لڑکوں‌ میں‌ برتھ کنٹرول


پاکستان کی آبادی 1947 میں‌ صرف 50 ملین تھی اور آج 200 ملین ہے۔ اس وقت دنیا میں سب سے تیز رفتاری سے آبادی میں‌ اضافے والا ملک پاکستان ہے۔ اگلے 40 سال میں‌ آبادی کے دگنا ہوجانے کی توقع ہے۔ صرف اپنے خاندان کو دیکھ کر بتا سکتی ہوں‌ کہ دادا، دادی، نانا اور نانی، صرف چند لوگوں‌ کے آج چار سو لوگ بن گئے ہیں جو ساری دنیا میں‌ پھیلے ہوئے ہیں۔ انڈیا، پاکستان، امریکہ، انگلیڈ اور کچھ مڈل ایسٹ میں۔ حالانکہ ان کے آج بھی چند ہی ہونے چاہئیے تھے۔ پہلے زمانے میں‌ لوگوں‌ کو کچھ برتھ کنٹرول کا پتا نہیں‌ تھا لیکن اب تو پتا ہے۔ نانا نے تین شادیاں‌ کیں۔ ایک پہلے بچے کی پیدائش میں‌ مرگئیں، ایک بریسٹ کینسر سے اور تیسری ان کے مرنے کے بعد کئی سال بیوہ رہیں اور چھوٹے بچے خود پالے۔ دادا کی طرف کی ہسٹری زیادہ معلوم نہیں۔ ان کے بھی کافی سارے بچے تھے وہ لوگ اس وقت مرگئے تھے جب ابو چھ سال کے تھے۔ جب بڑھاپے تک بچے پیدا کیے جائیں‌ تو ان کو اپنے بڑے بچوں‌ پر ڈال کر دنیا سے جانا پڑ جاتا ہے۔ مرنے کو تو کوئی بھی کبھی بھی مر سکتا ہے لیکن کچھ پرابلمز کی پیش گوئی کرکے ان سے بچاؤ ممکن ہے۔ یہ مسائل نسل در نسل چلے آرہے ہیں‌ اور یہ آج کی دنیا اور اس کی زندگی سے ”ان کمپیٹبل“ ہیں۔ یعنی یہ ساتھ ساتھ نہیں‌ چل سکتے۔

1800 میں‌ دنیا کی آبادی دو بلین سے بھی کم تھی، آج ساڑھے سات بلین ہوگئی ہے۔ صاف پانی، اینٹی بایوٹکس، ویکسینز اور انسولین اور اس کے بعد میڈیکل سائنس میں‌ ترقی کی وجہ سے اموات کی شرح‌ میں‌ کمی آئی ہے۔ زمین میں‌ لامتناہی ریسورسز نہیں‌ ہیں۔ جانور ناپید ہورہے ہیں اور ماحولیات میں‌ خرابی کے باعث دنیا ہم پر سکڑ رہی ہے۔ اگر اس وقت ہوش نہ کیا تو وہ دن دور نہیں‌ جب مزید بدحالی، ہجرت اور خون خرابا پھیل جائے گا۔

میں‌ اور ایک اسٹوڈنٹ جو میڈیکل کالج میں‌ داخلہ لینے کی کوشش کررہا ہے، ہیلتھ فیئر سے واپس کلینک آرہے تھے تو نیوی گیشن سسٹم راستہ بتا رہا تھا۔ اسٹوڈنٹ نے پوچھا کہ اس کو فلاں‌ کمپنی سے جاب آفر آئی ہے لیکن وہ میڈیسن سے باہر ہے۔ میں‌ نے اس سے کہا کہ اصلی زندگی ایک نیوی گیشن سسٹم کی طرح‌ نہیں‌ ہوتی جس میں‌ ہم منزل کا ایڈریس ڈال دیں ‌اور وہ بتاتا جائے کہ کہاں سے سیدھا ٹرن لینا ہے، کہاں‌ سے بایاں‌ ٹرن، کہاں‌ سے مڑ کر واپس آنا مناسب ہے اور کہاں چلتے رہنا ہے۔ جہاں‌ بھی ہم پہنچ جاتے ہیں‌ وہ ان بہت سارے چھوٹے بڑے فیصلوں‌ پر منحصر ہوتا ہے جو ہم نے کیے۔ اس میں‌ کیا صحیح‌ ہے اور کیا غلط، وہ اس کو خود کرنا ہوگا یہ سوچ کر کہ وہ زندگی میں‌ بنائے ہوئے گول کی طرف لے جائے گا یا اس سے دور۔

جب بیٹی ہوئی تو اس کی وجہ سے یو ایس ایم ایل ای کا پہلا پارٹ کینسل کرنا پڑا۔ یہ بات سمجھ ‌ آگئی کہ جہاں‌ چاہ رہے ہیں وہاں‌ ایسے نہیں‌ پہنچا جا سکے گا۔ اسی لئے اپنی زندگی، بچوں‌ اور ان کے مستقبل کے لئے کچھ فیصلے کیے جس کی وجہ سے ہمارے بچوں‌ کا مستقبل محفوظ ہوا۔ جب وہ دونوں‌ چھوٹے تھے تو اوکلاہوما کالج سیونگ اکاؤنٹ بنا دیا جس میں‌ خود بخود ٹیکس نکلنے سے پہلے تنخواہ سے پیسے کٹ کر جمع ہوتے۔ ایسا لگتا ہے کہ 18 سال بہت لمبا عرصہ ہے لیکن اتنا ہے بھی نہیں۔

گرمیوں‌ کی چھٹیاں‌ لمبی ہوتی ہیں اس میں‌ بچوں‌ کو بزی رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ دو سال پہلے انہوں‌ نے سنڈی کو فالو کیا تاکہ وہ دیکھیں‌ کہ ایک وکیل کیسے کام کرتی ہے۔ امریکہ میں‌ ایک فیصد آبادی قانون دان ہے جو دنیا میں‌ سب سے زیادہ ہے۔ ایک فیصد آبادی جیل میں‌ ہے جو کہ دنیا میں‌ سب سے زیادہ ہے۔ اس ملک میں‌ ہی کیا تمام دنیا میں‌ ایک کامیاب زندگی کے لئے قانون جاننا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ جو لوگ قانون جانتے ہیں‌ اور ان کے پاس طاقت ہوتی ہے تو وہ اپنے فائدے کے لئے قانون بنا لیتے ہیں اور بنے ہوئے قوانین کو توڑ مروڑ کر بھی اپنا فائدہ نکالتے ہیں۔

جب میں‌ اپنی بیٹی کو سنڈی کے گھر سے لینے گئی تو اس کے کو ورکرز کی پارٹی تھی اور ایک بوڑھے جج صاحب اس کو پول کھیلنا سکھا رہے تھے۔ مجھ سے ہاتھ ملا کر کہتے ہیں کہ میں‌ جج پال ہوں‌ اور امید ہے کہ آپ سے کورٹ روم میں‌ ملاقات نہیں‌ ہوگی تو میں‌ نے ان سے کہا کہ میں‌ ڈاکٹر مرزا ہوں‌ اور امید ہے کہ آپ سے ہسپتال میں‌ ملاقات نہیں ‌ہوگی۔ کیسا لطیفہ بن گیا۔ اگر ان کو برا لگا تو انہوں‌ نے ظاہر نہیں‌ کیا۔ دنیا بہت آگے نکل گئی ہے، اس میں‌ ایک بچے کو پالنا، معاشرے کا فعال رکن بنانا اور ایک اچھی زندگی گذار سکنا اس صورت میں‌ ممکن نہیں‌ کہ ہم اپنی صحت کا خیال نہ کریں، گیارہ بچے پیدا کریں جن کو تعلیم یافتہ نہ بنا سکیں اور ان کو ایسا کوئی ہنر نہ آتا ہو جس سے وہ اپنے پیروں‌ پر کھڑے ہوسکیں۔ ایسے افراد کبھی بھی ایک مضبوط معاشرہ تشکیل نہیں‌ دے پائیں‌ گے۔

سکھر کی ایک آنٹی جو اب بالکل بوڑھی ہوچکی ہیں انہوں‌ نے کہا کہ دونوں‌ میاں‌ بیوی کی بالکل کم عمری میں‌ شادی کردی گئی تھی۔ پہلے سال میں‌ حمل سے ہوگئیں۔ اس بارے میں‌ کوئی ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ جب ان کو درد ہونے لگتے تو چھت پر جاکر اکیلے روتی رہتی تھیں۔ ان کے شوہر کو پتا نہیں‌ تھا کہ کیسے مدد کرنی ہے۔ ہماری آنٹیوں‌ کی جینیریشن! کچھ مر گئیں‌ کچھ بچ گئیں۔ لوگ 25 سالہ آدمیوں‌ کی 13 سالہ بیویوں‌ کی تصویریں‌ رسالے میں‌ دیکھ کر لڑکیوں‌ پر افسوس کرتے ہیں لیکن ان آدمیوں‌ کی زندگیاں‌ بھی قابل رشک نہیں۔ اگر ان کی بیوی صحت مند اور خوش نہ ہو تو وہ خود بھی ایک صحت مند اور خوش زندگی نہیں‌ گذار سکیں گے اور ان کے بچے آگے چل کر کامیاب انسان نہیں‌ بن پائیں‌ گے۔

یہ اسٹوری ایک اصلی مریضہ نے لاڑکانہ میں‌ بتائی تھی کہ ایک نو سال کی لڑکی کی شادی کرائی گئی تو اس کو اتنا برا یورینری انکانٹننس ہوگیا کہ ہر وقت پیشاب بہتا رہتا تھا۔ اس کے وجود سے اتنی بدبو آتی تھی کہ کوئی اس کے پاس نہیں‌ پھٹکتا تھا۔ آخر کار شوہر نے اس کو قتل کرکے جان چھڑائی۔ کم عمری کی شادیاں کرانے سے پہلے صحت کے مسائل کے بارے میں سوچ لینا چاہیے۔ تھوڑی سی عقل سے کام لے کر اتنی بدصورتی معاشرے سے کم کی جاسکتی ہے۔ بچے کم ہوں‌ گے تو ایسے دھڑا دھڑ ٹھکانے بھی لگانے کی ضرورت نہیں‌ آئے گی۔ تعلیم تک رسائی ہو تو وہ بچی بڑی ہو کر ایک سرجن بھی بن سکتی تھی جو اس بیماری کے شکار افراد کے لبلبے کی مرمت کرسکتی تھی۔ گاؤں‌ میں‌ لیڈی ڈاکٹر نہیں‌ لیکن لیڈیز تو ہیں۔ ان کو ہی تعلیم و تربیت دے دیں‌ تو بن گئی ان گرون لیڈی ڈاکٹر۔

اب تک ہمیشہ خواتین پر توجہ رہی کہ کس طرح‌ ان کو ایجوکیٹ کریں، برتھ کنٹرول کے بارے میں‌ بتائیں وغیرہ۔ کچھ عرصہ پہلے توجہ لڑکوں‌ میں‌ برتھ کنٹرول کی طرف ہوئی وہ ایسے کہ سنڈی اور اس کے شوہر کے ساتھ ڈنر کررہی تھی تو دنیا کے حالات پر بات نکلی، انڈیا کے بارے میں‌ کہ وہاں‌ کتنی زیادہ آبادی ہے۔ ان کم عمر خواتین کا بھی ذکر نکلا جو انتہائی پھٹے پرانے کپڑوں میں‌ ننھے منے بچے گود میں‌ لے کر بھیک مانگ رہی تھیں۔ دلی میں‌ انڈیا گیٹ کے پاس لائن سے رکشے کھڑے تھے جن کو مشین نہیں‌ بلکہ آدمی کھینچ رہے تھے۔ ایک معذور تھی جس کے بچے لکڑی کی بنی ہوئی وہیل چئر کو دھکا لگا رہے تھے۔ یہ میرے لئے ایک تکلیف دہ منظر تھا۔

سنڈی بہت پڑھی لکھی ہے۔ چارلی کی عمر 70 سال ہے۔ وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں۔ ان کو بچپن سے ڈسلیکسیا تھا اس لئے انہوں‌ نے ساری زندگی مکان تعمیر کیے۔ یہ ان کی چوتھی شادی ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے بہت محبت ہے اور وہ کہتے ہیں‌ کہ ساری زندگی میں‌ نے خود کو اتنا خوش اور مطمئین محسوس نہیں‌ کیا۔ سنڈی اب بھی لا پریکٹس کرتی ہے لیکن چارلی ریٹائر ہوچکے ہیں اور جب بھی جاؤ تو مکان کا کوئی نہ کوئی حصہ ری ماڈل ہورہا ہوتا ہے۔ آئے لائک چارلی کیونکہ وہ جیسا ہو ویسا ہی بتا دیتے ہیں۔ نقلی بن بن کر لوگ تھک نہیں‌ جاتے؟ پھر یاد کیسے رہے گا کہ اصل میں‌ کون تھے۔ جیسے مووی ”لائف اینڈ ڈیتھ آف پیٹر سیلرز“ میں‌ جب پیٹر سیلرز کی ماں‌ اس سے ملنے آتی ہے تو وہ ایک کردار کے بعد دوسرے کردار کے جملے بولتا ہے۔ جب واپسی میں‌ ٹیکسی ڈرائیور ان سے پوچھتا ہے کہ آپ کی اپنے بیٹے سے ملاقات کیسی رہی تو وہ بیک ویو مرر میں‌ پیٹر سیلرز کو دیکھتے ہوئے کہتی ہیں‌ کہ اس سے نہیں‌ ملی۔

چارلی ایک دن کہنے لگے کہ زندگی میں‌بہت سارے غلط فیصلے کیے، نوجوانی کے دنوں‌ میں‌ دماغ میچور نہیں‌ ہوتا اور میں‌ نے اپنی دوسری بیوی سے صرف اس لئے شادی کرلی تھی کیونکہ اس کی چھاتی بڑی تھی۔ سمجھداری آنے میں‌ ٹائم لگتا ہے۔ ان باتوں‌ کا مقصد یہ ہے کہ کچھ باتیں اور احساسات نارمل ہیں۔ ٹیسٹاسٹیرون ہارمون ٹین ایج میں‌ زیادہ ہوتا ہے اور دماغ میچور نہیں‌ ہوتا۔ عمر کے ساتھ ساتھ ٹیسٹاسٹیرون کم ہوتا جاتا ہے اور لڑنا بھڑنا، غصہ، چڑچڑاپن اور جنسی جذبات کمی کی طرف جاتے ہیں‌ اور ان کی جگہ سمجھ بوجھ اور بردباری لیتی ہے۔ لیکن جو فیصلے کم عمری میں‌ کیے ہوتے ہیں ان کو ساری زندگی فیس کرنا پڑتا ہے۔ چارلی نے کہا کہ اگر ایک نوجوان آدمی سے کہا جائے کہ یہ ہزار ڈالر لے لو اور واسیکٹومی کرالو تو وہ اس کا سارا دھیان اس بات پر ہوگا کہ ان ہزار ڈالر سے میں‌ کتنی تفریح‌ کرسکتا ہوں۔ جن لوگوں‌ کے بچے ہوچکے ہوں، ان کے لئے یہ ہمیشہ کے لئے مزید بچے پیدا نہ کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ اس پراجیکٹ پر حکومت اور نجی ادارے کام کرسکتے ہیں۔

کیلنڈر میتھڈ ایک پرانا طریقہ ہے اور سب سے زیادہ موثر نہیں‌ لیکن جہاں‌ اور کوئی طریقہ آسانی سے دستیاب نہ ہو وہاں‌ آزمایا جاسکتا ہے۔ خواتین میں‌ ماہواری کے چودھویں‌ دن اوویولیشن ہوتی ہے یعنی کہ اووری میں‌ سے اووم نکلتا ہے جو اسپرم کے ساتھ جڑ کر ایمبریو بناتا ہے۔ چودھویں‌ دن حمل ٹھہرنے کا چانس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ہر دفعہ ہی کانڈوم استعمال کیا جائے تو بہتر ہے لیکن یہ خاص طور پر اس وقت استعمال کیا جائے جب حمل کا چانس زیادہ ہو تو اس طرح‌ ان چاہے بچوں کی تعداد کم کی جاسکتی ہے۔

مزید معلومات کے لئے یہ ویڈیو دیکھی جا سکتی ہے۔
https://www.plannedparenthood.org/learn/birth-control/fertility-awareness

کم بچے ہوں تو شاید لوگوں کو ان کی زندگی کی کچھ اہمیت محسوس ہو۔ بظاہر ٹھیک نظر آنے والا معاشرہ ایک صلیب ہے جس پر بچے پیدا کر کر کے سولی پر لٹکائے جارہے ہیں۔ تالی دو ہاتھوں‌ سے بجتی ہے۔ اگر لڑکوں‌ کو ہی یہ سمجھ آجائے اور ان کو طریقے پتا چل جائیں تو وہ اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔

مزید تفصیلات اس ڈاکیومنٹ سے حاصل کی جا سکتی ہیں
http://www.reproductiveaccess.org/wp-content/uploads/2014/12/bc-men.pdf


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔