میاں نواز شریف پر اب نیویارک کی عدالت میں مقدمہ چلے گا


سپریم کورٹ کے تہلکہ خیز فیصلے کے زلزلے کی لہریں نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ اور یورپ تک میں محسوس کی گئی ہیں۔ فیصلے کی عبات کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے:

”سنہ 1969 کا ماریو پوزو کا مقبول ناول ’دا گاڈ فادر‘ مافیا فیملی کی پرتشدد کہانی بیان کرتا ہے اور مصنف کا منتخب کردہ شروعاتی کتبہ مسحور کن ہے۔ ’دولت کے ہر بڑے ڈھیر کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے‘۔ بالزاک۔ یہ مانا جاتا ہے کہ یہ کتبہ بالزاک کے اس جملے سے اخذ شدہ ہے، ’ایک عظیم کامیابی کا راز جس کی وضاحت دینا آپ کے لئے مشکل ہو دراصل ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو کبھی عیاں نہ ہو سکا کیونکہ اسے بہ حسن و خوبی سرانجام دیا گیا ہوتا ہے‘۔ “

دنیا بھر کی نظریں پاناما کیس کے فیصلے پر جمی ہوئی تھیں۔ امریکی سی آئی اے، اسرائیلی موساد اور بھارتی را نے بھرپور کوشش کی کہ سپریم کورٹ کے محفوظ شدہ فیصلے تک رسائی پا کر اسے تبدیل کر دیا جائے اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا جائے۔ خوش قسمتی سے گوالمنڈی میں مقیم پاکستانی ہیکروں کے گروپ ’لاہوری پنگا باز‘ نے ان دشمن ایجنسیوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا اور یوں کل 4/20 کو یہ فیصلہ سنا دیا گیا۔

فیصلے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح دنیا بھر میں پھیل گئی۔ جب سی این این پر یہ خبر چلی کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے میں نیویارک کی کارلیونی فیملی سے میاں نواز شریف کا تعلق جوڑا گیا ہے تو امریکی ہکا بکا رہ گئے۔ راتوں رات امریکی جج اپنی عدالتوں میں بیٹھ گئے۔ کارلیونی فیملی کے جرائم کا کرم خوردہ ریکارڈ کھنگالا جانے لگا۔ جن افراد نے یہ فلم دیکھ رکھی ہے وہ جانتے ہی ہیں کہ اپنے عروج کے دور میں گاڈ فادر ویٹو کارلیونی نے نیویارک کے جج اور سینیٹر خرید رکھے تھے۔ اس لئے کارلیونی فیملی کے جرائم کا ریکارڈ کچہری اور مال خانے میں نہ مل سکا۔

اسی بارے میں: ۔  ریاست کا بیانیہ کیا ہو؟

لیکن خوش قسمتی سے عدالتی پیش کار کی میز سے ماریو پوزو کا وہی معروف ناول نکل آیا جس کا ذکر پاکستان کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے شروع میں ہے۔ نیویارک کے نڈر جج رابرٹو کارلوس صاحب نے اس ناول کو بطور ثبوت قبول کرتے ہوئے پیش کار سے اسے ضبط کر لیا اور پوری رات اسے پڑھتے رہے۔ ہمارے مخبر کے مطابق صبح کو جج رابرٹو کارلوس صاحب عدالت میں تشریف لائے تو ان کا چہرہ سفید پڑا ہوا تھا کہ گاڈ فادر نے نیویارک میں قتل و غارت، قمار بازی اور بھتہ خوری کا ایسا بڑا نیٹ ورک قائم کیا ہوا ہے۔ گاڈ فادر کی اس مافیا کے ڈانڈے سسلی میں بھی جا ملتے ہیں۔

نیویارک کے جج رابرٹو کارلوس صاحب نے سسلی کے دارالحکومت پالرمو کے جج دونا دونی صاحب سے رابطہ قائم کیا تو ان کو مافیا کے مزید جرائم کا علم ہوا۔ دونوں ججوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب یہ سب نہیں چلے گا۔ ان دونوں معزز جج صاحبان نے ناول ’دا گاڈ فادر‘ کو بنیاد بناتے ہوئے مافیا کے گاڈ فادر کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے اور اس مقدمے میں میاں نواز شریف عرف ڈان کارلیونی کو مرکزی ملزم کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔

جج رابرٹو کارلوس صاحب نے نوٹ کیا کہ مافیا کے خلاف گواہی دینے کو کوئی تیار نہیں ہوتا ہے۔ کوئی اگر تیار ہو جائے تو وہ مار دیا جاتا ہے۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ اس مقدمے میں وکلا دلائل نہیں دیں گے اور گواہوں پر جرح نہیں ہو گی۔ بلکہ نو گھنٹے دورانیے پر مشتمل فلم ’دا گاڈ فادر‘ کا پارٹ ون، ٹو اور تھری دکھایا جائے گا اور ان جرائم کی حقیقی تصویر سامنے آتے ہی مافیا کے گاڈ فادر میاں نواز شریف عرف ڈان کارلیونی کو سزا سنا دی جائے گی۔

اسی بارے میں: ۔  گھوٹکی کے احتجاجی ڈاکو

نیویارک کے امریکی جج رابرٹو کارلوس صاحب نے فرد جرم عائد کرتے ہوئے کمنٹس لکھے کہ انہوں نے خود ذاتی طور پر گوگل پر میاں نواز شریف عرف ڈان کارلیونی صاحب کے کردار کی چھان بین کی ہے اور وکی پیڈیا پر موجود میاں نواز شریف عرف ڈان کارلیونی کے پیج سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ایک کرپٹ شخص ہیں۔ نہ صرف یہ کہ وہ ایک بڑا بزنس چلا رہے ہیں بلکہ انہوں نے ایسی بے شمار جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں جن کا ان کے ٹیکس کے کاغذات میں ذکر نہیں ہے۔ جج صاحب نے مثال کے طور پر ماڈل ٹاؤن لاہور کے نواز شریف پارک اور ملک بھر میں پھیلے ہوئے نواز شریف ہسپتالوں کا ذکر کیا کہ یہ جائیدادیں وائٹ منی سے بنائی گئی نہیں لگتی ہیں اور نواز شریف عرف ڈان کارلیونی ان کی ملکیت ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کے پیچھے مافیا کی آمدنی ہی ہے۔

پاکستانی عدالتوں اور پاناما کے کیس سے میاں نواز شریف صاحب بچ بھی گئے تو نیویارک کے جج رابرٹو کارلوس انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ ان کے پاس ماریو پوزو کا پورا ناول موجود ہے۔ مزید تحقیقات کے لئے جج رابرٹو کارلوس صاحب نے عدالتی پیشکار، کلرک اور قانون گو پر مشتمل ایک جوائنٹ انوسیٹی گیشن کمیٹی بھی بنا دی ہے جو کہ مارکیٹ سے ماریو پوزو کے تمام ناول خرید کر گاڈ فادر میاں نواز شریف عرف ڈان کارلیونی کے جرائم کی مکمل تحقیق کرے گی اور فیصلہ سنائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 729 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar