹھوا کر رفیق الحریری اور سعودی انٹیلیجنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کے ذریعے معاہدہ کروا کے چھوٹے اور بڑے میاں صاحب کو جدہ کے سرور پیلس میں برسوں رکھا۔ (ویسے یہ فیصلہ نواز شریف کی جدہ روانگی سے تین ماہ پہلے قطر کے دارلحکومت دوہا میں اسلامی سربراہ کانفرنس کے موقع پر شاہ عبداللہ اور پرویز مشرف کے مابین مبینہ طور پر زبانی طے پا گیا تھا)۔

اور اس سے بھی کہیں پہلے جب پاکستان نے مئی 1998 میں ایٹمی دھماکے کیے تو سعودی عرب نے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کا بوجھ بٹانے میں اپنے دوست نواز شریف کی اچھی خاصی مدد کی۔

اس سے اگلے برس جنرل مشرف نے کارگل کا ایڈونچر کیا تو اس کمبل سے جان چھڑوانے میں بھی سعودی عرب نے بھرپور مدد کی اور جب وزیرِ اعظم نواز شریف صدر کلنٹن سے ملنے چار جولائی 1999 کو واشنگٹن پہنچے تو سعودی سفیر شہزادہ بندر بن سلطان نے انھیں بلیئر ہاؤس تک چھوڑا اور نواز شریف کی کلنٹن سے باضابطہ ملاقات سے پہلے پاکستان موقف اور خدشات کی وکالت کر کے کلنٹن کا دل نرم کیا۔

پھر بھی شاہ عبداللہ کا ایک دوست بارہ اکتوبر کو ان کے دوسرے دوست کا بوریا بستر گول کرنے سے باز نہ آیا مگر سعودیوں کو ایسی اندرونی تبدیلیوں کے بارے میں کبھی کوئی خاص فکر نہ رہی کیونکہ پاکستان میں جو بھی جس کی جگہ آئے گا پہلے تو ریاض ہی جائے گا۔

وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ پاک عرب بھائی بھائی میں تیسرا خلیجی ملک قطر بھی شامل ہوگیا۔ جب سوا برس پہلے قطر سے 16 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا معاہدہ طے پایا تو عام تاثر یہی تھا کہ قطر سے اقتصادی نوعیت کا بندھن ہے۔ پر بھلا ہو پاناما پیپرز کیس کا کہ جس سے گلوخلاصی کی کوشش میں شریف خاندان کو یہ تاثر دینا پڑا کہ صرف سعودیوں سے ہی نہیں بلکہ قطری شاہی خاندان سے بھی سگے بھائیوں جیسے تعلقات ہیں۔

سعودی عرب نے تو نواز شریف کو تیسری بار برسرِ اقتدار آنے پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی سلامی دی تھی مگر قطری شاہی خاندان تو شریف خاندان کا کاروباری پارٹنر بھی نکل آیا اور وہ بھی آج سے نہیں 30، 35 برس پہلے سے۔

جب شریف برادران کے والد نے سابق قطری وزیرِ اعظم شیخ حماد بن جاسم الثانی کے والد کو 12 ملین درہم کچی رسید پر سرمایہ کاری کے لیے دیے اور اس کے بدلے شیخ حماد نے لندن میں شریف خاندان کو چار فلیٹ دیے۔ رہا اس ٹرانزیکشن کا ریکارڈ تو عدالت کو یہ بتایا گیا کہ جنرل مشرف کی تختہ الٹ مہم کے نتیجے میں ایک ظلم یہ بھی ہوا کہ شریف خاندان کا 40 سالہ کاروباری ریکارڈ ضائع ہوگیا۔ اب محض اس خط پر اکتفا کیا جائے جو قطری شہزادے نے عدالتی ملاحظے کے لیے لکھا۔

(اس خط پر مجھے وہ سادہ کاغذ یاد آ گیا جو بچے نے ڈرائنگ ٹیچر کو یہ کہتے ہوئے تھمایا سر یہ ڈرائنگ دیکھیے، گائے گھاس چر رہی ہے۔ استاد نے پوچھا اس میں گھاس کہاں ہے بیٹا؟ بچے نے کہا وہ تو گائے چر گئی سر! اور گائے کہاں ہے بیٹا؟ وہ تو گھاس چر کے چلی گئی سر)۔

آج تصویر یوں ہے کہ پاکستانی فوج اور سعودی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے براہِ راست تعلقات ہیں۔ پاکستان اگرچہ یمن کی جنگ میں موثر کردار ادا نہیں کر رہا مگر جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف سیمت 34 رکنی مسلمان عسکری اتحاد کا حصہ ضرور ہے۔ متحدہ عرب امارات اور نواز شریف حکومت کے مابین بظاہر سرد مہری ہے مگر زرداری خاندان اور اماراتی خاندانوں میں پہلے جیسی گرمجوشی برقرار ہے۔

اگرچہ خلیجی ممالک میں پاکستانی کارکنوں سے کوئی خصوصی سلوک نہیں کیا جاتا مگر پاکستانی تلور بہرحال پاک خلیج تعلقات کا ایک اہم بکہ اولین ستون ہے کیونکہ ایوب خانی دور میں پہلے تلور آیا پھر عرب شیوخ کھنچے چلے آئے۔ یوں قطرہ قطرہ قطر بنتا چلا گیا۔

خلیجی ممالک پاکستان کی اندرونی سیاست پر نہ صرف براہِ راست بلکہ حمایت یافتہ مذہبی تنظیموں اور علما کے ذریعے بلاواسطہ بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔ پچھلے 40 برس کے دوران پاکستان اور خلیجی اسٹیبلشمنٹ کی قربت سے اندرونِ پاکستان کئی چھوٹی بڑی سماجی و سیاسی تبدیلیاں آئی ہیں۔ عمومی سطح پر سب سے واضح تبدیلی تو خدا حافظ کا اللہ حافظ سے بدل جانا ہے۔ 1990 کے عشرے تک امن و امان کی بحالی کے لیے فوج یا نیم فوجی ادارے جو آپریشن کرتے تھے ان کے نام آپریشن جبرالٹر، آپریشن سرچ لائٹ، آپریشن فیئر پلے، آپریشن مڈ نائٹ جیکال وغیرہ ہوتے تھے، اب آپریشن راہِ حق، راہِ راست، ضربِ عضب اور رد الفساد ہوتا ہے۔

سیاست میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ افغان مجاہدین کو ایک ترازو میں تولنے کا مسئلہ ہو یا سویلینز فوج کی یا فوج سویلینز کو سنی ان سنی کر رہی ہو، آمدنی سے زائد خرچے کی پردہ پوشی کے لیے کسی شہزادے کا خط درکار ہو یا کسی کو کسی کے خلاف تحریک چلانے سے باز رکھنا یا حمایت پر آمادہ کرنا ہو۔ جب سب اندرونی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو پھر مقدمہ خلیجی جرگے کے روبرو جاتا ہے اور یوں سب ایک بار پھر ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔

مگر اب ایک فرق پیدا ہو رہا ہے۔ شروع کے 30 برس پاکستانی پاور پالٹیکس میں توازن اور ثالثی کے لیے امریکی کردار نمایاں ہوا کرتا تھا، اگلے 30 برس کے دوران خلیجی کردار نے امریکہ کی جگہ لے لی اور اب چین کا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔

بچے ویسے بھی بغیر کسی سرپرست کے اپنے مسائل خود حل کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ جب بڑے ہوں گے تب ہی بڑے ہوں گے نا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔