قبائل کو کیوں پسماندہ رکھا جا رہا ہے


عرفان اللہ وزیر)۔

دنیا آ ئے روز ترقی کی جانب گامزن ہے۔ نئی نئی چیزیں ایجاد کر رہی ہے۔ تحقیقات شروع ہے کیونکہ ہر ملک اس کوشش میں مصروف ہے کہ اپنے عوام کو جدید دنیا سے باخبر رکھا جائے ۔ اس جدید دور میں صرف قبائل ہیں جن کو حکمرانوں نے قیام پاکستان سے لے کر آج تک زندگی کے ہر پہلو میں پسماندہ رکھا ہوا ہے یوں سمجھو کہ اکیسویں صدی میں رہ کر زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی بالکل صفر ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں صرف بلڈنگز کھڑی ہیں۔ محکمہ صحت کی بھی یہی صورتحال ہے ۔میں اگر شروع ہو جاﺅں تو مسائل بیان کر تے کرتے ختم نہیں ہوں گے لیکن چند ایک ایسے مسئلے ہیں جن کا روزمرہ زندگی سے گہرا تعلق ہے ۔

آج کل کے فاٹا کے نوجوان زیادہ تر پڑھے لکھے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنے علاقوں میں تعلیم حاصل نہیں کی، ملک کے دوسرے علاقوں سے پڑھ کے آئے ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کو اپنے علاقوں میں وہ سہولیات حاصل نہیں ہیں جو ملک کے دیگر علاقے کے لوگوں کو حاصل ہیں۔ یہاں بے روزگاری عام ہے جس کی وجہ سے اکثر لوگ باہر سے کما کے کھاتے ہیں مگر ان لوگوں کا غم اور خوشی کے موقع پر اپنوں سے رابطہ نہیں ہوتا جس کی وجہ مواصلات کا نظام ہے۔ اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے کہ نوکری یا کوئی اور ضروری کاغذات میل کرنے کے لیے سیٹل ایریا میں جانا پڑتا ہے۔ پھر وہاں پر ہوٹل میں قیام اس مہنگائی کے دور میں اور فاٹا جیسے پسماندہ، غربت ،بے روزگاری کے مارے لوگ برداشت نہیں کر سکتے۔

ستم ظریفی تو یہ ہے کہ یہاں موبائل نہیں ہے، نیٹ نہیں ہے، پی ٹی سی ایل بھی عام دیہات اور گاﺅں میں نہیں ہے۔ جہاں مین بازاروں میں ہے وہ بھی ہفتے میں پانچ دن خراب ہوتا ہے۔ دنیا کہاں پہنچ گئی اور قبائل کہاں ہیں۔ ماشااللہ فاٹا کے پارلیمنٹرین نے بھی آج تک اس مسئلے پر حکومت وقت سے بات تک نہیں کی اور بے چا رے قبائلی پارلیمنٹرینز جو ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں پھر بھی خاموشی سے پانچ سال گزار کر خوش ہوتے ہیں کہ ہم تیس مار خان ہیں۔ چار سال ہو گئے مجھے نہیں یاد کہ فاٹا کے کسی پارلیمنٹرین نے اسمبلی کے فلور پر اپنے حلقے کے متعلق بات کی ہو، کم ازکم مجھے یاد نہیں پڑتا، اور نہ حکومت وقت نے یہ سوچا کہ فاٹا میں بھی انسان رہتے ہیں، ان کی بھی ضروریات ہیں۔ سینکڑوں طلبا نوکریوں سے اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ فاٹا میں نیٹ نہیں ہے۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ پاکستان پہلا ایشیائی ملک ہے جہاں کے عوام فائیو جی استعمال کرتے ہیں۔ شاید ان کو یہ پتا نہیں ہے کہ آپ کے ملک میں ایک کروڑ آبادی ایسی بھی ہے جہاں پر پی ٹی سی ایل کام نہیں کرتا۔ باقی قبائل کے مسائل اتنے ہیں کہ اگر بندہ بیٹھ کے بیان کرنا شروع کرے تو ختم نہیں ہوں گے۔ کئی بار فاٹا کے نوجوانوں اور تعلیم یافتہ لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے لیکن حکومت وقت نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ منتخب نمائندوں نے تو تاریخ گواہ ہے کہ کبھی اپنے علاقوں یا فاٹا کے بارے میں بات کی ہو۔ انہیں پانچ سال خاموشی سے پورا کرنا ہوتے ہیں جب پانچ سال پورے ہو جائیں تو پھر عوام کو سبز باغ دکھا کر پاس کامیاب ہو جاتے ہیں اور پھر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔