کیا ہم عہد قاتلاں میں زندہ ہیں؟


سنا تھا!

لہو ارزاں نہیں ہوتا، ایک ایک قطرہ قیمت رکھتا ہے۔ بہتا لہو کسی کا بھی ہو، درد کے سوتوں کو چھوتا ضرور ہے- لیکن یہ کیسا لہو ہے جو اپنے اور پرائے کی تمیز لئے ہوئے ہے؟ یہ کیسا لہو ہے جس کا بہنا کسی کو تو درد کی لہروں سے آشنا کر دے اور کوئی اک نا معلوم سا سکون محسوس کرے- یہ کیسا لہو ہےجو آپ کے اندر سے آتی اس آواز کو بھی دبا دے کہ ” یہ ظلم ہے،  بربریت ہے ” کیونکہ ساتھ ہی اک اور سرگوشی ہورہی ہو  کہ یہ تو دشمن ہے،  یہ تو گستاخ ہے،  یہ تو مشرک ہے،  یہ تو تیرے مسلک کا نہیں- اس کے ساتھ یہی ہونا چاہئے-

سچ پوچھئے!

تو ہم سب میں ایک قاتل پنپ رہا ہے،  ایسا قاتل جس کی نگاہ میں اس کی رائے سے اختلاف کرنے والا، اس کے مسلک کی ترجمانی نہ کرنے والا، اس کے سیاسی نظریے کے مخالف بات کرنے والا، صرف اور صرف ایک ہی سزا کا حقدار ہے اور وہ ہے موت-

اور ہمارے اندرکا یہ قا تل جسے مجرم قرار دے دے تو پھر اسکی کوئی دلیل قابل قبول نہ کوئی  ثبوت قابل تسلیم، بس فیصلہ صرف موت-

سوشل میڈیا پر ایک نظر ڈالیں۔ کسی بنیادی اختلاف کے حامل مخالفین کی رائے پرکھیں،  الفاظ کا چناؤ دیکھیں،  دلائل سنیں،  جذباتیت، سطحیت،  دشنام ترازی۔ غرضیکہ  ہر غیر سنجیدہ رویہ چھایا نظر آئے گا۔  اوراگر آپ بھی کسی سوچ کے حامی سمجھے جاتے ہیں تو اپنے دل میں اٹھنے والے جذبات کا تجزیہ آپ خود کر سکتے ہیں.

اسی بارے میں: ۔  کازو ایشی گورو۔ 2017 کا نوبل انعام یافتہ ادیب

مشعال کے المناک قتل کے بعد کا منظرنامہ سب کے سامنے ہے ، بیانیوں کی لمبی فہرست ہے- مرحوم کا برہنہ لاشہ، لہو کی سرخی، نوحہ پڑھتی انسانیت بھی اپنے اور پرائے کا فرق اس طرح نہیں پاٹ  سکی جیسا حق تھا.

ادلب میں موت سے پتھر ہونے والی متحیر نگاہیں،

والد کے گود میں گردن نہوڑائے دو معصوم لاشے بھی “ادھر ہم ادھر تم “کے بیانئے کو نہیں بدل سکے- یمن کے معصوم حوثی کا قتل کسی کے لئے عام اور کسی کے لئے خاص-

حلب کسی کے لئے موضوع نوحہ اور کسی کے لئے ہمدردی بٹورنے کی کاوش –

لسانیت کے تراشے ہوئے بت تو اتنے مستحکم کہ ملک کے کئی شہروں میں اپنے اپنے ہم زباں قاتلوں کا خنجر اٹھانا اور کشتوں کے پشتے لگانا قوم کی خدمت اور عمل کا ردعمل-

اور جس کا ہماری طرح کچھ بس نہ چل سکے اس کے لئے ہر ہندوستانی واجب القتل، اور ہر وہ شخص واجب القتل جسے میرا مولوی واجب القتل کہہ دے-

کیا ہم اک عہد قاتلاں میں جی رہے ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مدثر اقبال عمیر کی دیگر تحریریں
مدثر اقبال عمیر کی دیگر تحریریں

مدثر اقبال عمیر

مدثر اقبال عمیر بلوچستان کے ضلع جعفر آباد سے تعلق رکھتے ہیں۔ خود کو حساسیت کی بیماری میں مبتلا بتاتے ہیں- لفظ کا احترام کرتے ہیں اور لکھنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔

muddasir-iqbal-omair has 2 posts and counting.See all posts by muddasir-iqbal-omair