آج بازار میں پابجولاں چلو


aqdas sandhila فیض صاحب کو لاہور جیل سے عدالت لے جایا جا رہا تھا ۔ راستے میں گاڑی خراب ہونے پر ہتھکڑی لگا کرتانگے پر بٹھا دیا گیا۔جب ضلع کچہری کے قریب پہنچے تو بہت سے لوگ فیض صاحب کو دیکھنے کے لیے اکٹھے ہو گئے۔ فیض احمد فیض جب واپس جیل پہنچے تو انہوں نے یہ نظم لکھی۔

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو

…. ….

شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو
آج بازار میں پابجولاں چلو

ان کی زندگی اور ان کی لکھی ہوئی نظمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کس طرح اپنے نظریے کی خاطر انہوں نے ہر طرح کی تکلیف برداشت کی۔ ان پر غداری کے مقدمے چلائے گئے، قید و بند کی صعوبتوں سے ان کو ڈرانے کی کوشش کی گئی مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اسی طرح اگر حبیب جالب کی بات کی جائے تو انہوں نے بھی اپنے وقت کےفرعونوں سے ٹکر لی اور بیش بہا مصائب کا سامنا کیا۔ فیض اور جالب میں ایک قدر مشترک تھی اور وہ تھی اپنی نظریاتی اساس پر یقین اور اس کی حفاظت کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی دینے کاجذبہ۔ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق …. اسی طرح یہ حضرات بھی بے خوف و خطر کود جانے پر یقین رکھتے تھے۔اور یہی نظریاتی لوگوں کا خاصابھی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی صحت مند نشونما کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پر مختلف نظریات کو پنپنے کا موقع دیا جائے، مختلف نظریات سے تعلق رکھنے والوں کو اظہار رائے کی آزادی ہو۔کسی بھی معاشرے کا حسن یہی ہے کی وہاں پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کی رائے کا احترام کیا جائے اور ان پر کسی دوسری سوچ کو مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے کہ جب بھی کوئی اسٹیٹس کو کے خلاف بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اس پر غداری کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اگر اپنی سوچ رکھنا،انسانی حقوق کی بات کر نا، معاشرے کی برائیوں سے پردہ اٹھانا، حکمرانوں کے ظلم و استبداد کے خلاف آواز اٹھانا، معاشرے کی بڑھتی ہوئی تفریق کو نہ ماننا اگر غداری ہے تو خدا کرے میرے ملک میں ہر روز لاکھوں غدار پیدا ہوں۔ جس معاشرے میں سوچ کی اور اظہار کی آزادی نہ ہو، جس معاشرے میں ظلم بڑھتا رہے اور اس کو روکنے والا کوئی نہ ہو، جس معاشرے کے نظریات اشرافیہ اور حکمرانوں کی مرضی کے ہوں ، وہ مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو کہیں دن تو ہم بھی کہیں دن، وہ امید کی اجلی کرن کو کہیں رات تو ہم بھی کہیں رات ، تو اس معاشرے میں انسان نہیں زندہ لاشیں رہتی ہیں۔ اور ان زندہ لاشوں کے اندر جب ان کے نظریات گل سڑ رہے ہوتے ہیں، ان کے حقوق کا خون ہو رہا ہوتاہے تو اس کے نتیجے میں دو مختلف حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یا تو ان لاشوں کا تعفن معاشرے کے احساسات کو منجمد کر دیتا ہے ، یا پھر کوئی نئی سوچ کاکوئی ایسا پھول کھلتا ہے جو اس تعفن زدہ معاشرے کی بدبو سے ٹکرا جاتا ہے اور اس کے اثر کو زائل کر دیتا ہے۔ کبھی کبھی ایسے معاشرے میں سوچ کے لاکھوں دئیوں کے بجھنے کے بعد کوئی ایسی لو جلتی ہے جو وقت کی آندھیوں سے بھی نہیں بجھتی۔۔۔یہی دیا اور یہی خوشبو اپنی آنے والی کئی نسلوں کو سنوار جاتے ہیں۔

مختلف ادوار میں آزادی اظہار کو کئی بہانوں سے سلب کرنے کی کوشش کی گئی۔ کبھی اسے مذہب کے خلاف سازش کہا گیا تو کبھی انسانیت کے خلاف۔ موجودہ دور میں نیشنلزم یا قوم پرستی کی اصطلاح یہ کام بہت احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے۔ جس کو چپ کروانا ہو اس پر اینٹی نیشنل یا قوم کا دشمن ہونے کی مہر ثبت کیجئے اور پھر تماشا دیکھئے۔

دیکھو! کس طرح منہ پھاڑ کر ہسپتال بنانے کی بات کر رہا ہے۔ ارے ان پیسوں سے ٹینک خریدیں یا تمہارے لیے ہسپتال بنائیں ؟۔ ہونہہ! قوم کا دشمن

عورتوں پر تیزاب پھینکنا اب اتنی بھی بری بات نہیں کہ تم اس پر ڈاکومنٹری بنا کر دنیا کو دکھاتی رہو۔ تم تو چاہتی ہی یہی ہو شرمیں عبید کہ پاکستان کا نام بدنام ہو۔

ارے تم عیسائیوں اور ہندوؤں کے حقوق کی بات کہاں سے اٹھا کر لے آئے؟ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس میں ہندو¿ں اور عیسائیوں کے کوئی حقوق نہیں۔تم یقیناً انڈیا کے ایجنٹ ہو۔

Kanhaiya_Kumar_2734474gادھر ہم کچھ لوگوں کو انڈیا کا ایجنٹ کہہ رہے ہیں، اور ادھر آج کل انڈیا میں کچھ طلبا پر پاکستان کے ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ان طلبا میں سے ایک کا نام ہے کنہیا کمار۔یہ موصوف جے این یو کی سٹوڈنٹ یونین کے صدر ہیں اورجرم صرف اتنا ہے کہ سوچ کی اور اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔کہتے ہیں کہ

ہم لے کر رہیں گے آزادی
ظلم و ستم سے آزادی
آتنگ واد سے آزادی
جاگیرداری سے آزادی
ذات پات سے آزادی
کنیا کیا چاہے ؟
آزادی!
کشمیر سے کیرالہ تک
ہم لے کے رہیں گے آزادی!

ہر سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص یہ بات جانتا ہے کہ کنہیا کمار یا عمر خالد (جس کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے پاکستانی ایجنٹ کہا جارہا ہے) ہندوستان کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہے۔یہ صرف اپنے معاشرے کے استحصال زدہ طبقات کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں ، ان کا تعلق نہ کسی مذہب سے ہے، نہ ہی یہ کسی مخصوص قوم کے باشندے ہیں، یہ کسی سیاسی پارٹی کے رکن بھی نہیں…. یہ محض انسان ہیں، اور انسانوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ انسانیت ہے اور اس نظریے کی خاطر آج یہ اور ان جیسے اور بہت سے لوگ ہندوستان کی سڑکوں پر آج پابچولاں چل رہے ہیں۔ طرح طرح کی مشکلات جھیل رہے ہیں مگر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ رہے۔ مجھے رشک آتا ہے ان بہادر طلبا پر۔ میری خواہش ہے کہ آزادی کے یہ پروانے اپنی منزل ضرور حاصل کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے نظریے کی خوشبو ، ان کے جوش سے منور امید لی لو نہ صرف ہندوستان میں، بلکہ پورے خطے میں پھیلے گی۔ میری یہ بھی دعا ہے کہ پاکستان میں بھی فیض اور جالب کے بعد سے نظریے کے لیے جان دینے والوںکا جو قحط پیدا ہوا ہے وہ کسی طرح ختم ہو۔ میرے ملک میں بھی ایسے لوگ ہوں جنہیں قوت گفتار ملے، جرا ت کردار ملے۔

اقدس طلحہ نے لاہور یونیورسٹی سے ابلاغیات عامہ میں ایم فل اور جامعہ پنجاب سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا ہے۔ اس کے علاوہ پی ایم ایس کا امتحان بھی پاس کرچکی ہیں۔ اقدس نے انسان دوستی اور سچ سے وابستگی رکھنے والوں کے ظہور کی دعا کی ہے۔ برٹولٹ بریخت نے لکھا تھا کہ سچ اتنا ہی آگے بڑھتا ہے، جتنا ہم اسے آگے دھکیلتے ہیں۔ سچائی کے لئے ایک آدھ آواز سے کام نہیں چلتا، ہم سب کو چاہیے کہ سچ کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے حصے کا سچ لکھیں


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “آج بازار میں پابجولاں چلو

  • 23-02-2016 at 11:07 pm
    Permalink

    Good job. Many likes, jisko qalam milay uska farz hai k haq addaa karay. Keep writing. May Allah bless all of us

  • 24-02-2016 at 12:09 pm
    Permalink

    فیض صاحب کے عظیم شاعر ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن نظریاتی کمٹمنٹ کے حوالے سے ان کا جالب جیسے نہایت کھرے آدمی سے کیا مقابلہ۔
    اللہ بخشے، مرحوم نے پارٹی لائن کی پیروی میں سامراج کی فوجی نوکری بھی کی۔
    تقسیم کے بعد بھی کئی سمجھوتے کر کے سرکار دربار میں مقام پایا۔
    عمر بھر سامراج کی مخالفت کرتے رہے لیکن جب افغانستان پر سوویت قبضے کی بعد افغان مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے تو حرام ہے کہ سالہا سال تک اسکی مذمت میں ایک لفظ بھی کہنا نصیب ہوا ہو۔ ہاں لینن ایوارڈ کسی الماری سے نکال، بغل میں داب، پتلی گلی سے دیارِ مغرب کی راہ لی، جسے جلاوطنی کا نام دیا،، اور دلِ من، مسافرِ من لکھ کر داد سمیٹی۔ حالانکہ انھیں کسی نے جلاوطن نہیں کیا تھا۔
    دوسری طرف جالب سمیت انکے ہزاروں لاکھوں ادبی ساتھی اور کروڑوں عوام اپنے حصے کا عذاب جھیلتے رہے۔ کوڑے کھاتے اور جیلیں کاٹتے رہے۔ لیکن کوئی کامپرومائز نہ کیا۔
    سو، سچ کی صلیب پر لٹکنے کے حوالے سے ،،، فیض = جالب
    نہیں، ہر گز نہیں

  • 05-03-2016 at 12:23 pm
    Permalink

    بہت عمدہ، بہت خوب۔ جیتے رہئیے۔

Comments are closed.