شکر ہے عزت بچ گئی….


صدیق جان
ابھی مریم نوازصاحبہ کی ٹویٹس پڑھیں تو رﺅف کلاسرا صاحب کا پروگرام مقابل میں سنایا گیا لطیفہ یاد آگیا۔
کلاسرا صاحب کہتے ہیں کہ ایک نوجوان بھاگا بھاگا آرہا تھا۔چوک میں کھڑے لوگوں نے پوچھا کہ کیا ہوا؟
تو نوجوان نے کہا کہ پچھلے چوک میں میرے والد کی کچھ لوگ جوتوں سے لتریشن کررہے ہیں لیکن اللہ کا شکر ہے میں عزت بچا کر آگیا ہوں۔
مریم نوازصاحبہ نے انگلش اور اردو کے بڑے 26 اخبارات کو کھنگال کر ان میں سے چار خبریں نکالی ہیں کہ جن میں لکھا ہے کہ مریم نواز اس کیس میں بچ گئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان خبروں کو لگانے والے ہمارے کون دوست ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 26 اخبارات میں ان کے والد کے خلاف جو 436 خبریں لگیں ان کی خیر ہے۔ ان کے والد کو ملزم،مجرم،جھوٹا،فراڈیا اور 420 لکھا گیا ہے لیکن پھر کیا ہوا؟ شکر ہے وہ عزت بچاکرنکل آئیں ۔

ہمارے بزرگ والدین کی عزت اور احترام کا درس دیتے ہوئے سرائیکی کی ایک مثال سناتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ جب ایک گستاخ اور نافرمان بیٹا اپنے والد کو دریا میں پھینکنے گیا تو والد نے کہا کہ مجھے اس جگہ نہیں تھوڑا سا آگے جاکر پھینکو کیونکہ یہاں تو میں نے اپنے والد کو پھینکا تھا۔یعنی جو آپ اپنے والدین کے ساتھ کرو گے وہی آپ کی اولاد آپ کے ساتھ کرے گی۔ پاناما کیس میں مکافات عمل دیکھئے کہ نوازشریف کے وکیل نے سپریم کورٹ میں کھڑے ہوکر کہا کہ جو فراڈ ہوئے،گھپلے ہوئے،منی لانڈرنگ ہوئی وہ میاں شریف کے دور میں ہوئی۔میاں نوازشریف کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔آج وہی کام میاں نوازشریف کے ساتھ ان کی صاحبزادی کررہی ہیں کہ جھوٹ فراڈ اور دھوکہ تو میرے والد میاں نوازشریف نے کیا۔میں تو صادق امین اور پارسا ہوں۔

مریم نواز کا دعویٰ دیکھئے اور ساتھ ہی ذہن میں وہ کلپ چلائیے کہ’پتا نہیں یہ کہاں سے میری پراپرٹیز نکال لائے ہیں؟میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں‘۔

اگر آپ فیصلے کو بغور پڑھیں تو آپ کو یقین ہوجائے گا کہ سوشل میڈیا پر کسی نے پاناما فیصلے کا لب لباب بالکل درست لکھا ہے کہ
پہلا جج۔
وزیراعظم کرپٹ ہے
دوسرا جج
وزیراعظم جھوٹا ہے
تیسرا جج
لگتا تو ایسے ہی ہے لیکن ایک بار پھر چیک کر لیتے ہیں۔
چوتھا جج
بات تو سچ ہے لیکن اور تحقیق کروا لیتے ہیں۔
پانچواں جج۔
ہے تو یہ واقعی جھوٹا مگر کہے گا تحقیق ہی نہیں ہوئی اس لیے پہلے تحقیقات کروا لیں۔
وزیراعظم نااہل نہیں ہوئے لیکن نااہلی کا راستہ کھول دیاگیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

صدیق جان کی دیگر تحریریں
صدیق جان کی دیگر تحریریں