بارود نہیں امن چاہئے


mujahid aliبڑی خبروں اور الزام تراشیوں سے بھرے اخبارات اور ٹیلی ویژن پروگراموں کے ہجوم میں بعض اوقات ایسی اہم خبریں توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں جو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔ بدقسمتی سے ان معاملات کو قوم پرستی اور قومی مفاد کی یک طرفہ اور شدت پسندانہ توجیہہ میں غیر ضروری مباحث قرار دیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ پاکستان میں عوام کی فلاح ، صحت اور تعلیم پر قومی وسائل صرف کرنے کی بجائے دفاع اور اسلحہ کی خریداری پر دولت ضائع کرنے اور اپنے تئیں خطے اور دنیا میں بڑی قوت بننے کا خواب دیکھنے کے منفی مزاج اور رویہ سے متعلق ہے۔ اسٹاک ہولم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ( سپری) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان گزشتہ برس اسلحہ خریدنے والے ملکوں میں دنیا میں دسویں نمبر پر تھا۔ اس طرح جو وسائل لوگوں کی بہبود پر صرف ہونے چاہئیں انہیں بے دریغ فوجی قوت میں اضافہ پر صرف کیا جا رہا ہے۔

ملک میں یہ بحث شروع کرنے کی ضرورت ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران عالمی سیاسی ، سماجی اور معاشی صورت حال میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ، ان کی روشنی میں کیا پاکستان جیسا غریب ملک صرف اسلحہ کی دوڑ میں ایک بڑے ہمسایہ ملک سے آگے نکلنے کی جد و جہد میں حقیقی معنوں میں کامیابی اور ترقی کا خواب پورا کرسکتا ہے۔ اس وقت ملک میں آبادی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جب کہ عوام کی دیکھ بھال کے لئے وسائل محدود ہیں۔ ان میں سے بھی بیشتر حصہ ایک ممکنہ جنگ میں کامیابی حاصل کرنے پر صرف کردیا جاتا ہے ۔ باقی ماندہ وسائل کو بھی ملک کا برسر اقتدار طبقہ بدعنوانی ، بد انتظامی اور غلط ترجیحات پر صرف کرکے ملک کو مسلسل زوال پذیر رکھنے میں کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران قومی پیداوار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جو اس وقت تین فیصد سالانہ سے بھی کم ہے۔ بدعنوانی میں ملک کا شمار 182 میں سے 142 نمبر پر ہوتا ہے۔ اسی طرح انسانی ترقی میں پاکستان کا نمبر 146 اور آزادی رائے کے حوالے سے 151 ہے۔ گزشتہ پندرہ برس کے دوران ملک میں غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معیار زندگی کے عالمی انڈیکس کے مطابق پاکستان پہلے ایک سو ملکوں میں شامل نہیں ہوتا۔

ان حالات میں یہ غور کرنے اور طے کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے عوام کا فائدہ بارود حاصل کرنے، جنگ کا ماحول پیدا کرنے اور ایٹمی طاقت یا دیگر عسکری قوت میں اضافہ کرنے میں ہے یا اپنے لوگوں کو بااعتماد، صحت مند اور تعلیم یافتہ بنا کر ترقی اور وقار کا سفر آسانی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دنیا میں یہ تاثر غلط ہے کہ صرف عسکری قوت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہ نظریہ اب قرون وسطیٰ کی ذہنیت قرار پاتا ہے۔ دنیا کے بہت سے ملک کسی بڑی فوج کے بغیر بھی خوشحال ہیں اور محفوظ بھی۔ اس حوالے سے بھارت، کشمیر اور دیگر علاقائی مسائل کو موضوع بنا کر ایک نہ ختم ہونے والی بحث شروع کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ بہر صورت ہمیں بطور قوم طے کرنا ہے کہ ہم جنگ کا راستہ اختیار کرکے پسماندہ، بدنام اور بدحال رہنا چاہتے ہیں یا اسلحہ جمع کرنے کا جنون ختم کرکے ترقی کا سفر شروع کرنے میں ہی اس خطے میں آباد لوگوں کا فائدہ ہے۔

کوئی سیاسی لیڈر یہ بحث شروع کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ عوام کو خود اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے قومی منزل کا درست تعین کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali