شہر کا آخری عام آدمی  


naseer nasirرشید امجد!

تم سے مِلنا درخت سے مِلنے جیسا ہے
جس طرح درخت ہر آنے والے کے لیے
اپنی شاخیں کھول دیتا ہے
اور چھاؤں پھیلا دیتا ہے
اسی طرح تم ہر ملنے والے کے لیے
اپنی باہیں وا کر دیتے ہو
اور اُسے باتوں کے ” غابے” میں یوں سمیٹ لیتے ہو
جیسے تمہاری شانتی بھری جنگلتا اُسی کی منتظر تھی
ڈرائنگ روم اُس کی خاموشی
اور تمہاری آواز سے بھر جاتا ہے
حسبِ موسم
آتشدان اور ایئر کنڈیشنڈ خود بخود اپنا کام کرنے لگتے ہیں
اور لائٹ کا بٹن آن ہوتے ہی
دروازوں اور کھڑکیوں کے پردوں پر
گلیاں اور محلے آباد ہو جاتے ہیں
سڑکیں ابھر آتی ہیں
سانسوں کی رکی ہوئی ٹریفک چلنے لگتی ہے
تمہارے اندر بسا ہُوا پرانا شہر
فوراً باہر نکل کر
قالیچہ زدہ فرش کی خالی جگہوں پر پَسر جاتا ہے
یہاں تک کہ بے تکلفی سے
صوفوں اور کرسیوں کے بازوؤں پر چڑھ جاتا ہے
اور اُس وقت تک بیٹھا رہتا ہے
جب تک ملاقی چلا نہ جائے
کتاب خوروں کے لیے
تمہاری لائبریری کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے
تمہارے لفظوں کے طویلے میں
علامتوں کے غاشیہ بردار
قرطاسی گھوڑوں کی زینیں کسنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں

11018868_850594185002046_223025249181207418_nرشید امجد!
تم علم بانٹتے اور ادب چھانتے ہو
حقیقتوں کو افسانے اور افسانوں کو حقیقتیں بناتے ہو
زمان و مکان کا جغرافیہ
اور تاریخ کا مستقبل لکھتے ہو
نوکِ قلم سے نکلے ہوئے ایک نقطے میں
کائنات کی دھڑکن بھر دیتے ہو
لیکن حیرت صد حیرت
کہ خود آفرینش سے اب تک
ایک نادیدہ مرشد کی انگلی پکڑے
راستوں کے ڈھیر پر کھڑے کھڑے چلے جا رہے ہو
جو ہر روز تمھیں تمھارے ہی گھر کے دروازے پر چھوڑ کر
اپنے آپ میں تحلیل ہو جاتا ہے
سچ بتاؤ! مرشد کے چغے میں
تم خود ہو یا کوئی اور؟
اصل میں تو ہر اچھا لکھاری اپنا مرشد آپ ہوتا ہے
لیکن تم شاید بتانا نہیں چاہتے
اور گِلِ حکمت کی طرح
یہ راز اپنے سینے ہی میں سوختہ رکھنا چاہتے ہو
اسی لیے باتیں کرتے ہوئے اتنے زور سے مسکراتے ہو
کہ تمہارے پیچھے کھڑا
ایک نظر نہ آنے والا مرشدی سایہ چونک اٹھتا ہے
اور معصومیت کے مارے صاف دکھائی دینے لگتا ہے

10313186_905312372863560_8286550903898773972_nرشید امجد!
جب سے دنیا دو تہذیبوں میں تقسیم ہوئی ہے
شہر میں طبقوں اور علاقوں کی لکیریں کھینچ دی گئی ہیں
بیٹھنے اور گھومنے کی جگہوں پر
خاردار تاروں کے لچھے پھیلا دیے گئے ہیں
سڑکیں متبادل راستوں میں بٹ گئی ہیں
اور یو ٹرن میلوں دور چلے گئے ہیں
آموزش گاہوں کے چوگرد فصیلیں اٹھا دی گئی ہیں
بلیک بورڈ پر لکھنے والے ہاتھوں سے
چاک لے کر پستول تھما دیے گئے ہیں
آپا دھاپی کے عالم میں
تخلیق کار تخلیق کے بجائے
جیتے جی بزورِ بازو اپنی تاریخ لکھنے اور لکھوانے میں لگ گئے ہیں
اور مرشد کا کچھ پتہ نہیں کہاں غائب ہے
عالمِ ابر و باد میں ہے
یا کسی دھوپ کھائے، پیڑ مارے پارک میں
درد خوردہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھے
لائیو مراقبے کی ریہرسل کر رہا ہے
یا کسی نو تعمیر شدہ انڈر پاس سے گزرتے ہوئے
ترقی کی رفتار دیکھ کر خوش ہو رہا ہے
سنا ہے اس نے تمہارے ساتھ واک پر جانا بھی چھوڑ دیا ہے
اور فزیو تھراپسٹ کے انتطار میں
جہاں تم بیٹھتے ہو
وہیں لاتعلق سا، صوفے پر نیم خواب، نیم تاب پڑا رہتا ہے

رشید امجد!
آئس ایج سے سائبر ایج میں

 خط آنے تو کب کے بند ہو چکے ہیں
ٹی سی ایس والا بھی ہفتوں کوئی پیکٹ دیے بغیر گزر جاتا ہے
اِس صورتِ حال میں
مرشد نے مشکل سے ای میل کرنا سیکھا تھا
اور فیس بُک پر بغیر تصویر کے پروفائل بنایا تھا
کہ اس کی آئی ڈی ہیک ہو گئی
کسی کو نہیں معلوم
مرشد میل ہے یا فیمیل
اب شہر میں عالمِ غیب کے باسیوں کی جنس
تمہارے علاوہ کوئی نہیں جانتا
سب ایک ذو جنسی روحانیت کے لبادے میں
دنیا داری کی دھمال ڈال رہے ہیں
اور ادب میں محبت محبت کھیل رہے ہیں

10257077_849286898466108_4094825813397273851_nرشید امجد!
تم بے زار آدم کے بیٹے تھے
اس لیے ریت پر گرفت نہ رکھ پائے
اور کسی سہ پہر کی خزاں
پت جھڑ میں خود کلامی کرتے ہوئے
بھاگے ہے بیاباں مجھ سے کا اعتراف کر بیٹھے
اور “باذوق حلقوں” سے تائب ہو کر
عام آدمی کے خواب دیکھنے لگے
کاغذ کی فصیل پر
عکسِ بے خیال بناتے ہوئے
گمشدہ آواز کی دستک میں کھو گئے
اور دشتِ خواب میں
ست رنگے پرندے کے تعاقب میں
ایک ایسے امارت کدے کی طرف نکل گئے
کہ صحرا کہیں جسے

رشید امجد!
جب شہر میں اور دل میں مارشل لا لگتا ہے
تو آوازیں اور دھڑکنیں خاموش ہو جاتی ہیں
اور سناٹا بولتا ہے
خبریں کہانیوں میں
اور کہانیاں علامتوں اور استعاروں میں
اور کردار فلمی اداکاروں اور پیکروں میں بدل جاتے ہیں
رشید امجد ! زندگی عجیب مخمصہ ہے
ہمیں مرنے سے نہیں مارے جانے سے ڈر لگتا ہے
تم ہی بتاؤ!
مادرِ رحم میں وہ جنین
جنہیں ربڑ کی نہیں اصلی گولیاں لگی تھیں
شہید ہیں یا غازی؟
وہ تو پیدا ہی نہیں ہوئے تھے
ان بچوں کی طرح
جو گٹر میں بہا دیے گئے
اور جو پیدا نہیں ہوئے وہ مر کیسے گئے ؟
اور جو مرے نہیں شہید کیسے ہو گئے؟
اور جو شہید نہیں ہوئے وہ غازی نہیں تو کیا ہیں ؟
کتنے سُکھی ہیں وہ بچے
جو تمہارے افسانوں میں
پیدا ہونے سے پہلے، مَرے بغیر مَر گئے

رشید امجد!
گملے میں اگا ہُوا شہر
تمہارے دم سے ہرا بھرا
اور جنگل جیسا وسیع و عریض ہے
اسے گملے سے نکال کر کہیں اور کاشت نہ کرنا
ورنہ یہ سوکھ کر ٹُنڈ مُنڈ ہو جائے گا
پہلے ہی ناکوں، رکاوٹوں اور خود کش حملوں نے
اسے جگہ جگہ سے زخمی کر دیا ہے
جس طرح اخبارات کلاہِ باران جیسے کالم نگاروں
اور چینلز بے چہرہ اینکرز سے بھر گئے ہیں
اس طرح شہر خاصان سے بھرتا جا رہا ہے
لیکن اس کی جڑیں اب بھی تمہارے جیسے لوگوں کے دلوں میں ہیں
جو عام ہوتے ہوئے بھی خاص الخاص ہوتے ہیں
شہر اور تم ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہو
دونوں کہیں اور ، کسی دوسری سر زمین میں جڑیں نہیں پکڑ سکتے
رشید امجد! تم شہر کے آخری عام آدمی ہو
اس کی لائف لائن ہو
تمہارے بغیر شہر بے اجل مارا جائے گا
اسے بچانے کے لیے
تمہیں بعد از مرگ بھی سزائے زیست بھگتنا ہو گی!!


Comments

FB Login Required - comments