خواجہ صاحب، ان کو بھی شرم، حیا، امانت اور دیانت سکھائیں


خواجہ آصف صاحب نے کچھ عرصہ پہلے ’کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے، جیسا لازوال فقرہ پاکستانی سیاست کو عطا کیا تھا۔ آج عدالتی فیصلے کے بعد انتہائی پرجوش خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہ آج ثابت ہو گیا کہ وزیراعظم امین بھی ہیں، صدیق بھی ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں شرم، حیا، امین اور صدیق کے موضوع پر آؤں، میں خواجہ صاحب کو جرمنی کے چند ’بے حیا اور بے شرم‘ سیاستدانوں کی کہانیاں سنانا چاہتا ہوں۔

کرسٹیان وولف جرمنی کے صدر تھے۔ وہ اس قدر مقبول تھے کہ انہیں جرمنی کا آئندہ چانسلر تصور کیا جا رہا تھا۔ پھر یہ انکشاف ہوا کہ ایک نجی سفر کے دروان ان کے ہوٹل کا کرایہ ان کے کسی دوست نے ادا کیا تھا جو کہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔

ابھی بات تحقیقات تک بھی نہیں پہنچی تھی کہ کرسٹیان وولف دسمبر 2012ء میں مستعفی ہو گئے۔ بعد ازاں بڑے پیمانے پر تحقیقات ہوئیں اور انہیں چار سو یورو (تقریبا 42 ہزار روپے) کی کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ انہیں 20 ہزار یورو کا جرمانہ بھی ہوا، جو انہوں نے ادا کیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیاست کی دنیا سے علیحدہ ہو گئے۔

کارل تھیوڈور سو گوٹن برگ جرمن وزیر دفاع تھے۔ فروری 2011ء میں ان کا یہ اسکینڈل سامنے آیا کہ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے میں کچھ حصے چوری شدہ ہیں۔ ماضی میں وزیر اقتصادیات اور وزیر ٹیکنالوجی رہنے والا یہ سیاستدان صرف چند روز بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گیا اور ان کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔

جرمنی کی مشہور خاتون سیاستدان اولا شمٹ کو 2009ء میں صرف اس وجہ سے اپنی وزارت صحت چھوڑنا پڑی کہ انہوں نے سرکاری گاڑی اور ڈرائیور کا استعمال اپنی نجی چھٹیوں کے دوران کیا تھا۔

لوتھر سپیتھ ایک جرمن صوبے کے وزیر اعلیٰ تھے اور اپنی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے مشہور بھی۔ پھر ان کا یہ اسکینڈل سامنے آیا کہ ان کے ایک نجی چھٹیوں کے سفر کے پیسے کسی اور نے ادا کیے تھے۔ یہ ان کے عہدے کا غلط استعمال تھا اور انہوں نے استعفی دے دیا۔

ریزو شلاوخ جرمنی کی گرین سیاسی جماعت کے سرگرم سیاستدان تھے۔ انہیں اپنا سیاسی کیرئیر اپنے عروج پر اس وجہ سے چھوڑنا پڑا کہ سرکاری سفر کے دوران حاصل ہونے والے بونس مائلز انہوں نے اپنے ذاتی سفر کے لیے کیش کروائے تھے۔ یہ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد وہ مکمل طور پر سیاست سے ہی کنارہ کش ہو گئے۔

کُرٹ بیڈنکوف جرمن صوبے سیکسنی کے بارہ برس تک وزیر اعلیٰ رہے۔ پھر ان سے ایسی غلطی ہوئی کہ اس صوبے کی تاریخ کے مشہور ترین سیاستدان کو مستعفی ہونا پڑ گیا۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ ان کے فلیٹ کا کرایہ ان کے ایک جاننے والے نے ادا کیا، جو ان کی عہدے کا ناجائز استعمال تھا۔

جرمنی کی تاریخ میں ایسے درجنوں دوسرے واقعات بھی ہیں، جہاں چند سکوں کی کرپشن کا اسکینڈل سامنے آیا نہیں اور سیاستدان مستعفی ہوئے نہیں۔ محترم خواجہ صاحب ان جرمن سیاستدانوں پر ابھی الزامات لگے تھے عدالت تک کیس نہیں گئے تھے اور یہ مستعفی ہو گئے تھے۔

شکر ہے یہ پاکستانی سیاستدان نہیں تھے ورنہ انہوں نے ہر جگہ اپنا ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرنے، جعلی ڈگریاں نکلنے، سرکاری گوداموں میں اپنی گندم بیچنے، اپنے رشتے دار ناجائز بھرتی کروانے، سرکاری گاڑیوں پر بیگموں اور بچوں کو شاپنگ اور گلچھرے اڑانے، سرکاری گاڑیوں کا تیل فروخت کرنے، ادویات کے نقلی بل بنانے، ہر ٹھیکے میں سے بھتہ لینے، تحائف کے نام پر کروڑوں کی رشوت لینے اور اربوں کی منی لانڈرنگ کے بعد بھی یہی کہنا تھا کہ ہم صادق بھی ہیں اور امین بھی ہیں۔ شکر ہے یہ ’کافر بے حیا بھی ہیں اور بے شرم بھی‘ ورنہ ’با حیا، با شرم، صدیق اور امین سیاستدان استعفیٰ کہاں دیتے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔