ریڈیو والی صائمہ جی اور ایزی لوڈ والی صبا


امریکہ میں قریب اڑھائی ہزار نان کمرشل اور دس ہزار کمرشل ریڈیو سٹیشن ہیں۔ برطانیہ میں قریب چھ سو، جرمنی میں قریب سوا چار سو، چین میں تین ہزار کے لگ بھگ، بھارت میں چار ہزار ریڈیو سٹیشنز کا منصوبہ زیر غور تھا جس میں سے اب تک قریب اڑھائی سو پرائیویٹ ایف ایم ریڈیو چینل کام کررہے ہیں سرکاری اور انٹرنیٹ ریڈیو اس کے علاوہ ہیں۔

بی بی سی ، ڈوئچے ویلے، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی، ریڈیو ماسکو کی دنیا کی بیشتر زبانوں میں سروس اس بات کا ثبوت ہے کہ ریڈیو آج کے دور میں بھی اطلاعات تک رسائی اور پروپیگنڈہ کا بہترین ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ بی بی سی کی اردو سروس نے اردو زبان و ادب کے لیئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ایک زمانے میں ریڈیو کے ذریعے لوگ اپنے تلفظ کو درست کیا کرتے تھے۔ آج بھی امریکی صدر قوم سے خطاب ریڈیو کے ذریعے بھی کرتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں صحت و تعلیم کے لیئے ریڈیو نہایت کامیابی سے اپنی خدمات فراہم کررہا ہے۔ ایسے دشوار گذار پہاڑی علاقوں میں جہاں بچے روزانہ کی بنیاد پر سکول نہیں جا سکتے ریڈیو سکول بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

پاکستان میں قریب سوا دو سو ایف ایم ریڈیو سٹیشن کام کررہے ہیں، جن میں چونتیس ریڈیو پاکستان کے اپنے سٹیشن ہیں پینتالیس نان کمرشل جن میں ٹریفک پولیس اوریونیورسٹیز کے ایف ایم اسٹیشن بھی شامل ہیں۔ قریب ڈیڑھ سو کمرشل ایف ایم اسٹیشن ہیں جنہیں بنیادی طور پر عوام تک تازہ ترین اطلاعات، خبریں اور مفید معلومات کی فراہمی کے لیئے قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پچھلے بارہ برس سے یہ ایف ایم ریڈیواپنے اس کام کو انجام دینے میں ناکام نظر آرہے ہیں جس کے لیئے پیمرا نے ان ریڈیو اسٹیشنز کے لیئے لائسنس جاری کیئے تھے۔ بیشتر لائسنس حاصل کرنے والے سیٹھ حضرات تھے جن کا براڈکاسٹنگ کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا اور ان کے لیئے کیبل کے بعد ایف ایم ریڈیو میں اس لیئے کشش تھی کہ اس پر اشتہار کا بزنس کافی منافع بخش نظر آ رہا تھا۔

اسی بارے میں: ۔  رات زندگی سے قدیم ہے

آپ اگر گاڑی میں چلتے پھرتے ایف ایم ریڈیو آن کریں تو آپ کا پالا ایسے ایسے ڈی جے اور آر جے کے ساتھ پڑے گا کہ آپ گھبرا کر ریڈیو آف کرنے میں ہی عافیت جانیں گے۔ اکثر آپ پڑھے لکھے لوگوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ کسی بھی قوم کے نہایت اہم مسائل میں سے صحت اور تعلیم کے مسائل سب سے پہلے حل ہونے چاہئیں۔ سو سیٹھ صاحبان کے ان ریڈیو چینلز میں سے زیادہ تر اسٹیشنز پر اس قوم کے سب سے اہم مسئلے یعنی صحت مرداں کے لئے پروگرام نشر کرنا شروع کر دیئے۔ ایسے ایسے نابغہ روزگار حکیموں کو اس کام کے لیئے منتخب کیا گیا جنہوں نے مغرب کی سائنسی تحقیق کے مقابل مشرقی دانش و حکمت کے شاہکار نسخہ جات کم و بیش ہر اس بیماری کے لیئے پیش کردیئے جس کے لیئے مغرب کے پاس آپریشن کے سوا دوسرا کوئی علاج نہیں تھا۔ علامہ اقبال صاحب فرما گئے ہیں۔ ” ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“ ان حکما نے اقبال کے اس مصرعے کے دوسرے لفظ کے شروع کے حرف کو میم سے بدل کر ملت کے ہر مرد کے جملہ مسائل صحت کا حل پیش کر دیا ہے۔

اس وسیع تر عوامی مفاد کے کام میں سنہری لفظوں سے لکھے جانے کے لائق خدمات مس صائمہ جی کی ہیں۔ انہوں نے شہر شہر سے آئے ہوئے مراسلات پر مبنی مسائل کو حکیم جی کے ساتھ نہایت اچھے طریقے سے پیش کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہر شہر میں جہاں ایف ریڈیو سٹیشن کام کر رہا ہے حکیم صاحبان نے اپنے اسسٹنٹ حکیم تعینات کر دیے ہیں اور وہ عوام کی دن رات خدمت کررہے ہیں۔ ایک بار حکیم صاحب سے ملاقات کرنے کے عوض تین سے چار ہزار روپے غریب اور لاچار افراد سے اینٹھ  لئے جاتے ہیں۔ زیادہ تر مریض دوسری بار حکیم صاحب کے پاس نہیں آتے کیوں کہ جہاں پہنچ جاتے ہیں وہاں سے آ ہی نہیں سکتے۔ ایزی لوڈ والی صبا نے تو صرف ستاون لاکھ روپے پاکستانیوں کی جیبوں سے نکلوائے تھے۔ لیکن صائمہ جی اور اس جیسے دوسرے ریڈیو پروگرامز کے نتائج جب بھی سامنے آئے ہولناک ہوں گے۔

اسی بارے میں: ۔  خواجہ پیا، موری رنگ دے چندریا


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔