پاناما کا فیصلہ آ گیا، وزیر اعظم نا اہل نہیں ہوئے


پاناما کیس کا فیصلہ آگیا ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نااہل نہیں ہوئے۔ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں 540 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنا دیا۔ فیصلے کے ابتدائی نکات میں کہا گیا ہے کہ رقم کیسے قطر منتقل کی گئی اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

چیئرمین نیب غیر رضامند پائے گئے اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیئرمین نیب اپنا کام کرنے میں ناکام رہے اس لئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم، حسن نواز اور حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے۔ ڈی جی ایف آئی اے وائٹ کالر کرائم کی تحقیقات کرنے میں ناکام رہے۔ جے آئی ٹی میں ایم آئی ، ایف آئی اے ، آئی ایس آئی کے نمائندے شامل ہونگے

تین ججوں کی رائے ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات ہونی چاہئیں ۔ جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ نے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے لئے کہا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

فیصلے کا تناسب تین اور دو ججز ہے یعنی تین ججز ایک جانب اور دو دوسری جانب ہے۔ فیصلہ مجموعی طور پر پانچ سو چالیس صفحات پر مشتمل ہے۔

کیس کا فیصلہ 5 رکنی لارجر بنچ کےسربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کورٹ روم نمبر ون میں پڑھ کر سنایا۔

اس سے قبل مختلف سیاسی رہنما باری باری سپریم پہنچنے۔ کورٹ کے باہر میڈیا ، سیکورٹی اسٹاف اور سیاسی کارکنوں کا رش ہے ۔ پاناما کیس کا فیصلہ سننے کیلئے آنے والوں سے کمرہ عدالت بھرا ہوا تھا۔ صرف ڈپٹی رجسٹرار کے دستخط شدہ پاس رکھنے والوں کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی۔

کمرہ عدالت میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے رہنما موجود تھے جن میں مریم اورنگزیب، مصدق ملک، عابد شیر علی، دانیال عزیز، طارق فضل چوہدری، طلال چوہدری، شیریں مزاری، عارف علوی، نعیم الحق اور فواد چوہدری شامل ہیں۔ جب بھی کوئی کارکن عدالت پہنچتا اس کے پارٹی کارکنان نعرے لگانا شروع کردیتے ۔

سپریم کورٹ کے داخلی راستے پر رش کے باعث عمران خان کو سپریم کورٹ میں داخل ہونے کیلئے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کی سپریم کورٹ آمد پر صحافیوں نے انہیں گھیرے میں لے لیا اور پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ جو ہوگا انشاء اللہ بہتر ہوگا اور ملک کے مفاد میں ہوگا۔

سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ۔ کیس کے حوالے سے عدالت میں 25 ہزار دستاویزات داخل کی گئیں۔ سپریم کورٹ نے 26 سماعتوں کے بعد 23 فروری 2017ء کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ تقریباً 55 دن کے طویل انتظار کے بعد آج دوپہر دو بجے یہ فیصلہ سنایا گیا۔

پاناما کیس میں عمران خان ، شیخ رشید اور سراج لحق درخواست گزار تھے اور تینوں کی سپریم کورٹ سے ایک ہی استدعا تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔