پانامہ کا چٹپٹا فیصلہ اور میڈیا


اپریل 2016 سے لے کر اپریل 2017 تک چلنے والا پانامہ کا ہنگامہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تھما نہیں بلکہ پکچر ابھی باقی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے نے دونوں جماعتوں کو خوش کردیا ہے۔ دونوں جانب مٹھائی بانٹی جارہی ہے۔ اب ساٹھ دنوں تک چینلیز کے پیٹوں کو پھر سے بھرنےکا سامان مل گیا ہے۔ کچھ مستقل مزاج اینکرز ایسے بھی تھے جنہوں نے پورا ایک سال صرف پانامہ پر پروگرامز کیے۔ اس دوران دھماکے بھی ہوئے، سرحد پر حالات خراب رہے، جنگ کا سماں چھایا رہا، مشعال کے ساتھ جو انسانیت سوز ظلم ہوا لیکن انہوں نے پانامہ سے آگے کچھ نہ سوچا۔ ان کے پائے استقلال میں کمی نہ آئی۔ اب دوبارہ ان کی چاندی ہوگئی ہے۔ اب پھر ان کی دکانداری چلے گی پھر افواہوں کا بازار گرم ہوگا۔ روز ایک نئی منی ٹریل سامنے لائی جائی گئی۔ جب کہا جائے گا کہ یہ ثبوت عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں تو سب بھاگ جائیں گے۔ جیسے دھاندلی والے کمیشن میں ہوا تھا۔ میڈیا پر شور زیادہ تھا ثبوت کا اور کمیشن کے سامنے کم۔

پچھلے سال آئی سی آئے جے کی ویب سائٹ سے شروع ہونے والی کہانی تھمی تو نہیں لیکن پاکستانی میڈیا نے پچھلے ایک سال سے اس پر جو ہوش ربا کہانیاں سنائیں ان کو سن کر لوگ طلسم ہوشربا کو بھول گئے۔ بعض صحافیوں کے بارے میں تو لگتا تھا کہ ان کی روح وزیراعظم کے اندر حلول کر گئی ہے۔ کچھ کی اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اندر سرگرداں نظر آئی۔ اس لئے ان کی سوچ، اندر کی ساری باتیں ان کو پتا ہوتی تھی۔ پاکستان کے اندر جو بھی واقعہ ہوتا تھا اس کو پانامہ سے جوڑ دیا جاتا تھا۔ کوئٹہ میں وکلاء بم دھماکے میں مارے گئے تو کہا گیا کہ پانامہ سے توجہ ہٹانےکی سازش ہے۔ سرحد پر حالات کشیدہ ہوئے تو اس پر یہ بیان داغ دیا گیا کہ مودی نے اپنے یار کو بچانے کے لئے سرحدی خلاف ورزی شروع کردی ہے۔ وزیراعظم علاج کے لئے باہر گئے تو پہلے تو اس کے آپریشن کو ڈرامہ کہا گیا اور مسلسل پروپیگنڈے سے ایک مخصوص طبقہ فکر کو یہ باور کرادیا گیا کہ دل کا نہیں بالوں کا ٹرانسپلانٹ تھا۔ اس پر بھی بس نہیں کیا پھر اس افواہ کو بڑی شدومد سے پھیلانے کی کوشش کی جاتی رہی کہ وزیراعظم کو عسکری قیادت سے پیغام مل گیا ہے اب واپس نہیں آنا۔ لیکن وہ واپس آئے گئے اور صحافت کی جو تعریف ہم نے پڑھی تھی وہ اپنی جگہ شرمندہ ہوکر بیٹھی رہ گئی۔

ایک اعلی پائے کے تحقیقاتی صحافی جس کی کتاب بطور ثبوت عدالت میں پیش کی گئی اور عدالت نے اس کو ردی قرار دے دیا تھا۔ چینلیز پر بیٹھ کر بہت سےسی کہانیاں سناتے رہے ایک کہانی تو بہت ہی دلچسپ تھی۔ اس مایہ ناز صحافی کے بقول پاکستان کے وزیر خزانہ رات کو قطر گئے کوئی کاروباری ڈیل کی پھر امریکہ گئے وہاں پانامہ کے وزیرخزانہ سے ملے اور پانامہ پر کوئی ڈیل کی ان کے ساتھ۔ اس اعلی پائے کے جید صحافی نے فاصلہ ناپنا بھی ضروری نہ سمجھا جو قطر پاکستان، پھر امریکہ اور پاکستان کے درمیان ہے جس کو راتوں رات وزیرخزانہ نے طے کرلیا۔ چلیں ان کی اس کہانی پر ہم ایمان لے بھی آتے وہ تو برا ہوا کہ پانامہ کے وزیرخزانہ نے سرکاری بیان جاری کردیا کہ امریکہ میں ان کی ملاقات وزیرخزانہ سے نہیں سیکٹری خزانہ سے ہوئی۔ چلیں مان لیا کہ غلطی ہوگئی لیکن غلطی در غلطی تو پھر جان بوجھ کر نہیں ہوتی۔ موصوف نے کچھ دن پہلے بیان دیا بلکہ بریکنگ نیوز دی کہ فیصلے کی کاپی وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئی ہے وزیراعظم سے منظوری کے لئے یہ کیسی منظوری تھی جس میں کلین چٹ نہیں ملی۔

ایک اور چینل پر تین دانش ور بیٹھتے ہیں جن کے پاس اتنی اندر کی خبریں ہوتی ہیں کہ لگتا ہے وہ وزیراعظم ہائوس میں چھپ کی بیٹھے رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کردیا تھا کہ مسلم لیگ والوں نے سپریم کورٹ کے کمپوٹر ہیک کر کے فیصلہ چوری کرلیا ہے اب اپنی مرضی کا فیصلہ لکھ رہے ہیں۔ پتا نہیں یہ کیسا فیصلہ چوری کرکے لکھا کہ جو تحریک انصاف کی مرضی کا آگیا۔ کل تینوں دانش ور فرما رہے تھے کہ فیصلے کے ڈر سے نواز لیگ والوں نے پنجاب ہائوس میں بندے اکھٹے کرلئے تاکہ سپریم کورٹ پر حملہ کرسکے۔ پتا نہیں وہ بندے کہاں حملہ کرنے چلے گئے۔ اس پورے سال میں بےچارے بہت زور لگاتے رہے کاکڑ فارمولے کا لیکن فارمولہ لگا نہیں۔ لیکن ابھی ان کا کام ختم نہیں ہوا مزید ساٹھ دن مل گئے لوگوں کو لطف اندوز کرنے کے لئے۔

پاکستانی میڈیا پر ڈاکٹرز بہت چھائے ہوئے ہیں۔ لیکن جو بات ڈاکٹر قیامت کی ہے وہ کسی اور میں کہاں۔ ڈاکٹرصاحب اتنی دلچسپ کہانیاں سناتے ہیں کہ آپ ایک لمحہ کے لئے نہیں بور ہوسکتے۔ موصوف پہلے قیامت لاتے رہے پھر استعفی مانگتے رہے۔ ملک سے حکمرانوں کے بھاگنے کی نوید بھی سناتے رہے لیکن سب سنا سنایا ہی رہ گیا۔ ردالفساد آپریشن سے پہلے ملک میں جو دہشت گردی کی ایک لہر چلی اسپر ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ وزیراعظم کو ایک پیغام بھجوایا جارہا ہے جس کو میں نے راستے سے پکڑ لیا ہے اس کے مطابق وزیراعظم کو کہا جارہا ہے کہ حالات ہم نے خراب کردیے ہیں اب ایمرجنسی لگا کر پانامہ کی سماعت کو ایک سال کے لئے ملتوی کردیا جائے۔ ملتوی تو نہ ہوئی مکمل ضرور ہوگئی۔ جس دن سماعت کا آخری دن تھا تو وزیراعظم ایک سرکاری دورے پر ترکی تھے تو شور ڈال دیا کہ نا اہلی کے ڈر سے وزیراعظم بھاگ گئے اب واپس نہیں آئیں گے۔ وزیراعظم واپس بھی آگئے اور فیصلہ محفوظ بھی ہوگیا۔ جس پر ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ چونکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس ہے تو اس لئے فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ روز اپنی عدالت لگا کر فیصلہ بھی سناتے ہیں ان کو پتا تھا کہ کیا فیصلہ آرہا ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اتنا زبردست فیصلہ آرہا ہے کہ جیل تیار ہے اس کے بعد بہت سے لوگوں کو ہتھکڑیاں لگیں گی۔ وزیراعظم کے لئے تو اڈیالہ جیل تیار بھی کروا دی تھی۔

اس میڈیا گردی میں دو دانشوروں کا ذکراگر نہ کیا گیا تو بات ادھوری رہ جائے گی جن کے مطابق پاکستان میں اتنی کرپشن ہوچکی ہے کہ کیلکیولیٹر بھی گننے سے قاصر ہے۔ اب جس دن سے سماعت شروع ہوئی اس دن سے وہ روز ایک پیشن گوئی کرتے تھے۔ کبھی کہا جاتا کہ 15 نومبر سے پہلے کیس میں ایک ٹرننگ پوائنٹ آئے گا ایک ایسا نام آئے گا کہ مریم، حسین، حسن سب کو بھول جائے گئے۔ وہ اس کا نام ہوگا جو ان جائیدادوں کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔ پھر انہوں نے انکشاف کیا کہ سپریم کورٹ کو لندن سے کسی نے کلاسفائیڈ دستاویزات بھجوا دی ہیں۔ جلد ہی سپریم کورٹ اس کو طلب کرکے گواہی لیں گی انتظار ہی رہا اس گواہی کا۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں درجنوں اس طرح کی خبریں روز مستند اوراچھی ساکھ والے صحافیوں کی طرف سے دی جاتی رہیں۔ لیکن آفرین ہے اس میڈیا پر کہ ان خبروں کے غلط ہونے پر ایک دفعہ بھی معذرت نہ کی بلکہ اسی شد و مد سے اپنا کام جاری رکھا۔

اب ساٹھ دن اور مل گئے ہیں۔ تو تیار رہیں مزید ہوش ربا چٹپٹی خبروں کے لئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔