کشمیر اور برصغیر میں ایٹمی ہتھیاروں کا پھیلاؤ


نوے کی دہائی میں پاکستان سخت گیر مذہبی گروہوں کی مدد سے درپردہ جنگ لڑنے کی پالیسی پر گامزن رہ کر بین الاقوامی طاقتوں کی ناپسندیدگی کا مرتکب ہوا ہے۔ جب کہ نئی دہلی کا اعتماد بڑھ گیا ہے کہ کشمیر مسئلے کو بین الاقوامی شہرت مل جانے کے نتیجے میں بھارت کو فائدہ حاصل ہوگا۔ ہندوستان کا یہ بھی ماننا ہے کہ 1998 میں ایٹمی تجربوں کے وقت اِس کی صبر وتحمل کی پالیسی نے ملک کے وقار کو بلند کیا ہے اور اِس کو ایک ذمہ دار ایٹمی ملک کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی سطح کے دباؤ کے باوجود بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بُحرانی صورت حال کی شدت کو کم نہیں کیا جاسکا ہے۔ اِس کے برعکس صورت حال انتہائی دھماکہ خیز ہے۔

مونٹریری انسٹچوٹ آف انٹرنیشنل سٹیڈیز کے سینئر ریسرچ ایسوسیٹ گُوورو کمپانی (2005 )کی ہندوستانی فوجی کارروائیوں اور پاکستانی دراندازی کی لفاظی تصویر کشی خصوصی وابستگی کا مظہر ہے۔ لامحدود پیمانے کا روایتی جنگ چھیڑ جانے اور ایٹمی اسلحہ کے ممکنہ استعمال کے نتیجے میں بھاری تباہی کے امکانات کے پیش نظر بھارت نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قائم تربیت کیمپوں، عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں اور ان کے لئے زیر استعمال راستوں پر بھاری پیمانے کے حملے کرنے سے اجتناب کیا ہوا ہے۔ (ایضاً166:) پاکستان کشمیر میں باغیوں کی مدد کرنے اور بغاوت کو بڑھاوا دینے میں کامیاب رہا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ بغاوت کی سرکوبی کرنے سے متعلق اقدامات سے ہندوستانی فوج کا دھیان ہٹانے اور کشمیر مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنانے میں بھی پاکستان کی حکمت عملی سودمند رہی ہے۔
پاکستان امریکہ کے گلے یہ بات اُتارنے میں بھی کامیاب ہوا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ایٹمی عدم پھیلاؤ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے کشمیر کے بحران کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ (اقبال 1993 )۔ میں پھر سے کمپانی کے حوالے سے پاکستان کی حکمت عملی کا خلاصہ کرتی ہوں کہ وہ اپنی ایٹمی صلاحیتوں کو کشمیر کا مسئلہ اُجاگر کرنے کی کوششوں کے ساتھ ملاکر مرکب کی صورت میں کامیاب طریقے سے پیش کر رہا ہے۔ علاقائی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاؤ پروگرام کو کشمیر کا مسئلہ حل کرانے کے معاملے کے ساتھ جوڑنا پاکستان کی سیاسی موقعہ پرستی کا مظہر ہے۔ اسلام آباد اِس طرح سے ایٹمی معاملات میں رعایت دے کر امریکی پالیسی سازوں کو کشمیر جھگڑے کا حل تلاش کرنے کی کوششوں میں ملوث کرنے کا خواہاں ہے۔ (کمپانی 2005 :167، چڑا:2005 )۔ پاکستانی فوج نے مغرب کی جنوبی ایشیا میں نیوکلیر پھیلاؤ سے متعلق تشویش کو اور بھی زیادہ مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ادا کیا ۔ خط انتظام پر پاکستان کی جارحانہ مداخلت کے جواب میں ہندوستان نے مصلحت اور ضبط سے کام لے کر اپنی سفارتی کوششوں کے لئے بین الاقوامی ہمدردی حاصل کی۔ اسلام آباد سے خط انتظام کے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے اور اِس کا تقدس بنائے رکھنے کے لئے سخت ترین الفاظ میں مطالبہ کرکے امریکہ نے اِس معاملے میں اپنا چہرہ دکھایا۔

پاکستانی حملے کے خلاف امریکی دباؤ میں کمی سے یہ بھی واضح ہوا کہ امریکہ کشمیر کی موجودہ حثیت کی پُشت پناہی کرنے کا طرفدار نہیں ہے (کمپانی 2005 :171)۔ پاکستان کے خلاف واشنگٹن کی الزام تراشی سے ہندوستان کی اِس تشویش میں کمی واقعہ ہوئی، جو کشمیر جھگڑے کو بین الاقوامی حثیت دیئے جانے سے متعلق اندازوں سے پیدا ہوئی تھی۔ ایسی صورت میں پاکستان کی سفارت کاری کو کامیابی مل جاتی۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی اور ضبط کی پالیسی سے پاکستان پر ہندوستانی علاقوں سے فوجیں ہٹانے کے لئے دباؤ بڑھ گیا۔ ہندوستان نے مارچ 2000 میں صدر کلنٹن کی نئی دہلی آمد سے قبل ہی نیوکلیر حالات میں محدود روایتی جنگ لڑنے کا نظریہ اپنایا۔ اِس مرحلے پر نیوکلیر پرویفکیشن کا معاملہ ہند امریکہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکا۔ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ پی این دُودما نے مجھے 10، اپریل 2008 کو بذریعہ ای میل مطلع کیا:۔
’’امریکہ غیر صحت مند روایات کا مُرید ثابت ہوا ہے ۔ پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر فلسطین کو برطانوی اختیارات کے تابع کردیا گیا تھا اور اِس کو آزادی دِلانے کے وقت فلسطین کے اہم حصے کو اسرائیل کا نام دے کر علحیدہ کردیا گیا۔ یہاں سے مغربی ایشیا کے ممالک پر حملہ کرنے کے لئے تمام تر سہولیات کو دستیاب رکھا گیا۔ اب واحد سپرپاور ہونے کی حثیت میں امریکہ اور اِس کے دُم چھلے ممالک سابق سوویت یونین، چین، منگولیا اور افغانستان پر اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے ایک اور اسرائیل قایم کرنا چاہتے ہیں۔ اور اِس کے لئے ہندوستان سے زیادہ دوسری کوئی موزون جگہ نہیں ہے‘‘۔
سٹیفن پی کوہُن اور سنیل داس گپتا کے مطابق بُش انتظامیہ کے دوران یہ مسئلہ اور بھی زیادہ پیچھے کی طرف دھکیلا گیا۔ انتظامیہ کے بعض کنزر ویٹو ممبران نے اپنی نظریں انڈیا پر مرکوز کیں تاکہ ایشیا پیسیفک ریجن میں اِس کو اقتصادی طور مضبوط ہو رہے چین کا ہم پلہ بنایا جاسکے۔ (یو ایس ساوتھ ایشیاری لیشنز انڈربُش :2001 )۔ امریکہ ۔ بھارت فوجی تعلقات کو 11، ستمبر 2001 واقعہ کے بعد اور بھی زیادہ مستحکم بنادیا گیا اور اِسی کے ساتھ ساتھ ملی ٹنٹ اسلامی گروہوں اور پاکستانی افواج اور ملیشا کے ساتھ تعلقات کو سردمہری کا شکار کردیا گیا۔
افغانستان میں القاعدہ کے خاتمہ سے متعلق بُش انتظامیہ کے ایک فیصلے کے تحت پاکستانی صدر جنرل مشرف کے پاس طالبان کے تئیں اپنی ہمدردیاں ختم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں رہا تھا۔ القاعدہ اور طالبان سے سیاسی وعسکری حمایت واپس لینے کا سخت گیر اقدام کرکے اسلام آباد کے لئے افغانستان کے دہشت گردوں اور کشمیر کے آزادی پسندوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل کام بن گیا۔ اسلام آباد کی یہ پہیلی نئی دہلی کی کامیابی کا نقیب بن گئی۔ (چودھری 2001 ) اب نئی دہلی حکومت پاکستان کے خلاف اپنی مہم جوئی کو صحیح ثابت کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اکتوبر 2001 میں جموں کشمیر اسمبلی پر حملہ اور ایک ماہ بعد نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر حملہ ہوجانے سے ہندوستانی نقطہ نظر کو اور بھی زیادہ حمایت حاصل ہوتی رہی۔
افغانستان کے خلاف فوجی کاروائی سے نئی دہلی کی حکمت عملی کو پشت پناہی حاصل ہوئی۔ اِس کے ساتھ ساتھ امریکی فوج کو پاکستان کے اندر اور سرحدوں کے ساتھ ساتھ تعینات کرنے کے نتیجے میں پاکستان کو ہندوستان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کرنے سے روکا جاسکا۔ امریکہ نے ہندوستان کو یقین دِلایا کہ کشمیر کے جھگڑے کو مقامی سرحدوں سے باہر لے جانے کے لئے پاکستان کی کسی بھی کوشش کو روکا جائے گا۔ اِس طرح سے پاکستان کو القاعدہ اور طالبان کے خلاف لڑائی سے توجہ ہٹانے کا بھی موقعہ فراہم نہیں ہوگا۔ پاکستان کے ہوائی اڈوں پر امریکی فوجیوں کی موجودگی سے بھی نئی دہلی کی یہ تشویش کافور ہوتی رہی، کہ پاکستان نیوکلیر ہتھیاروں کا استعمال کرسکے گا۔ (کمپانی 2002 )۔ ہندوستان کی سخت گیر سفارتی پالیسی کے نتیجے میں امریکہ نے مشرف حکومت پر دباؤ بڑھایا کہ وہ بھاڑے کے سپاہیوں اور سخت گیر اسلامی ملی ٹنٹ گروہوں، جو کشمیر میں بغاوت کو شہہ دے رہے ہیں، کو قابو میں رکھنے کے لئے کارگر اقدام کرے۔ ( امریکی سکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ آرم ٹیج کے ساتھ 30، اگست 2002 کو پی بی ایس کا انٹرویو)۔ نئی دہلی اسلام آباد کو نجی اور پبلک سطح پر جموں کشمیر میں ملی ٹنسی کو مدد دینے سے متعلق پالیسی میں تبدیلی پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوا۔
ہندوستانی انتظامیہ نے فیصلہ لیا کہ ملی ٹنسی مخالف کارروائیوں کی حوصلہ شکنی ہوجانے پر انڈین آرمی نیوکلیر حالات میں محدود روایتی طرز کی جنگ لڑنے پر مجبور ہوجائے گی۔ جنگ لڑنے کی صورت میں ہندوستانی حکومت نے یہ نظریہ قائم کیا کہ پاکستان کی طرف سے نیوکلیر ہتھیاروں کا استعمال ہوجانے پر وہ بھی اِسی طرح کی کارروائی کریگی۔ (چنگپا 2000 )۔ ہندوستانی لیڈروں نے پاکستان کو نیوکلیر ہتھیار استعمال کرنے کی صورت میں سزا دینے کا بھی اعلان کیا۔ (ٹیلس 2001 :251-475)۔ پاکستان اور ہندوستان نے ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے کی نیت سے اپنی ایٹمی قوت کی خوب تشہیر کر دی۔ اور بیلسٹک میزائیلوں کے تجربے کرنے کی دوڑ شروع کردی۔ اِس طرح کی حکمت عملی اختیار کرنے کے نتیجے میں جنوبی ایشیا سیاسی وفوجی اعتبار سے نازک مرحلے میں داخل ہوگیا۔ (ڈان 27، دسمبر 2001 )۔ پاکستانی نیوکلیر صلاحیتوں نے وادی کشمیر کی بے اطمینان مسلم آبادی کو جدوجہد جاری رکھنے کا حوصلہ عطا کیا۔ کمپانی نے ہندوستان اور پاکستان میں ایٹمی صلاحیتوں کو بڑھاوا ملنے کی کوششوں کا تفصیلی جائیزہ پیش کیا ہے اور روایتی جنگی حالات کو قابو کرنے کے سلسلے میں اِن کوششوں کے اثرات کو واضح کیا ہے۔ پاکستان کے فوجی لیڈروں کی رائے ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے ہندوستان بھرپور جنگ کا آغاز کرنے کی ہمت نہ کرسکا۔ تاہم ہندوستان کی طرف سے احتیاط برتنے کے کئی ایک وجوہات ہیں۔ ہندوستانی قیادت کا ماننا ہے کہ محدود پیمانے کی جنگ چھیڑ جانے کے نتیجے میں سیاسی وفوجی مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے ہیں اور جنگ شروع ہوجانے کے بعد حکومت اور فوجی قیادت کی چاہت کے باوجود بھی اِس کا خاتمہ ناممکن بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی ہندوستانی کارروائی پر ناخوش ہوگی اور جنگ میں ایٹمی اسلحہ کے استعمال پر روک لگانا بھی نا ممکن بن سکتا ہے۔ درحقیقت ایٹمی بدعت کی نمود ونمایش بھی جنوبی ایشیا کے خطے میں سکوت بنائے رکھنے کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ (کمپانی 2005 :177)۔ ہندوستان اور پاکستان کا ایٹمی صلاحیتوں کے مالک ہوجانے کا پس منظر بھی کشمیر جھگڑے کی موجودگی ہے۔ تاہم پاکستانی حکومت کی طرف سے کشمیر میں بغاوت کو کھلے طور شہہ دینے کے نتیجے میں ہندوستان کو پاکستان پر دہشت گرد ملک کا لیبل چڑھانے اور اُس ملک کی شہرت پر بٹہ لگانے کا موقعہ ہاتھ لگا۔
پاکستان کی طرف سے کھلے عام کشمیریوں کی بغاوت کو ہوا دینے کی وجہ سے اِس ملک کی حکمت عملی مشکوک بن گئی اور اقوام متحدہ کو ثالثی کا رول ادا کرنے کا موقعہ نہ مل سکا، جو ہندوستان کا بھی منشا تھا۔ اِسی طرح کشمیر مسئلے کو 2001-02 میں بین الاقوامی حثیت ملنے کے مواقعہ گھٹ گئے۔ کیونکہ ہندوستان امریکی مداخلت سے کراس بورڈر دہشت گردی کو نہ روکنے کی صورت میں ایٹمی جنگ شروع ہوجانے کے امکانات کو اجاگر کرتا رہا۔ (ایضاً:178)۔ تاہم ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نظریاتی اختلاف اور طاقت کے توازن پر خود آرائی کی وجہ سے کشمیر مسئلے کو زندہ رکھا جاسکا ہے۔ (ٹیلس 2001 :8-11)۔ جنوبی ایشیا میں ایٹمی دوڑ کے مسئلے سے قطع نظر کشمیر جھگڑا حل ہوجانے کی صورت میں ہندوستان او رپاکستان میں نیوکلیر اسلحہ سازی کا اختتام ممکن بن سکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر نائلہ علی خان

ڈاکٹر نائلہ خان کشمیر کے پہلے مسلمان وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کی نواسی ہیں۔ ڈاکٹر نائلہ اوکلاہوما یونیورسٹی میں‌ انگلش لٹریچر کی پروفیسر ہیں۔

dr-nyla-khan has 20 posts and counting.See all posts by dr-nyla-khan