نواز شریف کا استعفیٰ تو بنتا ہے!


پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں نہ تو کبھی انتخابات کو شفاف مانا گیا ہے اور نہ ہی انتخابی نتائج پر بننے والی حکومت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ 2013 میں برسر اقتدار آنے کے بعد میاں نواز شریف کو بھی اسی صورتحال کا سامنا رہا ہے جو وہ خود اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دوسری پارٹیوں کی حکومتوں کےلئے پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس پاناما پیپرز کے انکشافات نے پاکستان تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کا نیا موقع فراہم کیا تھا۔ گو کہ یہ بات بھی یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اگر پاناما پیپرز اور نواز شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کا معاملہ سامنے نہ آتا تو ملک کے ذہین سیاستدان حکومت کے خلاف مہم جوئی کا کوئی دوسرا بہانہ باآسانی تلاش کر لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے کے باوجود اسمبلیوں میں کم اور سڑکوں و جلسوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ اب انکشافات کی بنیاد پر چلنے والے مقدمہ کا فیصلہ سامنے آ گیا ہے۔ اس فیصلہ سے ملک کے سیاسی ماحول میں بہتری آنے کی بجائے، اس کی تندی و تیزی اور تلخی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ دو کے مقابلے میں تین ججوں نے وزیراعظم کو معزول کرنے کا فوری فیصلہ کرنے سے گریز کیا تھا۔ قانونی ماہرین اسے متوازن اور کلاسیکل وزڈم پر مبنی رویہ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود دو جج جو بینچ کے سینئر ترین جج تھے اور ان میں بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی شامل ہیں، اپنے اختلافی نوٹ میں وزیراعظم نواز شریف کو ناقابل بھروسہ قرار دے چکے ہیں۔ اس طرح ایک طرف مسلم لیگ (ن) کامیابی کے جشن منا رہی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن فیصلہ کو اپنی کامیابی قرار دے کر وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے تو فیصلہ سننے کے بعد کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا تھا۔ یوں تو وہ یہ مطالبہ انتخابات کے فوراً بعد سے کرتے چلے آ رہے ہیں تاہم مختلف اوقات میں اس کی وجوہات تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ پہلے انتخاب میں دھاندلی پر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا، پھر ماڈل ٹاؤن میں ہونے والی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر وزیراعظم سے استعفیٰ دینے کےلئے کہا گیا۔ گزشتہ برس پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا کہ ایک بدعنوان شخص ملک کا وزیراعظم نہیں ہو سکتا۔ یہ گردان سپریم کورٹ میں مقدمہ کی سماعت تک جاری رہی۔ اب اگرچہ سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلہ میں وزیراعظم کی معزولی یا استعفیٰ کی بجائے جے آئی ٹی JIT بنا کر اس کے ذریعے نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے مالی معاملات کی تحقیقات کروانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ خود ان تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔ جے آئی ٹی کو ہر دوہفتے بعد اپنی رپورٹ عدالت کو پیش کرنا ہوگی اور 60 دن کے اندر اس معاملہ کی تحقیقات مکمل کرکے عدالت عظمیٰ میں پیش کرنا ہوں گی تاکہ وہ یہ طے کر سکے کہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے مالی معاملات شفاف ہیں یا وہ کسی طرح بدعنوانی میں ملوث ہوئے ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹانے کےلئے کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس فیصلہ کو دونوں فریق اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں لیکن اپوزیشن اس کے ساتھ ہی وزیراعظم کا استعفیٰ بھی طلب کر رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے تو سپریم کورٹ کی تجویز کردہ جے آئی ٹی کو بھی مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے سرکاری افسروں پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی جو نواز حکومت کے ماتحت کام کرتے ہوں، کبھی بھی نواز شریف کے خلاف کام نہیں کر سکتی۔

اس طرح خواہ سپریم کورٹ کی خواہش نہ بھی ہو پھر بھی اس کا فیصلہ ملک میں سیاسی ماحول میں گرمی اور تلخی پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کا اندازہ ملک کے ہر شہری کو تھا۔ 2 ماہ پہلے جب فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، اس وقت سے یہی خیال تھا کہ عدالت کا فیصلہ معاملات کی وضاحت کرنے کی بجائے انہیں مزید الجھا دے گا اور اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔ تحقیقات کا فیصلہ 5 میں سے 3 ججوں نے کیا ہے۔ دو نے اپنے اختلافی نوٹس میں وزیراعظم کی معزولی کی سفارش کی ہے۔ اس حقیقت کی بنا پر بھی الزام تراشی کے ماحول میں اضافہ ہوا ہے۔ یعنی فیصلہ آنے کے بعد بھی ملک کے سیاستدان اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ فیصلہ کیا ہے۔ کیا یہ ملک کےلئے اچھا ہے۔ کیا اس سے بدعنوانی اور سیاسی کرپشن کا راستہ رک جائے گا۔ کیا سپریم کورٹ کی نگرانی میں جے آئی ٹی میاں نواز شریف کے مالی وسائل کی حقیقت تک پہنچ سکے گی۔ کیا اس کے بعد ایسی روایت قائم ہو جائے گی کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے لوگ اپنی پوزیشن کا فائدہ اٹھا کر اپنے اہل خاندان اور دوستوں کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ کیا ملک میں بدعنوانی کے سدباب کےلئے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے۔ یہ اور ایسے ہی بہت سے سوال ہیں جن کا جواب اس فیصلہ کے ذریعے سامنے آنا چاہئے تھا۔ لیکن بدقسمتی سے فیصلہ کی روشنی میں ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں دینا ممکن نہیں ہو گا۔ اس حد تک سپریم کورٹ کا فیصلہ عوام و خواص کےلئے یکساں طور سے مایوس کن ہے۔

تاہم اس فیصلہ کے نتیجہ میں جس طرح حکمران پارٹی نے کامیابی کا جشن منایا ہے اور اپوزیشن جس طرح بیک زبان وزیراعظم کے استعفیٰ کے نعرے لگا رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ سپریم کورٹ ملک کے سیاستدانوں کو ایک نیا بہانہ یا کھلونا دینے میں ضرور کامیاب ہوئی ہے۔ اب اپوزیشن لیڈر اگلے برس متوقع انتخابات کی تیاری کے طور پر اس فیصلہ کو اپنی کوتاہیوں کو چھپانے اور حکومت کو بدنام کرنے کےلئے استعمال کریں گے۔ اس طرح سیاستدانوں کی طرح سپریم کورٹ بھی بظاہر ملک میں کسی مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بن سکی ہے۔ یہ تاثر دینے کے باوجود کہ وزیراعظم نواز شریف کے بیانات میں تضاد ہے اور ان کی باتوں پر یقین کرنا ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان کے مالی معاملات کے بارے میں مناسب شواہد سامنے آئے ہیں ۔۔۔۔۔ جب سپریم کورٹ کے دو جج کسی باقاعدہ تحقیقات کے بغیر انہیں معزول کرنے کی سفارش کرتے ہیں اور تین جج وزیراعظم پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے مزید تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیتے ہیں تو یہ درحقیقت اس بات کا اظہار ہے کہ سپریم کورٹ کے جج یہ سمجھتے ہیں کہ ملک ایسے غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اور قانون و آئین کا نگہبان ادارہ بھی بنیادی اصول قانون سے انحراف کر سکتا ہے۔ یعنی اگر مدعی، مدعا علیہ کے خلاف الزام ثابت نہیں کر سکا تو اس معاملہ کو قابل غور قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن معاملہ ملک کے وزیر اعظم کا ہو تو اس اصول کو بھلایا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے کہ سپریم کورٹ کے 5 ججوں کا فیصلہ خواہ وہ بینچ کے اکثریتی ارکان کا ہو یا اقلیتی ارکان کا، دراصل ملک کی سیاسی صورتحال، عوامی جذبات اور اداروں کی باہمی چپقلش کے تناظر میں ہی لکھا گیا ہے۔

اکثریتی ججوں کے فیصلہ کے مطابق چونکہ ملک کے ادارے وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لئے ان تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی بنائی جائے جس میں فوج کے دو اداروں ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی کے نمائندے بھی شامل ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جس معاملہ پر تین ماہ سماعت اور دو ماہ انتظار کے بعد عدالت عظمیٰ کے 5 فاضل جج کسی نتیجہ پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں، اسی معاملہ میں جے آئی ٹی میں شامل 7 افسر کیوں کر دو ماہ کے اندر حتمی نتائج سامنے لا سکیں گے۔ عدالت کس بنیاد پر یہ سمجھ رہی ہے کہ اس کے حکم سے بننے والی جے آئی ٹی کے پاس جادو کی کوئی چھڑی ہوگی جس کے گھماتے ہی سچ اور جھوٹ کا فرق واضح ہو جائے گا۔ اس حکم کا اصل مفہوم تو یہ ہے کہ جو کام جج حضرات وکلا کے دلائل اور ہزارہا دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد خود نہیں کر سکے، اب وہ یہی ناممکن کام تحقیقاتی کمیٹی سے انجام دینے کا تقاضہ کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ملک کے سول اداروں پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تاہم سول اداروں کو بہتر بنانے کےلئے کوئی سفارش یا اقدام کرنے کی بجائے سپریم کورٹ نے یہ مناسب سمجھا ہے کہ ایک ایسی جے آئی ٹی بنائی جائے جہاں فوجی افسر بھی شامل ہوں جو ملک کے منتخب وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کا فرض انجام دیں۔ یہ حکم سول اداروں پر بداعتمادی کے اظہار کےلئے ہی کیا گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدالت سول اداروں سے اتنی مایوس تھی تو وہ فوج کے نمائندوں پر کس بنیاد پر اعتماد کر رہی ہے۔ پاناما کیس کے آغاز سے اس حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔ عدالت نے کمیشن بنانے کی بجائے سول اور فوجی افسروں پر مبنی تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا حکم کیوں دیا ہے۔ کیا اس کا یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ عدالت بوجوہ اس معاملہ کی تحقیقات میں براہ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرنا چاہتی ہے۔ تو پھر سابقہ چیف جسٹس نے عدالتی کمیشن اور اس کے قواعد بنانے کا اعلان کیوں کیا تھا۔ اور کیا عدالت کے ججوں نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کے خلاف تحقیقات کےلئے فوج کے دو اداروں کو ملوث کرنے سے اس ملک کی جمہوری روایت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سپریم کورٹ حکومت (وزیراعظم) اور سول اداروں پر تو مکمل بداعتمادی کا اظہار کرتی ہے لیکن فوج پر اعتماد کا بالواسطہ اعلان کیا جاتا ہے۔ کیا سپریم کورٹ قوم کو یہ یقین دلانا چاہتی ہے کہ صرف فوج ہی قابل اعتبار ہے اور وہی اس ملک کے معاملات کو درست کر سکتی ہے۔

اسی طرح اختلافی نوٹ لکھنے والے عدالتی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جو فیصلہ لکھا ہے اس کا آغاز ایک ناول کے حوالے سے یہ کہتے ہوئے کیا گیا ہے کہ ’’ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے‘‘۔ اس کے بعد اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جسٹس کھوسہ لکھتے ہیں کہ ’’ڈیرہ غازی خان کے پاکستان چوک پر کھڑا عام آدمی بھی یہ جان سکتا ہے کہ وزیراعظم نے قوم کے ساتھ سچ نہیں بولا‘‘۔ یہ لکھتے ہوئے جسٹس کھوسہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ معاملہ اسی لئے ان کے سامنے پیش ہوا تھا کہ وہ اسے عام آدمی کی نظر سے نہیں حقائق ، دلائل اور شواہد کی روشنی میں پرکھیں۔ لیکن اگر سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کی دلیل یہ ہوگی کہ عام آدمی کیسے سوچتا ہے اور ایک افسانوی کردار نے کیا کہا تھا تو اسے قانون کی زبان کے علاوہ کچھ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جسٹس کھوسہ نے قطری شہزادہ حمد بن جاسم بن جابر الثانی کے خط کو جھوٹا ثابت کرنے کےلئے یہ کہا ہے کہ ’’میں اگرچہ غیر ملکی شخصیت کے ناطے ان کا بے حد احترام کرتا ہوں لیکن بدقسمتی سے انٹرنیٹ پر ان کے بارے میں ناپسندیدہ معلومات موجود ہیں۔‘‘ گویا سپریم کورٹ کے جج ناولوں، عام لوگوں کی سوچ اور انٹرنیٹ کی معلومات پر اپنے فیصلوں کی بنیاد رکھیں گے۔ وزیراعظم کو جھوٹا ثابت کرنے کےلئے عدالت عظمیٰ کے معزز جج کے پاس زیادہ ٹھوس دلائل ہونے چاہئے تھے۔

پاناما کیس کے فیصلہ پر اگرچہ فی الوقت ہر طرف سے تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں لیکن قانون سے نابلد ایک عام شخص بھی اسے پڑھ کر یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ فاضل جج حضرات کسی ٹھوس قانونی بنیاد پر فیصلہ لکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ نہ تو 20 برس تک یادگار ہوگا اور نہ صدیوں اس کے حوالے دیئے جائیں گے۔ فیصلہ سے قطع نظر شریف خاندان کے لندن فلیٹس کی خریداری کے بارے میں بدستور شبہات موجود ہیں۔ نہ یہ بتایا جا سکا ہے کہ 70 کی دہائی میں شریف خاندان ذوالفقار علی بھٹو کے ’’استبداد‘‘ سے بچنے کےلئے وسائل کیسے پاکستان سے دبئی لے گیا تھا۔ نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ کس کاروباری منصوبہ پر کیا منافع ہوا۔ قطر وسائل کیسے پہنچے۔ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کیسے کی گئی اور بالآخر یہ ساری دولت لندن کیسے پہنچ گئی۔ نواز شریف اور ان کے بیٹے اگر 2017 میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ 80 کی دہائی میں کروڑوں اور اربوں کا لین دین کرتے ہوئے، ان کے والد اور دادا نقد رقم کی ادائیگی یا ہنڈی کا استعمال کرتے تھے تو کوئی اس پر اعتبار نہیں کرے گا۔ عدالت نے بھی یہی کہا ہے۔ اتنی صریح بداعتمادی کے بعد دنیا کا کوئی بھی منتخب لیڈر اپنے عہدے سے علیحدہ ہو جائے گا۔

نواز شریف کو بھی اسی اخلاقی اصول کی بنیاد پر استعفیٰ دے دینا چاہئے تاآنکہ ان کے مالی معاملات پر سامنے آنے والے شبہات دور نہ ہو جائیں۔ پاکستان میں البتہ یہ روایت قائم کرنا عہد حاضر کے کم نظر اور پست قد سیاستدانوں کے بس میں نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 647 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali