بھارتی فوج کی چالاکیاں اسے لے ڈوبیں


(ریاض مسرور)۔
بی بی سی اردو سروس سری نگر۔

فی الوقت انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے مقامی میڈیا میں میڈیا وار کا نام دیا گیا ہے۔

9 اپریل کو محض ایک پارلیمانی نشست کے لیے ہوئے انتخابات کے خلاف عوامی مزاحمت ہوئی۔ اسے دبانے کی فوجی کارروائیوں میں 10 نوجوان ہلاک ہو چکےہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہیں۔

15 اپریل کو ووٹ شماری کے بعد جونہی انٹرنیٹ بحال کیا گیا، تو سوشل میڈیا پر کئی تکلیف دہ ویڈیوز جاری ہوئے۔

ایک ویڈیو میں بڈگام کے26 سالہ فاروق ڈار کو فوج کی جیپ کے بمپر کے ساتھ باندھ کر اسے قریہ قریہ گھما کر عبرت کی مثال قائم کرنے کوشش کا منظر ہے۔ دوسری ویڈیو میِں کم لڑکے کے ماتھے نیم فوجی اہلکار گولی مار دیتا ہے اور تیسری ویڈیو میں نیم فوجی گاڑی کے اندر چند لڑکے لہولہان ہیں اور روتے ہوئے پاکستان کو گالیاں دے رہے ہیں۔

15اپریل ہفتے کے روز ہی جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں مقامی کالج پر فورسز نے دھاوا بول دیا۔ اساتذہ اور طلبا و طالبات کی مارپیٹ ہوئی۔

اتوار کو وادی بھر میں ایک خوفناک خاموشی تھی۔ پیر کی صبح سکول، کالج اور یونیورسٹیوں کے احاطے میدان جنگ میں تبدیل ہوگئے۔ مختلف وردیوں میں ملبوس طلبا و طالبات نے شدید احتجاج کیا۔ فورسز نے معمول کے مطابق طاقت کا استعمال کیا۔ درجنوں لڑکے لڑکیاں زخمی ہیں۔

حکومت نے منگل اور بدھ کو کالج، یونیورسٹیوں اور سکولوں میں تدریسی عمل معطل کر دیا لیکن ہوسٹل نشین طالبات نے پھر احتجاج کیا۔ اب مزید دو دن کی چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  1965 کی جنگ اور میرا بچپن

حالات اس قدر کشیدہ ہیں کہ انڈین وزیراعظم نے کابینہ کے سینیئر وزراء، فوجی سربراہ جنرل بپن راوت اور سکیورٹی ایڈوائزر اجیت کمار ڈووال کے ساتھ بدھ کی شام ہنگامی مشاورت کی۔

میڈیا میں یہ عندیہ دیا گیا کہ حکومت ہند نوجوانوں کے غصے کو سمجھتی ہے اور حالات کو معمول پر لانے کے لیے مناسب اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

لیکن اسی روز کشمیر میں محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی کے ساتھ اقتدار میں شریک بی جے پی کے رہنما اور محبوبہ کی کابینہ کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے مظاہرین کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا: ’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، ان کا علاج جوتے ہے۔ ‘

فی الوقت کشمیر میں انتہائی غیریقینی کا ماحول ہے۔ تعلیمی سرگرمیاں ٹھپ ہیں، سیاحت متاثر ہے اور عام لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

یہاں کے اکثر سیاسی حلقے تازہ کشیدگی کی جڑ اُن ویڈیوز کو سمجھتے ہیں جو ووٹ شماری کے فوراً بعد ریلیز کیے گئے۔

اہم بات یہ ہے کہ ہندنواز حلقوں نے یک زبان ہوکر الزام عائد کیا ہے کہ یہ ’ظلم کی یہ فلمیں‘ سیکورٹی اداروں نے ’نفسیاتی حربہ‘ کے طور پر جاری کی ہیں، لیکن ان کے اُلٹے نتائج سامنے آئے ہیں۔ محبوبہ مفتی کے بھائی اور ان کی پارٹی کے رہنما تصدق مفتی کہتے ہیں: ’ویڈیوز میں سے کچھ تو فورسز نے خود عکس بند کیے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر وائرل کروائے ہیں۔ ‘

نیشنل کانفرنس اور عوامی اتحاد پارٹی اور دوسرے سیاسی حلقوں نے بھی ہوبہو یہی الزام عائد کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ نفسیاتی حربہ کام نہیں کرے گا کیونکہ لوگ اب نہایت حساس ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  بوڑھے پردیسی کا پیغام

جنوبی کشمیر کی ایک اور پارلیمانی نشست کے لیے 25 مئی کو ووٹنگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن جنوبی کشمیر میں کالج پر فورسز کی ریڈ سے وہاں حالات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ حکومت ہند مذاکرات کی بات کرتی ہے نہ نوجوانوں کو اجتماعات یا ریلیوں کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ایک عجیب گھٹن اور غیریقینی کی فضا ہے جس میں ہر کشمیری جیسے کسی آنے والے بڑے طوفان کا منتظر ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 903 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp