پبلک باتھ روموں میں سیاست کا عروج


کسی بھی پبلک ٹوائلٹ میں جانا ہو تو اکثر عجیب صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ بندہ کنسنٹریشن سے کوئی کام کر ہی نہیں سکتا۔ دیواروں پر، دروازوں پہ، جہاں بھی ذرہ برابر جگہ ہوتی ہے لوگ اپنی ذاتی ترجیحات کا اظہار بہت ہی کھلے ڈلے طریقے سے کرتے ہیں۔ انسان کی بے نیازی ایک حد تک ہو سکتی ہے، بیٹھے بیٹھے کچھ اور کام نہ ہو تو سامنے دروازے پر بہرحال نظر جائے گی۔ بہت سے فون نمبر لکھے ہوں گے جن کے ساتھ مطلوبہ نتائج کی شرطیہ گارنٹی ہو گی۔ کچھ یار لوگ تجریدی آرٹ کے شاہکار اعضاء کی تصویری نمائش چھوڑ گئے ہوں گے۔ کہیں کسی دل جلے نے سابقہ دوست کا نمبر انتقاماً لکھا ہو گا کہ فیض عام کا باعث ہو اور کسی جگہ لگی لپٹی رکھے بغیر دل کی بات انتہائی بے ساختہ انداز میں لکھی ہو گی۔ ایسا نظر آئے گا جیسے کوئی شدید تشنہ کام تھا جو بے چارہ صحراؤں سے آیا اور جب کچھ بھی نہ کر سکا تو وہاں موجود دیواروں پر اپنا غصہ نکال گیا۔ سرکاری سکولوں کے واش روم اس اجنبیت سے مستثنی ہوتے ہیں، وہاں تمام واقعات و کردار گمنام نہیں ہوتے، جس استاد یا کلاس فیلو پر غصہ نکالنا ہو تو ان کے ناموں کے ساتھ فرضی ازار کشائی کی رسم منعقد کی جاتی ہے۔ ہاں لکھائی جان بوجھ کر ایسی رکھی جاتی ہے کہ پکڑائی نہ ہو سکے۔

ائیرپورٹ پر بھی یہی حال ہوتا تھا۔ پاکستان میں کسی بھی ائیر پورٹ کے پبلک واش روم جو اندرون یا بیرون ملک روانگی والی جگہ کے باہر ہوں، جہاں یار لوگ سی آف کرنے آتے ہوں، وہاں دیکھ لیا جائے اندازہ ہو جائے گا۔ اس مرتبہ ایک خوش گوار حیرت ہوئی۔ کراچی ائیرپورٹ پر تقاضا ہوا تو چکر لگا، اب کی بار اندر پورے دروازے پر صرف اور صرف سیاسی نعرے تھے، دعوے تھے یا لیڈروں سے وفاداری کا اظہار تھا، کچھ بھی اور نظر نہیں آیا۔ غیر اخلاقی باتیں، فحش بیانات، اعضاء کی تصویری شاعری یا اخلاقی کجروی کی حسرتوں سے متعلق ایک بھی بیان موجود نہیں تھا، اور یہ کمال تھا۔ یعنی لوگوں کا مسئلہ اب جنسی گھٹن کے بجائے سیاسی گھٹن ہو چکا ہے۔ کراچی کی حد تک دیکھا جائے تو یہ سارا منظر نامہ کچھ سمجھ میں آتا ہے۔ چند عبارتوں پر بات کر لی جائے۔

ایک صاحب کے مطابق ہاکستان کی ترقی اور یہاں موجود جمہوریت کے دشمن عمران خان اور شیخ رشید ہیں۔ عوام کو ان سے جلد نجات کی خوشخبری سنائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قائد تحریک عنقریب وطن واپس آ کر مہاجر عوام کو دوبارہ پلیٹ فارم مہیا کریں گے۔ پھر دوبارہ یہی اعلان کیا گیا ہے کہ الطاف بھائی بہت جلد واپسی کا اعلان کریں گے۔ اپریل کی ایک تاریخ کو پانامہ معاملے میں تاریخ ساز دن قراد دیا گیا ہے، بہرحال یہ پیش گوئی اب ایکسپائر ہو چکی۔ پانامہ کا جو یادگار فیصلہ آج ہوا، وہ کچھ دن میں شاید یہاں رقم ہو۔ بنی گالہ اور راولپنڈی کے سیاستدانوں کو مینار پاکستان پر کچھ سزا وغیرہ دینے کی خواہش کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے عزائم میں ناکام ہو چکے ہیں۔ چند سطروں میں پھر سے قائد کی مراجعت کا اعلان موجود ہے۔ سب سے آخری لائن جوابی طور پر کسی ستم ظریف نے باریک بال پین سے نہایت تکلیف میں لکھی ہے، ”الطاف کا جو یار ہے، وہ ملک کا غدار ہے۔ “ غداری کے تمغے بانٹنے والے کسی وقت بھی فارغ نہیں بیٹھتے، اس اولوالعزمی اور کاز سے وابستگی پر دلی خوشی ہوئی۔ اس قدر طویل غور و فکر کے بعد یہ خواہش ہوئی کہ دو تین دروازے اور دیکھ لیے جائیں۔ وہاں بھی یہی سب کچھ تھا۔ قائد کی واپسی کے بارے میں خوش خبری ہر دروازے پر تھی، ہاں ایک جگہ پیپلز پارٹی کے بارے میں کچھ گستاخی موجود تھی، جو ایسی تھی کہ وہیں سجتی ہے، ادھر بس گزارا مزارا کیجیے۔

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ کسی باضابطہ تحریک کا نتیجہ نہیں تھی، نہ کوئی جلسہ تھا نہ میٹنگ تھی، نہ رکن بنائے گئے۔ ایک تحقیق یہ تھی کہ باغیوں نے روٹی کے ذریعے اس کا پورا پلان بنایا یا کہہ لیجیے پیغام دور دور تک پھیلایا۔ بس روٹی پکائی اور تقسیم کی گئی، پھر کہا جاتا کہ اسے دوسرے لوگوں میں بانٹ دو۔ ”یہ کسی ذہین و فہیم ہندوستانی کا روٹی تقسیم کرکے نفسیاتی طور پر دباؤ بنانے کا ایک نایاب طریقہ تھا۔ ایک دیہاتی یاشہری خاموشی سے آتا ایک دو روٹی کسی بھی شخص کے ہاتھ میں پکڑاجاتا۔ لینے والا نہ صرف اس کو تقسیم کرتا بلکہ دو چار روٹی خود بھی بنوا کر دوسرے لوگوں تک پہنچادیتا۔ یہ تحریک جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ لکھنؤ، مدراس، اندور، متھرا، میسور، پنجاب، بہار، جھانسی اور یوپی کے چھوٹے بڑے شہروں میں معمولی آٹے سے بنی ان گھڑ سی چپاتی گردش کر رہی تھی۔ لکھنؤ میں انگریزوں کے خبر نویس باٹ مل کی رپورٹ بھی یہی تھی۔ گویا یہ ایک چنگاری تھی جو خود بخود لوگوں کے ذہنوں میں چٹکتی۔ ایک ایسا جذبہ تھا جو خود بخود لوگوں کے دلوں میں مچلتا۔ روٹی کو دیکھ کر از خود لوگوں کے دلوں میں اس کو بنوانے اور باٹنے کا خیال پیداہوتا۔ یہ ایک ایسی آواز تھی جو لوگوں کے کانوں میں سرگوشی کرتی کہ بیدار ہوجاؤ، جاگ جاؤ، اٹھ کھڑے ہو۔ (اقتباس؛ حکیم حامد تحسین)“

تو اب یوں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پابندیوں اور الطاف حسین کی چند ذاتی بے احتیاطیوں کی وجہ سے یہاں تک نوبت آ چکی ہے کہ دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے غریب عوام بند آنکھوں خواب دیکھتے ہیں یا جاگتے ہوئے روٹی تحریک قسم کا آئیڈیا نہ ہونے پر ہر بیت الخلا میں واپسی تحریک چلائی جاتی ہے۔

ایک اور چیز بہت دلچسپ دکھائی دی۔ جن باتھ روموں کے اندر انگریزی طرز کا سسٹم تھا یعنی سکون سے تشریف رکھا جائے اور فراغت حاصل کی جائے، وہاں کسی دروازے یا دیوار پر کچھ بھی نہیں لکھا تھا۔ یہاں تک کہ بار بار پینٹ کرنے اور مٹانے کے نشان بھی موجود نہیں تھے، گویا کبھی کچھ لکھا ہی نہیں گیا۔ یعنی سیاست کی ہو یا جنس کی، شدید گھٹن اسی طبقے میں ہے جسے ماڈرن زبان میں غریب عوام کہا جاتا ہے۔ وہی عوام چاہے جوتوں سمیت ان سیٹنگ کموڈز پر بیٹھ جائے لیکن حرام ہے جو دل کے پھپولے وہاں کہیں دیواروں پر پھوڑے ہوں یا دروازے کالے کیے ہوں۔ ظاہر ہے، جو کچھ ہو گا وہاں ہو گا جہاں انہیں اپنائیت کا احساس ہو، اور یہ بھی کیا خوب ہی احساس ہے۔

ویسے اس تحقیق کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکومت پبلک واش رومز میں کھڈی کموڈ ختم کر کے وکٹورین کموڈ کو رواج دے تو دیسی عوام باتھ روموں میں لکھنا بند کر سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 259 posts and counting.See all posts by husnain