سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ اور فیصلے میں وکی پیڈیا کا تاریخی حوالہ


ہم جب بھی بحث میں کسی کو لاجواب کرنے کے لئے جلدی سے گوگل کر کے وکی پیڈیا کا حوالہ دیتے تھے تو سوشل میڈیا پر موجود جہلا ہمارا خوب مذاق اڑیا کرتے تھے کہ یہ وکی پیڈیا کا حوالہ دیا کرتا ہے۔

حالانکہ ہم نے بارہا یقین دلایا کہ وکی پیڈیا معلومات کا ایک معتبر ماخذ ہے مگر پاکستان میں منطق کہاں چلتی ہے۔

شکر ہے کہ آج سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے میں بھی وکی پیڈیا کا حوالہ دیا گیا ہے اور اب ہم اس حوالے کو ان کٹ حجتی کرنے والوں کو دکھا دکھا کر ان کو خوب شرمندہ کیا کریں گے جو ہمیں شرمندہ کیا کرتے تھے۔

عزت مآب جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس تاریخی فیصلے میں شیخ حماد بن جاسم الثانی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ ان کی بہت عزت کرتے ہیں مگر ان کے بارے میں انٹرنیٹ پر موجود معلومات شیخ صاحب کی کوئی اتنی اچھی تصویر پیش نہیں کرتی ہیں۔ عزت مآب جج صاحب نے سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے میں اپنی طرف سے کوئی کمنٹ نہ دینے کی وضاحت کرتے ہوئے وکی پیڈیا پر موجود شیخ صاحب کے بارے میں پیج کے کچھ حصے کاپی پیسٹ کیے ہیں جو واقعی چشم کشا ہیں۔

پیج کے لیگل ایشوز سیکشن کو سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلے میں استعمال کرتے ہوئے شیخ حماد کا کردار بے نقاب کر دیا گیا ہے۔

وکی پیڈیا کے مطابق شیخ حماد پر برٹش ائیرو انجینئرنگ نے گھپلے کے شبے میں کیس وغیرہ کر دیا تھا جو کہ بعد میں واپس لے لیا گیا۔

قطر کے سابقہ سرکاری ترجمان فواذ العطیہ نے بھی شیخ صاحب پر الزام عائد کیا کہ ان کے ایجنٹوں نے پندرہ ماہ تک ان کو حبس بیجا میں رکھ کر تشدد کیا۔ فواذ العطیہ کے مطابق شیخ صاحب ان کی بیس ہزار مربع میٹر زمین پر زبردستی قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ شیخ صاحب نے یہ تمام دعوے مسترد کر دیے اور بتایا کہ وہ سفارتی اور ریاستی تحفظ رکھتے ہیں۔

نہ صرف یہ بلکہ وکی پیڈیا کے اس سیکشن میں جناب نواز شریف کے لئے لکھے گئے پاناما لیکس والے خط کا بھی حوالہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ خط بنیادی طور پر سنی سنائی باتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مبینہ طور پر شیخ حماد کی کمپنیوں کو اربوں ڈالر منافع دینے والی گیس کی ڈیل بھی نواز شریف صاحب کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے دی گئی ہے۔

وکی پیڈیا کے ان اقتباسات کو دیکھ کر ہم بھی قائل ہو چکے ہیں کہ یہ شیخ حماد بن جاسم الثانی نامی شخص ایک اچھا آدمی نہیں ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہمارے لئے زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب اگر کسی نے ہم پر اعتراض کیا کہ تم یہ وکی پیڈیا کو حوالے کے طور پر کیسے استعمال کر سکتے ہو، تو ہم اسے بتا دیں گے کہ یہ تو اتنا معتبر حوالہ ہے کہ سپریم کورٹ بھی اہم ترین مقدمات میں اسے حوالے کے طور پر استعمال کرتی ہے۔

امید ہے کہ سپریم کورٹ کی اس نظیر (پریسیڈنٹ) کو دیکھتے ہوئے اب ماتحت عدالتیں بھی مختلف افراد اور معاملات کے بارے میں رائے سازی کرتے ہوئے وکی پیڈیا کو اہمیت دیا کریں گی۔

یہ بھی امید کی جاتی ہے کہ اب اگلے ساٹھ دن تک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو مدد دینے کی خاطر تحریک انصاف اور مسلم لیگ کے کارکنان جی جان سے وکی پیڈیا کو اپ ڈیٹ کرنے میں مصروف ہو جائیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 567 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar