انتہاپسندی اور نوجوان نسل


(سید احسن وارثی)

پاکستان کو جس طرح سے انتہا پسندی کی آگ میں جھونکا جارہا ہے اس کو بہت ہی خوفناک نتائج مرتب ہوں گے۔ گزشتہ 16 سالوں سے ہر دور کے سربراہان کی جانب سے مختلف آپریشنز شروع کیے گئے کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوسکے مگر ہمیشہ دہشت گردی کی نرسریز پر ہاتھ ﮈالنے سے ہر دور میں اجتناب کیا گیا۔ نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دینے والی اور مذہبی منافرت پھیلانے والی کالعدم تنظیموں کی جانب سے آزادانہ نقل و حرکت اور ریلیوں اور اجتماعات کرنا نیشنل ایکشن پلان پر سوالیہ نشان ہے۔

انتہا پسندی کی آگ بہت تیزی سے ہمارے معاشرے میں پھیل رہی ہے جس سے اب ہمارے تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں رہے ہیں۔

حیدرآباد کی رہائشی لیاقت میﮈیکل یونیورسٹی کی طالبہ نورین لغاری 10 فروری کو لاپتہ ہوئی اس کے بعد مارچ میں نورین لغاری کی جانب سے بھائی کو فیس بک پر بھیجا جانے والا پیغام منظرعام پر آیا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ وہ خیریت سے ہے اور خلافت کی سرزمین پر پہنچ گئی ہے۔ فیس بک میسج کے حوالے سے نورین لغاری کے بھائی کا موقف یہ رہا کہ وہ جعلی فیس بک اکاونٹ سے پیغامات موصول ہوئے تھے۔ نورین لغاری کے اس پیغام کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کی تحقیقات مزید تیز کردی گئیں تھیں۔

نورین لغاری کے حوالے سے پہلے کہا جارہا تھا کہ وہ اغوا ہوگئی ہے اور پھر اس کے فیس بک میسج کے بعد یہ عام تاثر تھا کہ وہ شام پہنچ چکی ہے تاہم 15 اپریل کی رات کو پنجاب ہاوسنگ سوسائٹی لاہور میں ایک کارروائی کے دوران فورسز کی جانب سے اسلحہ، خود کش جیکٹس وغیرہ برآمد کیا گیا اور نورین لغاری کو بھی وہیں سے حراست میں لے لیا گیا۔ نورین لغاری کو تحویل میں لیے جانے کے حوالے سے خبر 17 اپریل کو ( آئی ایس پی آر ) میجر جنرل آصف غفور کی نیوز کانفرنس میں منظر عام پر آئی، جس میں نورین لغاری کا وﮈیو بیان سنایا اور دکھایا گیا جس میں نورین لغاری نے بتایا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ تھی ان کا مقصد خودکش حملے کرنا اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو اغوا کرنا تھا۔

نورین کا مزید کہنا تھا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا تھا وہ اپنی مرضی سے حیدرآباد سے لاہور آئی تھی۔

دہشت گرد انتہا پسند تنظیم میں شامل ہونے والی حیدرآباد کی طالبہ نورین لغاری نے اپنے وﮈیو بیان میں یہ کہا کہ اس کے پاس سے برآمد ہونے والی خودکش جیکٹس اور بارودی مواد ایسٹر کے موقع پر کسی چرچ میں خودکش حملے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ دہشت گرد اپنے مقاصد کےلیے بچوں کو استعمال کررہے ہیں، اور ساتھ ہی اس بات کا بھی عندیا دیا کہ نورین کی سماجی بحالی کی جائے گی۔ جس کے بعد اسے اس کے اہل خانہ سے ملوادیا جائے گا۔

یہاں پر اس بات پر غور کرنے کی ہے کہ ایک اعلی تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھنے والی نوجوان طالبہ کس وجہ سے دہشت گرد تنظیم کی جانب مائل ہوئی۔

یہ کوئی پہلا واقع نہیں جس میں کوئی تعلیمی ادارے سے تعلق رکھنے والا شخص دہشت گرد تنظیم کی جانب مائل ہوا ہو ایک سال قبل اپریل 2016 میں دہشت گرد انتہا پسندانہ سوچ کی جانب رخ کرنے والا آئی بی اے کا گریجویٹ طالب علم سعد عزیز بھی تھا جس نے انتہا پسندی کی آگ میں اندھا ہو کر مئی 2015 میں صفورا گوٹھ سانحہ میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک بس کو ہدف بنایا اور 45 افراد کو قتل کیا۔ اس نے اپریل 2016 میں سماجی کارکن سبین محمود کو اپنی دہشت گردی کا نشانہ بنایا۔

سعد عزیز اور اس کے دیگر ساتھی دہشت گردوں کو ملٹری کورٹس کی جانب سے سزا دے دی گئی ہے مگر اب جو سعد عزیز جیسے مزید کردار نورین لغاری کی صورت میں سامنے آرہے ہیں ان کے حوالے سے ہمیں کوئی ٹھوس حکمت عملی اپنانی ہوگی تاکہ نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچایا جاسکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “انتہاپسندی اور نوجوان نسل

Comments are closed.