پانامہ کا ہنگامہ بیس برس تک یاد رہے گا


(مہر ارم)۔

با الآخر پانامہ کا فیصلہ آہی گیا اور کیا ہی خوب آیا کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار نہیں دیا تو اہل بھی نہیں۔ بلکہ یوں کہیے اہل اور نا اہل کے بیچ کھڑا کر دیا۔ اب ہم انہیں جہاں دیکھنا چاہیں وہ وہیں دکھائی دیں گے۔ اس طرح نہ صرف وزیرِ اعظم بلکہ بہت عرصے سے پانامہ کے ہنگامہ کی ستائی ہوئی عوام خود کو جہاں دیکھنا چاہے دیکھ سکتی ہے۔

کئی ماہ سے جاری یہ پانامہ کا ہنگامہ دھرنوی سیاست کی وجہ سے کئی قیمتی زندگیاں نگل چکا، پر لگتا ہے کہ ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ تو جناب ایسا ہے کہ تقریبا ڈیڑھ ماہ تک روزانہ کی بنیاد پر سنا جانے والا یہ پانامہ کیس ہر طبقے، شعبے اور ہر عمر کے شخص کے لئے انتہائی اہم کیس بن گیا ہے۔ اور کیوں نہ بنتا، آخر کو یہ معاملہ ٹیکس چوری سے بنائی جانے والی آف شور کمپنیوں اور جائیداد کا تھا اور یہ وہ پیسہ تھا جو غریب عوام روز مہنگائی کی چکی میں پس کر ٹیکس کی صورت میں ادا کرتی ہے۔ اگر یہ پیسہ ان کی بہتری پر ہی استعمال نہ ہو تو عوام کے لئے یہ صدمہ ہی جاں گسل ہے۔

یہ دیکھتے ہوئے کچھ اپوزیشن جماعتوں نے اپنے رنگین ہاتھوں سے اس کرپشن کو بے نقاب کرنے کا بیڑا اٹھایا اور یہ سب کرتے کراتے ایک ایسی سستی تفریح میں بدل گیا جس میں حکمرانوں اور اپوزیشن کے سدھائے ہوئے بندر روز سپریم کورٹ کے احاطے میں کیمرے کے سامنے اپنے مالکوں کی بجائی جانے والی ڈگڈگی پر شب و روز تماشہ د کھا کر اپنے اپنے مالکان کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت دیتے رہے۔

اس تماشے کی دھوم سپریم کورٹ تک پہنچی تو وہاں بھی روزانہ کی بنیاد پر یہ کیس سنا گیا۔ روز ثبوت اور شواہد تھیلے بھر بھر کے فراہم کیے گئے اور جواب میں کسی ’ کبوتر ‘ کی لائی قطری چٹھی بھاری پڑ گئی۔ بے چارء عوام اپنا کام کاج چھوڑ کے ٹی وی کے آگے براجمان یہ تماشہ دیکھتے رہے۔ پھر یوں ہوا کہ پاکستان میں پہلی بار خبر ہوئی کہ کوئی شے محفوظ کرلی گئی ہے اور یہ اس کیس کا فیصلہ تھا۔

اب جب فیصلہ آیا ہے تو جج صاحبان نے ثبوت ناکافی ہونے کے باعث جے آئی ٹی بنا دی۔ اب پتہ نہیں جے آئی ٹی ایسا کون سا منتر پڑھے گی کہ ثبوت بند تالوں سے نکل کر کمیٹی کے سامنے کورنش بجالائیں گے۔ عوام کی نظریں تو عدالتوں میں سب سے اعلیٰ عدالت پر مرکوز تھیں کہ شاید یہاں سے کچھ بہتر فیصلہ دہشت و نفرت سے بھری ماحول کو انصاف کی خوشبو سے معطر کردے۔ پر لگتا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو پیش کردہ شواہد کی روشنی میں اپنے فیصلے پر اعتماد نہیں تھا کہ وہ خود عادلانہ فیصلہ کر پاتے تو انہوں نے حل کے طور پر اپنے گلے سے بلا اتار کر جے آئی ٹی کے گلے میں ڈال دی۔ اب جو بھی فیصلہ ہو گا وہ انہی کی حتمی رپورٹ پر ہو گا۔ اصولاً تو جب تک جے آئی ٹی اپنا کام کرتی ہے تب تک وزیرِ اعظم کو اخلاقی طور پر خود کو کلین چٹ ملنے تک مستعفی ہو جانا چاہیے پر لگتا یہی ہے کہ جے آئی ٹی بھی ثبوتوں کو بند تالوں سے نکال نہیں پائے گی۔

رہے معصوم عوام تو وہ ایک بار پھر ثبوت ثبوت کے کھیل سے بے وقوف بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔ وہ کہاوت تو آپ نے سنی ہو گی کہ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناچے گی۔ ناچیں گے تو صرف ڈگڈگی کے بندر جنہوں نے آج کے تاریخی فیصلے پر اپنے مالکان کو خوش کرنے کے لئے مٹھائیاں بانٹنی شروع کر دیں اورآج ہم سرخرو ہو گئے کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیے ہیں۔ تو چلیے صاحب ہم بھی منہ میٹھا کر لیں۔

آخر بیس سالوں تک یاد رہ جانے والے فیصلے نے منہ جو کڑوا کر دیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔