سپریم کورٹ کا فیصلہ: کرپشن ناٹک جاری ہے


پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے شریف خاندان کی طرف سے قطر اور سعودی عرب وسائل منتقل کرنے کی تحقیقات کرنے کے لئے جائینٹ انوسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دیا ہے۔ بینچ میں شامل جج متفقہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہے۔ دو جج وزیر اعظم کو معزول کرنے کے حامی تھے جن میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں۔ جبکہ باقی تین ججوں ںے اس معاملہ کی مزید تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح جس فیصلہ کے بارے میں یہ توقع کی جارہی تھی کہ یہ تاریخی ہوگا اور صدیوں تک یاد رکھا جائے گا، وہ ملک میں سیاسی بحران کو جاری رکھنے اور الزام تراشی کے ماحول کو برقرار رکھنے کا باعث بنے گا۔ اصولی طور پر عدالت اس معاملہ میں کسی نتیجہ تک پہنچنے میں ناکام رہی ہے لیکن فیصلہ میں اس کا اعتراف کرنے اور اس مقدمہ کو خارج کرکے متعلقہ اداروں کے حوالے کرنے کی بجائے، اس سلسلہ کو دراز رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے۔ سپریم کورٹ کے جج یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہے کہ ان کی آئینی اور قانونی حدود کیا ہیں اور ملک کے سیاسی معاملات میں وہ کس حد تک دخیل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ اکثریتی رائے سے عدالت نے وزیر اعظم کو معزول کرکے ملک کی عدالتی تاریخ میں ایک نئی بری مثال قائم کرنے سے گریز کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف تحقیقات میں سپریم کورٹ کو ملوث رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ عدالت کے حکم کے تحت حکومت سات روز کے اندر جے آئی ٹی بنانے کی پابند ہوگی جس کا سربراہ ایف آئی اے کے ڈائیریکٹر جنرل کے عہدے کا افسر ہوگا۔ سات رکنی تحقیقاتی کمیٹی میں نیب، ایف آئی اے، سٹیٹ بنک، فوج، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائیندوں کو شامل کیا جائے گا۔ یہ جے آئی ٹی ہر دو ہفتے میں سپریم کورٹ کو تحقیقات کے بارے میں مطلع کرتی رہے گی اور دو ماہ کے اندر اپنا کام مکمل کرے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹے حسن اور حسین نواز اس جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں۔

پاناما کیس کے فیصلہ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے آئین کی شق 184/3 کے تحت سپیشل بینچ بنانے کی سفارش کی گئی ہے جو وزیر اعظم کے کے خلاف تحقیقت کی نگرانی کرے گا اور جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔ اس طرح بعض لوگوں کی رائے ہے کہ عدالت نے پاناما کیس کا فیصلہ سنایا نہیں ہے بلکہ مؤخر کیا ہے۔ اب وہ تحقیقات سامنے آنے کے بعد حتمی فیصلہ کرے گی۔ یہ فیصلہ دو ماہ انتظار کے بعد سامنے آیا ہے لیکن اس میں کوئی واضح قانونی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ 540 صفحات پر مشتمل اس فیصلہ کے نتیجہ میں دونوں فریق اپنی کامیابی کا اعلان کریں گے اور ملک میں سیاسی تلخی اور الزام تراشی کا ماحول برقرار رہے گا۔ حکومت نے فیصلہ سامنے آتے ہی اسے اپنی فتح قرار دیا ہے۔

مختصر عدالتی کارروائی کے فوری بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسے وزیر اعظم کے مؤقف کی جیت قرار دیا جبکہ ایک دوسرے وزیر خواجہ سعد رفیق نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نواز شریف صادق بھی ہیں اور امین بھی۔ اپوزیشن کی طرف سے بھی اقلیتی ججوں کے اختلافی نوٹس سے حوالے لے کر وزیر اعظم کو بدعنوان قرار دینے اور اس عہدے کا نااہل کہنے کا سلسلہ شروع کردیا جائے گا۔ اس طرح سپریم کورٹ نے گزشتہ نومبر میں قوم کو ایک بڑے سیاسی بحران سے بچانے کے لئے جس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، وہ اس کا فیصلہ کرتے ہوئے قوم کے لئے مزید مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے گزشتہ برس نومبر میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے اسلام آباد شٹ ڈاؤن ہڑتال کی دھمکی کی وجہ سے اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حالانکہ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے رجسٹرار ایسی درخواستوں کو غیر سنجیدہ قرار دے کر مسترد کرچکے تھے۔ اس وقت عدالت کا خیال تھا کہ مختصر سماعت کے بعد وہ کمیشن بنانے اور اس کے قواعد خود مرتب کرنے کا وعدہ کرکے معاملہ طے کروا دے گی۔ لیکن سماعت کے دوران معاملہ طول کھینچتا گیا اور جج حضرات اس پر کنٹرول رکھنے میں ناکام رہے۔ اس دوران دسمبر کے آخر میں جسٹس جمالی ریٹائیر ہوگئے اور جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس کا عدہ سنبھالا۔ ان کے بارے میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ قومی اسمبلی میں یہ کہہ چکے تھے کہ ’اب تو اپنا بندہ چیف جسٹس بن رہا ہے‘ ، اس لئے نئے چیف جسٹس نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے سربراہی میں 5 رکنی بینچ بنانے کا فیصلہ کیا جس نے 23 فروری کو سماعت مکمل کی۔ اس بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل تھے۔

فروری میں فیصلہ کو محفوظ کرتے ہوئے تاریخی فیصلہ سنانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن سپریم کورٹ زیر نظر فیصلہ کی روشنی میں اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ جسٹس جمالی نے اس مقدمہ کو کسی تحقیقات کے بغیر اور کسی واضح اور ٹھوس ثبوت کی غیر موجودگی میں سننے کا فیصلہ کرکے جو غلطی کی تھی، اب جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے کر اور اس معاملہ میں سپریم کورٹ کو بدستور ملوث رکھنے کا اعلان کرکے اسی غلطی کا اعادہ کیا گیا ہے۔ فیصلہ محفوظ رہنے کے دو مہینوں کے دوران فاضل ججو ں کو سپریم کورٹ کی حدود کا تعین کرنے اور یہ سمجھنے کی ضرورت تھی کہ عدالت عظمیٰ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اور وہ کسی نامکمل معاملہ اور الزامات کی بنیاد پر عدالت اور لوگوں کا وقت ضائع نہیں کر سکتی۔ اس کی بجائے عدالت کے فیصلہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ملک کے سیاسی معاملات میں اپنی اتھارٹی منوانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ عدالتی رویہ ملک میں انصاف کے فروغ کے لئے قابل تحسین نہیں ہو سکتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 669 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali