پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ


انسان کی حکومت گھر سے شروع ہوتی ہے، چاہے مرد ہو یا عورت حاکم کوئی بھی ہوسکتا ہے، حکمرانی فطرت میں ہوتی ہیں، اور اگر سازگار ماحول میسر آجائے تو انسان گھر پر حکمرانی کے ساتھ ساتھ حکومت بھی چلا سکتا ہے جس میں کئی وزیر اور مشیر حضرات آپ کی تاج پوشی کو پیش پیش ہوں گے۔

پاناما کو میڈیا نے بہت بڑا بنادیا، میڈیا کو بھی علم نہ تھا کہ اس جدوجہد کے نتیجے میں صرف جے آئی ٹی ملے گی اور اس جے آئی ٹی سے حکومت اور اپوزیشن کے مابین آئندہ کی جانے والی حکومت کا لائحہ عمل طے کیا جاسکے گا، بڑا فیصلہ تو نہیں آیا البتہ بڑے فیصلے کا ذمہ جے آئی ٹی کے نازک کاندھوں پر آگیا ہے۔

دونوں سیاسی پارٹیاں جشن میں مگن ہیں، عوام بے چارے غربت کے مارے سمجھ نہیں پارہے کہ کس کی خوشی سب سے بڑی ہے، تحریک انصاف یا پھر نواز لیگ کی، کیونکہ دونوں پارٹیاں ہی مٹھائیاں کھارہی ہیں۔

یقینا پاکستان میں کی جانے والی حکومت اور اس کا نظام مکمل نہیں تو آدھے سے زیادہ گلا سڑا ہے اور مزید سڑنے کو ہے، بچانے والے کم اور اس نظام کو دیمک کی طرح چاٹ کر ہضم کرنے والے ہمیشہ سے پاکستان کی حکومت میں رہے ۔

پاکستان میں انصاف کا ملنا ناممکنات میں سے ہے، فوجی عدالتوں کی مدد سے کئی گھرانوں کو انصاف ملا، اور فوجی مداخلت سے ہی حکومت امن و امان کی صورحال کو قابو کرپائی۔

عوام کا اعتبار تو کسی پر نہیں، ووٹ دینا عوام کی مجبوری ہے، اور اگر عوام ووٹ نہ بھی دے تو اس کے حصے کا ووٹ خود بخود ڈل جاتا ہے، اس میں مرے ہوئے ماں باپ بھی اکثر شامل ہوتے ہیں، ان کے ووٹ بھی ڈل جاتے ہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ بدعنوانی ، اختیارات کا ناجائز استعمال ہے اور ملک کا ہر فرد اس کی بھینٹ چڑھ چکا ہے، کوئی محفوظ نہیں!

بالواسطہ اور بلا واسطہ ہم ان لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں جو اس سرگرمی میں براہ راست شامل ہوتے ہیں اور ہم یہ علم بھی رکھتے ہیں کی ہم آواز اٹھا سکتے ہیں، ہم سچے ہیں لیکن ہم ڈر سے خاموش ہوجاتے ہیں کیونکہ ہمیں علم ہوتا ہے کہ اس سچ میں شریک صرف ہم اکیلے ہی ہوں گے اور ہماری سچائی کو دس جھوٹوں کی گواہی سے پیروں تلے روند دیا جائے گا اور یہ ڈر جو ہماری مجبوری ہوتا ہے ہماری کمزوری بن جاتا ہے اور ہم سوچنے اور سمجھنے کی مہم میں مصروف عمل ہوجاتے ہیں۔

وہ دل ہی کیا جو درد دل نہ سمجھ سکے؟ کسی کے جوان بیٹے کی میت دیکھ کر رونا تو آجاتا ہے لیکن اس جوان کے سفاکانہ قتل کو دیکھتے وقت ہماری ہمت گوارا نہیں کرتی کہ اس مظلوم انسان کو ظلم سے بچا سکیں! ایسے دل اور دماغ کا کیا کرنا جو بے ضمیری کی نیند سوگیا ہو؟

مشعال مرگیا، کیا واپس آجائے گا؟ کتنے معصوم مر گئے اور نہ جانے کتنے ہماری بے حسی کی بھینٹ چڑھیں گے، کراچی ہو یا پشاور، ملتان ہو یا فیصل آباد، ماں اور اس کی گود تو ہر جگہ اجڑ رہی ہے، ہمارے الفاظ احساس سے خالی اور انداز درد کی دنیا سے آزاد ہے۔

ہم ظلم دیکھتے رہتے ہیں، ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا تے، سچ کو سچ کہتے ہوئے شرماتے ہیں اور جھوٹ کو سچ کہتے ہوئے نہیں گھبراتے! یہ ہے اصلیت ہماری! جو سچ بولتا ہے اس کا ساتھ کوئی نہیں دیتا اور جو چھوٹ بولتا ہے اس کو جھوٹا کہنے کی ہمت و حوصلہ نہیں ہم میں۔

ہر شخص حکمرانی کا خواب لئے ذندگی گزاررہا ہے، مرد عورت اور عورت مرد پر حکمرانی کی خواہاں ہے، وجہ صرف حقوق کا ہ ملنا یا پھر حقوق صلبی ہے اور یہ عمل ہماری عادت بنتا جارہا ہے، ہمارے وجود میں تسلط اور جبر پر تول رہے ہیں، ہم بالواسطہ یا بلا واسطہ بد عنوانی میں شریک ہیں اور علم رکھتے ہوئے بھی آواز بلند کرنے سے ڈرتے ہیں۔

پاکستان میں بدعنوانی کی بنیادی وجہ بے ایمانی، رشوت خوری، بد دیانتی اور دین سے دوری ہے، حلال حرام، اچھا برا، سزا جزا اور نیکی بدی، گناہ ثواب نہ بچوں کو بتا یا جارہا ہے اور نہ پڑھایا جارہا ہے۔

معاشرے کی تربیت نہیں کی جارہی اور نہ ہی ادارے اپنی تربیت کررہے ہیں، اس کے لئے انفرادی و اجتمائی طور پرہمیں آواز بلند کرنا ہوگی اور اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

ہم کچھ اچھا لکھ سکتے ہیں، کچھ اچھا پڑھا سکتے ہیں، کچھ اچھا سیکھ سکتے ہیں، کچھ اچھا بول سکتے ہیں اور اس کے لئے ہمارا میڈیا سے تعلق ہونا ضروری نہیں۔

ایک ماں بھی بچے کی تربیت کرتی ہے، ایک استاد بھی کرتاہے، ایک ادارہ بھی کرتا اور حکومت معاشرے اور اس کی فلاح و بہبود کے لئے ذمے دار ہوتی ہے، اگر وہ عوام کو آرام و سکون، دو وقت کی روٹی، ملازمت اور بنیادی سہولیات نہیں دے رہی تو وہ ناکام ہوگئی، اور ہمیں بحیثیت قوم ناکام حکومت کا رونا نہیں رونا، بلکہ آواز بلند کرنی ہے اپنے حق کے لئے۔

گھروں میں والدین اپنی ذمے داریوں سے فرار اختیار کرچکے ہیں، بچہ اور اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کا اب ہمارے پاس وقت ہی نہیں! بچے اسکول اور اسکول سے کوچنگ یا ٹیوشن کے حوالے کردیے جاتے ہیں۔

ہمیں بحیثیت قوم اپنی اور اپنے بچوں کی انفرادی و اجتماعی تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے، گھر پر بھی، مدارس میں بھی۔

علما کرام اس حوالے سے والدین، بچوں اور معاشرے کی فلاح و بہود کے لئے اپنا کرادا ادا کرسکتے ہیں اور اس بدعنوانی جیسے ناسور کے خاتمے کے لئے میڈیا بہت اچھا کردار ادا کرسکتا ہے۔

ہمیں شعور و آگاہی کی ضرورت ہے، وہ شعور جو انسانیت کی خدمت و محبت اور مساوات اور یگانگت کا درس دے اور حق اور سچ اور انصاف کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا سکھائے، حق بات بولنے اور سننے کی ہمت وحوصلہ دے، اور یہ شعور صرف کتابیں نہیں دیتیں، استاد نہیں دیتے بلکہ ماں باپ اور ان کی صحیح تربیت دیتی ہے جو وقت مانگتی، توجہ مانگتی ہے، فکر مانگتی ہے اور احساس مانگتی ہے، ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی صحیح تربیت کرنی ہے، انہیں سچ اور حق بولنا سکھانا ہے لیکن اس سے پہلے خود بھی بولنا ہے، آج اپنے بچے کو سچ بولنا سکھائیے تب ہی کل وہ جھوٹ کے خلاف لڑے گا۔

آج عوام کمزور ہے اسی لئے حکمران طاقتور ہے، انقلاب کے لئے آواز بلند کرنا ہوتی ہے بغیر کسی مصلحت اور فائدہ نقصان سوچے ہوئے، اپنی آواز اٹھائیے اور پاکستان کو بچا لیجئے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔