توہین مذہب اور سماجی رویہ


 سوال یہ نہیں کہ مشال خان نے توہین مذہب کا ارتکاب کیا تھا یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کسی بھی فرد کو سزا دینے کا اختیار کسی دوسرے فرد یا ہجوم کو دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ یہ واقعہ ملک کے کسی دور دراز علاقے یا علم کی روشنی سے محروم کسی جنگل میں رونما نہیں ہوا۔ کسی متشدد ملا یا مذہبی رہنما کو اس کا دوش نہیں دیا جا سکتا، مشال کو مارنے والوں کا تعلق معاشرے کے اس حصے سے ہے جسے سماج کا باشعور طبقہ سمجھا جاتا ہے۔ سماج کی الجھنوں کو سلجھانے کے لئے عوام کو جن کی رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کتنے فیصد شہری ہیں جو سکول اور کالج سے نکلنے کے بعد تحصیل علم کے لئے یونیورسٹی میں جاتے ہیں؟ پندرہ یا بیس فیصد؟ شائد اس سے بھی کم، اور اس سے بھی کم تعداد میں وہ اساتذہ اور یونیورسٹی کی انتظامیہ، جن پر اعتماد کرتے ہوئے والدین اپنے جگر گوشوں کو تعلیم و تربیت کے لئے ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے مشال کے قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، ہرروز ایک نیا انکشاف ہوتا ہے۔ مشال توہین مذہب کا مرتکب ہوا تھا یا نہیں، ریاست کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے لیکن صوبے کی پولیس کے سربراہ اور یونیورسٹی کے استاد ضیااللہ ہمدرد کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اب تک کی دستیاب معلومات کے مطابق مشال سے وہ گناہ سرزد ہی نہیں ہوا جس کی اسے سزا دی گئی۔ مرکزی ملزم وجاہت کا اعترافی بیان بھی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ ایک سازش کے تحت یہ سارا ڈرامہ رچایا گیابظاہر جس کا مقصد ذاتی انتقام تھا۔

 کس چاؤ سے مشال کی ماں نے اسے تعلیم کے حصول کےلئے یونیورسٹی بھیجا ہو گالیکن اس کا نوربصر جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گیا۔ اس باپ نے بھی کچھ خواب بنے ہوں گے جس کے جگر کا ٹکڑا مسل کر درندگی کا ایسا بدترین مظاہرہ کیا گیاکہ انسانیت منہ چھپاتی پھر رہی ہے۔ مشال کی بہن وہ سہرا کس کے سر سجائے گی جسے بھائی کے سر سجانے کی وہ منتظر تھی۔ لیکن وہ چاؤ ختم ہو گئے، خواب بکھر گئے اور بھائی کے سہرے کی بجائے اس کی ماں جائی کو اس کی قبر پر پھول سجانے پر مجبور کر دیا گیا۔

ریاست کوبھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا، اب یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ تو معاملے میں ملوث ہے ہی لیکن پولیس بھی موقع پر موجود تھی،اپنا فرض نبھانے کی بجائے جس نے بدترین غفلت کا مظاہر ہ کیا۔

تادم تحریر یونیورسٹی ملازمین سمیت کئی ملزم اعترافی بیان بھی دے چکے ہیں لیکن مذہب کے ٹھیکیدارلیکن آج بھی اسی بات کی گردان کر رہے ہیں کہ توہین رسالت کا قانون کسی صورت نہیں بدلنے دیا جائے گا۔ کیوں بھائی؟ کیا یہ درست نہیں کہ توہین مذہب کا قانون اس انسان کی تخلیق ہے جسے غلطی کا پُتلا کہا جاتا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ اس قانون کی بنیاد قرآن و حدیث سے لی گئی لیکن کیا اس دور کا انسان عقل و دانش کے اس منصب پر فائز ہو چکا ہے جس کے بعد عروج کی کوئی منزل نہیں؟ کیا بحیثیت قوم ہم یہ بات ثابت نہیں کر چکے کہ توہین مذہب کے قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے؟ یہی اس قانون کا سب سے بڑا سقم ہے۔

مقام شکر ہے کہ اس سانحے کے ایک ہفتے کے بعد قومی اسمبلی کو بھی اس کی مذمت کا خیال آہی گیا۔ پہلی بار اس ملک کے منتخب ایوان نے اس بات کی ضرورت محسوس کی ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے اس قانون میں ترمیم ضروری ہے۔ پوری ایمانداری سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ طبقہ بھی راہ راست پر نہیں ہے جو علانیہ یا خفیہ طور پر توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کا حامی ہے۔ آزادی اظہار کی آڑ میں” آزادی آزار“ کی اجازت ہر گز نہیں دی جا سکتی۔ توہین رسالت سے متعلق ایک مضبوط ترین اور متوازن قانون ہمارے معاشرے کی ضرورت بن چکا ہے جو ہرگزرتے لمحے کے ساتھ اپنی اہمیت میں اضافہ کرتا چلا جائے گا۔ کسی بھی معاشرے میں کوئی بھی قانون مرتب کرتے ہوئے آپ اس مذہب کو نظر انداز نہیں کر سکتے جواس سماج کے رہنے والوں کی زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دی جاسکتی کہ ایک ہجوم اٹھے اوردین کے نام پر اپنی ذاتی تاویلات کی روشنی میں اپنے فیصلے مسلط کرنا شروع کر دے۔ خاص طور پر پاکستانی معاشرے میں جہاں ریاست کا رعب یا قانون کا خوف ہر آنے والے دن کے ساتھ ختم ہوتا جا رہا ہے۔

 ایک لمحے کے لئے فرض کئے لیتے ہیں کہ مشال خان توہین مذہب کا مرتکب ہوا، تو کیا اس کی جان لینے والے اتنا بھی جانتے ہیں کہ خودرحمت دوعالم ﷺکا دین توہین رسالت کے ’مجرم‘(ملزم نہیں مجرم،جس پر توہین رسالت ثابت ہو چکی ہو) کے ساتھ کس طرح پیش آنے کا حکم صادر کرتا ہے؟ فقہ حنفی کے مطابق( کہ پاکستان میں بسنے والوں کی غالب اکثریت اسی فقہ کے تحت اپنے مذہبی معاملات سرانجام دیتی ہے )اگرتوہین رسالت کا مجرم اپنے جرم سے توبہ کرلے تو اس پر سزانافذ نہیں کی جاتی ہاں مگر عادی مجرم کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے کہ عادی مجرم کا مدعا ومقصد معاشرے میں فتنہ پھیلانا ہے۔

ریاست کو آگے آنا ہوگا اس سے پہلے کہ کوئی اور مشال اپنی جان دے اور ہم اس کے خون کی سرخی اپنے ٹیلی ویژن کی سکرین پر سجا کر ریٹنگ کا اعزاز وصول کریں۔ ہمارے قانونی نظام میں سب سے بڑا سقم یہ ہے کہ سالہا سال نہیں بلکہ عشروں تک مقدمات تھانے اور کچہری کے درمیان فٹ بال بنے رہتے ہیں۔ اول تو چالان ہی پیش نہیں ہوتے اور اگر معاملہ عدالت کے روبرو پیش ہو بھی جائے تو ’انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار‘کی عملی تفسیر بن جاتا ہے۔ توہین مذہب کے قانون میں سب سے پہلی ترمیم یہ ہونی چاہیے کہ اس کامکمل چالان ایک خاص مدت جو نوے دن سے زیادہ نہ ہو عدالت میں پیش کردیا جائے لیکن اس سے بھی پہلے کرنے کا کام یہ ہے کہ توہین مذہب کے کسی بھی الزام کی تحقیقات کم از کم ایس پی سطح کا افسر کرے اور اگر وہ نوے دن میں تحقیقات مکمل نہ کر سکے تو اس کی سالانہ محکمانہ رپورٹ میں اس کی نااہلی کا ذکر ضرور کیا جائے۔ عدالت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ توہین مذہب کے کسی بھی مقدمے کا فیصلہ تین یا چار مہینے کی مقررہ مدت میں سنا دے۔ عدالت کی کارروائی کے دوران اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آندھی ہو یا طوفان، کسی قسم کا تعطل فیصلے میں تاخیر کا سبب نہ بن سکے۔ ضرورت ہو تو ریاست اس بات کا اہتمام کرے کہ گواہوں یا جج کی شناخت کو چھپانے کی اجازت دی جاسکے۔ مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد اپیل اور اس پر فیصلے کے لئے بھی وقت مقرر ہو اور حتمی فیصلے پر ایک مہینے کے اندر اندر عمل درآمد کردیا جائے۔ سب سے اہم ترمیم اس قانون میں یہ کرنی چاہیے کہ اگر کوئی بھی شخص کسی پر توہین مذہب کا جھوٹا الزام لگاتا ہے تو اس کوموت کی سزا دی جانی چاہیے، کیونکہ عوام کے مذہبی جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے وہ معاشرے میں فتنہ اور فساد پھیلانے کا مرتکب ہوتا ہے اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین جرم ہے۔

وقت آگیا ہے کہ علمائے حق بھی ایک بار پھر اکھٹے ہوں اور توہین مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف یک زبان ہو کر آواز بلند کریں،جس طرح دہشتگردی کے خلاف قوم متحد ہے اسی طرح اس معاملے پر بھی اتفاق رائے پیداکیا جائے۔ عوام کو یہ پیغام بہت واضح لفظوں میں دیا جانا چاہیے کہ توہین مذہب کا معاملہ انتہائی حساس ہے اور اس کی تحقیق بھی اسی قدر شفافیت کا تقاضہ کرتی ہے جس قدر یہ معاملہ حساس ہے۔ میری نظر میں اگرعلمائے کرام نے اس معاملے میں ایک مثبت اور بھرپور کردار ادا نہ کیا تو وہ اپنی رہی سہی عزت بھی کھو بیٹھیں گے اور جس ہستی کی عزت و تکریم ہمارے پیش نظر ہے، کل قیامت کے دن ہم ان کے سامنے ہی شرمندہ ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔