براہ کرم ہارن نہ بجائیں۔۔۔ میرا بلبل سو رہا ہے


تو سونو نگم نے آخر اپنا سر منڈوا ہی دیا۔ گرمی اتنی شدید ہے کہ شاید اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ مغربی بنگال میں ایک مولانا نے اپنے دس لاکھ بھی بچا لیے۔ ان کی شرائط بھی کچھ اتنی سخت تھیں کہ شاید پیسے دینے کا ان کا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں۔

یاسمین کی ویڈیو بھی وائرل ہو گئی۔ ان کی بات بھی آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر سونو نگم نے گو رکشکوں کی زیادتیو کے خلاف آواز نہیں اٹھائی تو یہ کہاں لکھا ہے کہ وہ کبھی کسی مسئلے پر اپنی رائے ظاہر نہیں کرسکتے؟ کل کو وہ یہ کہیں گی کہ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ گجرات کے فسادات میں انصاف کی لڑائی چھوڑ دیں کیونکہ جب اذان سے سونو نگم کی نیند خراب ہو رہی تھی تو وہ آرام سے سو رہی تھیں۔

اس پورے معاملے میں سب کچھ الٹا پلٹا ہوا۔ پہلے اولے پڑے پھر سر منڈوایا گیا۔ بیچ میں ایک مولوی صاحب کود پڑے، یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ وہ لاؤڈ سپیکر کا دفاع کر رہے تھے یا اذان کا، ویسے بھی لاؤڈ سپیکر کے لیے دس لاکھ بہت زیادہ ہیں اور اذان کے لیے شاید بہت کم، وہ کہیں اور ہوتے تو ایک دو چھوٹے موٹے مقدمے قائم ہوسکتے تھے!

بدھ کو ایک طرف یہ بحث ہو رہی تھی کہ سونو نگم کے گھر اذان کی آواز آتی بھی ہے یا نہیں اور دوسری طرف ملک کی سپریم کورٹ یہ فیصلہ سنا رہی تھی کہ بابری مسجد کی مسماری سے متعلق کیس میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی سمیت حکمراں بی جے پی کے کئی سینیئر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کے مقدمات قائم کیے جائیں!

بابری مسجد کی مسماری اور رام مندر کی تعمیر کے لیے مسٹر اڈوانی کی تحریک نے ملک کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے موڑ دیا تھا، ملک میں خونریز مذہبی فسادات ہوئے، بہت سے لوگوں کی جانیں گئیں، اور 25 سال بعد سپریم کورٹ نے کہا کہ ان رہنماؤں پر ایک منظم سازش کے تحت مسجد کو مسمار کرانے کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

لیکن سونو نگم کے لمبے خوبصورت بالوں کی اہمیت کو کچھ کم مت سمجھیے۔ انھوں نے کوریج میں بابری مسجد کو پوری ٹکر دی اور کچھ چینلوں پر شکست بھی!

بدھ کو ہی یہ خبر آئی کہ بارڈر سکیورٹی فورس نے اس جوان کو برخاست کر دیا جس نے چند ماہ قبل خراب کھانے کی شکایت کی تھی، جب اس شخص کی ویڈیو پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی تھی تو ٹی وی چینلوں پر ‘لوپ’ میں چلائی گئی تھی اور بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ خود فوج کے سربراہ کو وارننگ دینا پڑی تھی کہ جوان اپنی شکایتوں کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا نہ لیں لیکن کل اس بے چارے کا کہیں کوئی ذکر نظر نہیں آیا۔

بدھ کو ہی وفاقی کابینہ نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا اور اب یکم مئی سے ملک میں کوئی بھی شخص لال بتی کا استعمال نہیں کر سکے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ایک جدید جمہوری نظام حکومت میں لال بتی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ آخرکار لال بتی گل ہو ہی گئی!

کل ہی دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہوا ہوگا، امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ویزا کا نظام سخت کرنے کا عندیہ دیا جس کا براہ راست اثر ہندوستان کی سافٹ وئر انڈسٹری پر پڑ سکتا ہے لیکن وہ جب ہوگا دیکھا جائے گا۔

مختصر یہ کہ بھائی اگر ممکن ہو تو اذان کی آواز کم کردیجیے، سونو نگم کی نیند کھل جاتی ہے تو آپ نے دیکھ ہی لیا کہ کیا ہوتا ہے۔اور ہاں اس سے پہلے کہ ایک نئی بحث شروع ہو جائے، سونو نگم کا اب دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے خلاف ہیں، اور اگر بات یہ ہے تو کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟

سونو نگم، آپ سے بھی تھوڑی شکایت ہے، اگر آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا تو یہ ہی کہہ بھی دیا ہوتا۔ جب آپ نے اپنی ٹویٹ میں اذان سے آنکھ کھلنے کا ذکر کیا تو کچھ لوگ یہ سمجھے کہ آپ مساجد کا ذکر کر رہے ہیں۔ یہ بحث سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی، ختم بھی وہیں ہونی چاہیے۔ وٹس ایپ پر ایک آٹو رکشا اور اس کے مالک کی تصویر گردش کر رہی ہے۔

آٹو پر لکھا ہے: ’براہ کرم ہارن نہ بجائیں، سونو نگم سو رہے ہیں۔‘

(سہیل حلیم)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 479 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp