فرانس میں دہشت گردی اور انتخابات میں سخت گیر دائیں بازو کا عروج


(حسین عسکری)

فرانس میں صدارتی انتخاب کے موقع پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ ہے اور مرکزی پیرس میں اکثر مقامات پر پولیس نظر آتی ہے۔ کہیں کہیں فوجی اہلکار بھی تعینات ہیں لیکن دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، ہاتھ میں بندوق اور انگلیاں ٹریگر پر۔

میں نے ایک پولیس اہلکار سے بات چیت کی کوشش کرتے ہوئے ایک لبنانی ریستوران کا پتہ پوچھا تو اس نے مجھے غور سے دیکھا لیکن کوئی جواب نہیں دیا۔ دوسرے سے پوچھا تو اُس نے کہا پتہ نہیں۔ وجہ حالات کی سنگینی ہو سکتی ہے اور زبان کا فرق بھی۔

صدارتی انتخاب کے موقع پر ملک میں دہشت گردی کا خطرہ اور سکیورٹی کے اقدامات ایک بڑا ایشو بن کر سامنے آئے ہیں۔ عوام غور سے دیکھ رہے ہیں کہ صدارتی امیدواروں کا اِس بارے میں کیا موقف ہے۔

شاید اِسی لیے انتہائی دائیں بازو کی امیدوار میری لی پین کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ اِس پر کھل کر بول رہی ہیں۔

تقریباً ڈھائی برس پہلے جب مغربی فرانس میں ایک وین کرسمس مارکیٹ پر چڑھ دوڑی اور دس لوگوں کو بری طرح زخمی کر ڈالا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ تو صرف آغاز ہے، اور یہ کہ فرانس کے دشمن فرانسیسی شہری ہوں گے۔ اب تک ہونے والے زیادہ تر حملوں میں الجیرین نژاد فرانسیسی شہری ملوث رہے ہیں۔

7جنوری 2015: جریدے چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملہ

ایک گاڑی اور خودکار اسلحے کے ساتھ دو شدت پسندوں نے یہ حملہ کیا۔ اُس صبح 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں جریدے کے ایڈیٹر کئی کارٹونسٹ، ایڈیٹوریل سٹاف، اور پولیس اہلکار شامل تھے۔ یہ حملہ دو بھائیوں شریف کواشی اور سعید کواشی نے کیا۔

13 نومبر، 2015 پیرس: کنسرٹ ہال سمیت کئی حملے

مسلح حملہ آوروں اور خودکش بمباروں نے بیک وقت پیرس کے ایک کنسرٹ ہال، سٹیڈیم، ریستورانوں، اور شراب خانوں پر حملے کیے جن میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہوئے۔

13 جون، 2016 میگنینوِل:

دولتِ اسلامیہ سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے فرانسیسی پولیس کے ایک کمانڈر اور اُن کی اہلیہ کو اُن کے گھر میں گھس کر ہلاک کر دیا۔ بعد میں حملہ آور بھی پولیس سے جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گیا۔

14 جولائی 2016 نیس: ٹرک حملہ

جنوبی فرانس کے اِس شہر میں حملہ آور نے ٹرک کو اپنا ہتھیار بنا لیا اور تقریباً دو کلو میٹر تک لوگوں کو کچلتا چلا گیا۔ اس واقعے میں کم از کم 84 افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔

26 جولائی، 2016 غواں: چرچ پر حملہ

دو مسلح حملہ آوروں نے شمالی فرانس کے شہر غواں کے مضافات میں ایک چرچ میں گھس کر ایک پادری سمیت پانچ افراد کو یرغمال بنا لیا۔ پولیس سے مقابلے کے دوران انھوں نے پادری کو ہلاک کر دیا جبکہ دونوں حملہ آور بھی مارے گئے۔

اِن کے علاوہ گذشتہ دو برسوں کے دوران کم از کم چھ دیگر حملے ہو چکے ہیں اور حملوں کی کئی کوششوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔

اِس صورتحال کو سامنے رکھیں تو سکیورٹی کا ایک بڑا مسئلہ بننا زیادہ تعجب کی بات نہیں۔ میری لی پین اپنی تقریروں اور بیانات میں اِسی طرح کے معاملات پر زیادہ بات کر رہی ہیں اور شاید فرانسیسیوں کا ایک بڑا حصہ یہ سب سننا بھی چاہتا ہے۔

چند روز قبل انھوں نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تارکینِ وطن کی آمد کو روکیں گی اور فرانس کو ‘وحشیانہ عالمگیریت’ سے بچائیں گی۔

انھوں نے ملک کی سکیورٹی اور تارکینِ وطن کے بحران کو ایک دوسرے سے منسلک کر کے پیش کیا ہے۔

دوسری جانب اُن کے مدِمقابل ایمینیول میغواں ہیں جو ایک لبرل معیشت اور یورپی یونین پر یقین رکھتے ہیں لیکن صورتحال کے دباؤ میں آ کر یورپ کی سرحدوں اور سکیورٹی کو سخت کرنے کی بات بھی کرتے ہیں۔

اِس وقت پیرس میں سب سے زیادہ سکیورٹی ہی زیرِ گفتگو ہے۔ کیفے، ریستوران، شراب خانوں، دکانوں، ٹیکسی ڈرائیور سب کی باتوں کا محور یہی ہے۔

اگر رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کو دیکھا جائے تو سکیورٹی اور اِس سے متعلق دیگر معاملات ہی فرانسیسی ووٹر کا سب سے بڑا مسئلہ دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن سکیورٹی کے اِس خوف نے دوسرے اہم مسائل اور بعض مبصرین کی رائے میں اصل مسائل کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بے روزگاری، جو دس فیصد تک پہنچ چکی ہے، معیشت کی سست روی اور سب سے بڑھ کر سوشل سکیورٹی کا نظام جو شدید دباؤ میں ہے اسے کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کی فلاح کے اداروں کی فنڈنگ کم کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

لیکن سب کی توجہ سکیورٹی پر ہے نہ کہ سوشل سکیورٹی پر۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 229 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp