دولت کے پیچھے کیا ہے؟


جمعرات کی سہ پہر سے اب تک آپ پاناما کیس کے فیصلے کے بعد کے پاکستان میں جی رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ نیا پاکستان اس پاکستان سے مختلف ہے جس میں آپ جمعرات کی صبح جاگے تھے؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ پھر بھی، سیاسی سطح پر اس فیصلے نے بڑی ہلچل مچائی ہے اور موسم کے ساتھ ساتھ سیاست کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ کہ دونوں فریق اس فیصلے کو اپنی جیت قرار دے رہے ہیں۔ یوں یہ ایک ایسا فیصلہ ہے کہ جس کی کوئی توقع نہ تھی۔ ایک ایسا فیصلہ جو حتمی نہیں ہے۔ پانچ رکنی بینچ کے دو سینئر ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا ہے جبکہ تین ججوں کے اکثریتی فیصلے نے ایک نئی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ گویا بے چینی اور تجسس کی فضا قائم رہے گی۔ کیونکہ آپ فیصلے کے اعلان کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری تبصروں کو برداشت کرچکے ہیں اور مختلف نکات کی متضاد تشریحات سے واقف ہیں اس لئے میں سرخیوں کو دوہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میرے خیال میں یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہم ایسے معاملات میں مسلسل الجھے رہتے ہیں اور عوامی سطح پر ایک ہیجان کی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ پاناما پیپرز کا پٹارہ گزشتہ سال اپریل کے پہلے ہفتے میں کھلا تھا اور اس کا قبضہ ابھی تک تمام نہیں ہوا۔ اس تمام عرصے میں ایک سیاسی دنگل جاری رہا۔ بار بار ہماری توجہ دوسرے مسائل سے ہٹتی رہی۔ مسلم لیگ ’ن‘ اور تحریک انصاف کے پہلو ان ٹیلیویڑن کے اکھاڑوں میں ڈنڈ بیلتے رہے اور اس شور شرابے سے پرے کتنے ہی اہم معاملات میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اس بجلی کے بحران نے گرمی پیدا کی اور اس لوڈشیڈنگ کا تعلق بھی سیاست سے ہے۔ جب یہ اعلان ہوا کہ پاناما کیس کا فیصلہ 20 اپریل کے دن دو بجے سنایا جائے گا تو پورے ملک نے جیسے سانس تھام کر اس کا انتظار شروع کردیا اور جب فیصلہ سن لیا گیا تب بھی انتظار کی فضا قائم ہے۔ اب سات دنوں میں جے آئی ٹی کی تشکیل ہوگی۔ ساٹھ دنوں میں اس کی کارروائی مکمل ہوگی۔ پھر کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں کئی خدمات اور امکانات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ چند مبصر یہ کہتے ہیں کہ فیصلہ کن فیصلے کے آتے آتے 2018ءکے انتخابات کے ڈھول بجنا شروع ہوجائیں گے۔ ویسے تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک جو ادھر ڈوبتی اور ادھر نکلتی رہی ہے اب وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ زیادہ زور شور سے بس شروع ہوا چاہتی ہے۔ جمعرات کے فیصلے کی سیاسی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اس سے قطع نظر کہ ہم اسے کتنے سالوں یا صدیوں یاد رکھیں گے، اس کے مضمرات کو سمجھنے کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ آخر فیصلہ بھی تو 540 صفحات سے زیادہ پر محیط ہے اور اس کا اختلافی نوٹ جو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا ہے خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کتنے افراد اس پورے فیصلے کو غور سے پڑھیں گے۔ شاید بہت کم کیونکہ ہمارے معاشرے میں مطالعے اور غور و فکر کا کوئی رواج نہیں۔ البتہ جسٹس کھوسہ نے فرانسیسی ادیب بالزاک کے جس مقولے کو ”گاڈ فادر“ کے حوالے سے نقل کیا ہے اور جو خبروں میں اجاگر ہوا ہے اس کی تفہیم کئی سوال اٹھا سکتی ہے۔ مقولہ یہ ہے کہ ہر بڑی دولت کے پیچھے ایک جرم ہوتا ہے۔ یہاں یہ فقرہ نواز شریف اور ان کے خاندان کی اس دولت کی گرفت کرتا ہے کہ جس کا حساب وہ نہیں دے پارہے۔ لیکن تمام پرمغز مقولوں کی طرح بالزاک کی اس فکر کا اطلاق وسیع پیمانے پر کیا جاسکتا ہے۔ جب میں پاکستان کے ان دکھوں کا ذکر کرتا ہوں جن کا مداوا کرنے کی کوثی کوشش نہیں کی جاتی ان میں دولت کا ارتکاز اور آمدنی میں بے پناہ تفاوت کا عذاب بھی شامل ہے۔ یہ تو پانامہ پیپرز کے انکشافات کا نتیجہ ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے اپنے خلاف دائر کئے گئے مقدمے میں نواز شریف اور ان کے خاندان کو اپنی لندن کی جائیداد کا حساب دینا پڑ رہا ہے ورنہ جسٹس کھوسہ کا چبھتا ہوا فقرہ بے شمار دروازوں پر چسپاں لیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں کہاں، کس کے اثاثے ہیں اور یہ کس طرح حاصل کئے گئے ہیں اس کے بارے میں ہم اندازے لگاتے رہتے ہیں۔ یہ بات میں نواز شریف اور ان کے خاندان کے دفاع میں بالکل نہیں کہہ رہا۔ یہ جو پاناما کیس ہے اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔ نواز شریف حکمراں سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور ایک جمہوری نظام میں انہیں اپنے عمل کا حساب دینا چاہئے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس مقدمے نے ہمارے حکمراں طبقے کے مالی معاملات کو کسی حد تک آشکار کیا ہے۔ یہ شاید ہماری سیاست کی مفلسی کا ایک پہلو ہے کہ ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنما اتنے بڑے اور عالیشان گھروں میں رہتے ہیں اور ان کی زندگی اتنی شاہانہ ہے۔ آپ نے جمعرات کے فیصلے کے بعد آصف علی زرداری کی پریس کانفرنس دیکھی اور پڑھی ہوگی۔ انہوں نے بھی یہ نعرہ دوہرایا کہ ”گلی گلی شور ہے، نواز شریف چور ہے“۔ سیاسی کارکن کہ جنہیں بظاہر اپنے رہنماﺅں کی ہیرا پھیری اور شان و شوکت بری نہیں لگتی اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کرپشن کے حوالے سے سیاست دانوں کو خاص طور پر نشانہ غیر جمہوری طاقتوں کے اشارے پر بنایا جاتا ہے اور اس طرح جمہوری نظام اور عمل کو داغدار کیا جاتا ہے۔ اب یہ کوئی سازش ہو یا نہ ہو، یہ تو سچ ہے کہ لوٹ مار کا دائرہ کافی وسیع ہے اور اس میں پردہ نشینوں کا نام بھی شامل ہیں۔ ہر بڑی دولت کے پیچھے کسی جرم کی موجودگی کا ایک تصور مارکس نے بھی پیش کیا تھا۔ ان سے منسوب یہ تبصرہ بھی ہے کہ ہر جائیداد کسی سرقے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اپنا خون پسینہ بہانے والے جب عالیشان گھروں کے علاقے سے گزرتے ہیں تو شاید ان کو یہ خیال آتا ہو کہ یہ سب تو چوری کا مال ہے۔

یہ سمجھنے سے وہ پھر بھی قاصر رہتے ہیں کہ کوئی ایسا نظام کہاں سے آئے گا جس میں معاشی اور سماجی انصاف کی حکمرانی ہو۔ اب یہ دیکھئے کہ نواز شریف اور ان کی حکومت کے خلاف جو سیاسی مہم جاری رہی ہے اور جواب ایک نیا رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے اس کا جواز بھی کرپشن ہے لیکن کسی ایسی سماجی اور انتظامی تبدیلی کا کوئی ایسا منصوبہ پیش نہیں کیا جارہا جو وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ممکن بنائے اور نچلے طبقے کی محرومیوں کا ازالہ کرے۔ یہی نہیں، میری نظر میں تو ایک نئے بیانئے کی تشکیل زیادہ اہم ہے کہ جس کا ذکر تو نواز شریف نے کیا ہے لیکن جس کی جانب کوئی معنی خیز پیش قدمی ابھی نہیں کی گئی۔ ہمارا معاشرہ جس انتہا پسندی اور قدامت پرستی کا شکار ہے اس نے ملک کی سلامتی تک کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی خلفشار نے ان سماجی اور نظریاتی الجھنوں کو زیادہ گھمبیر بنا دیا ہے۔ ایک تو ان کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں ہے اور دوسرے معاشرے کی فکری پسماندگی بھی عوام کے سیاسی استحصال کا ایک نتیجہ ہے۔ حکمراں خیالات اور قومی سلامتی کے نام پر اٹھائے جانے والے اقدامات نے بھی ہماری اجتماعی سوچ کو مجروع کیا ہے۔ پانامہ کیس اور اس سے منسلک سیاست کے فلک شگاف شور نے مردان میں ایک بے قابو ہجوم کے ہاتھوں ایک سنجیدہ اور حساس نوجوان کے قتل کے واقعہ کو گہنا دیا ہے۔ مجھے اس بات کا اس لئے دکھ ہے کہ ایک یونیورسٹی کے کیمپس پر کئے جانے والے اس قتل کے آئینے میں ہم اپنے معاشرے کے جان لیوا تضادات اور چند موروثی قضیوں کو سمجھنے کی کوشش کررہے تھے اور ایسا اس سے پہلے شاید اس طرح نہ ہوا تھا۔ کسی ہجوم کے مذہبی جذبات کو غلط بیانی کے سہارے کس طرح ابھارا جاتا ہے اس کے شواہد ہمارے سامنے تھے۔ یہ کیس تو ابھی زندہ ہے لیکن پانامہ کے فیصلے نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ دوسری اہم خبر اسی سلسلے کی دوسری کڑی تھی۔ حیدرآباد کے ایک میڈیکل کالج کی طالبہ داعش کے دہشت گردوں سے جاملی اور لاہور میں اسے ایک مقابلے کے دوران گرفتار کیا گیا اور اس نے اقرار کیا کہ وہ ایک گرجا پر خودکش حملے کیلئے تیار تھی۔ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ جواب ملے گا۔ اسے چھوڑئیے۔ دیکھئے پانامہ کیس کے فیصلے کی آتش بازی!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔