حسین حقانی: فوج، مولوی اور زرداری کے درمیان


برطانیہ کے ایک سابق سفارت کار جان برائن نے کہا تھا کہ اس شخص کو سرکس کے مید ان میں اُترنے کا کوئی حق نہیں ہے جو ایک ہی وقت میں دوگھوڑوں پر سواری کرنے کا ہنر نہ جانتا ہو۔ اس ہنر سے کون آشنا ہے اس پر بات کالم کی آخری سطروں میں ہو گی۔ پہلے بات کر لیتے ہیں حسین حقانی کے بارے میں جنہوں نے چند ہفتے قبل واشنگٹن پوسٹ میں لکھے آرٹیکل میں ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے ماضی کی کچھ باتو ں کو دہرایا ہے اور کچھ نئے انکشافات بھی کئے ہیں جس کے بعد پاکستان کی قومی سیاست میں اس موضوع کو خاص بات ہوئی۔ بہت سے سیاسی رہنماوں، صحافیوں، اینکر وں نے اس آرٹیکل کا مطالعہ کئے بغیر حسین حقانی کوغدار وطن اور پاکستان کے قومی مفاد کےلئے خطرہ قرار دے دیا۔ سب سے زیادہ ناراضگی ریاست کی طرف سے نظر آئی۔ قومی مفاد اس ملک میں وہ دو مقدس الفاظ ہیں جن کی تعریف اور اختیارات کے بارے میں سوال پوچھتے ہوئے پارلیمنٹ کے پرَ بھی جلتے ہیں۔ ماضی میں بھی قومی مفاد کے نام پر مجرم ٹھہرائے جانے والوں کا سلسلہ باچا خان، فیض صاحب، بھٹو صاحب، میا ں نواز شریف سے ہوتا ہوا گزشتہ برسوں میں پرویز رشید اور حسین حقانی تک پہنچا اور ابھی نامکمل ہے۔

حسین حقانی نے کھلے لفظوں میں تسلیم کیا ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد اُسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کو کامیا ب کروانے کے لئے انھوں نے پاکستان کی سیاسی حکومت کی اجازت سے امریکہ کے ساتھ سفارتی محاذ پر تعاون کر کے اس آپریشن کو کامیاب کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اور اس آپریشن کی کامیابی کے لیے جن لوگوں کوسفری دستاویزات کی ضروت تھی وہ بھی سیاسی حکومت کی ایما پر جاری کروائے۔ اب اس میں کون سی ایسی غلطی حسین حقانی سے سرزد ہوئی جو قومی مفاد میں رخنہ ڈالتی ہے جب کہ ریاستِ پاکستا ن اور امریکہ کے درمیان اس بات پر اتفاقِ رائے گزشتہ ایک دہائی سے موجود ہے کہ طالبان اور دہشتگردی کے خلاف دونوں ممالک اس جنگ میں اتحادی ہیں اور اس مقصد کے لئے امریکہ نے اربوں ڈالرز کا اسلحہ اور دیگر مراعات بھی پاکستان کو مہیا کی ہیں۔ جبکہ اس جنگ میں شامل ہونے کی وجہ سے پاکستان کو تقر یباً ایک سو چار ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا،اور 70 ہزار جانوں کی قربانی اس جنگ میں شرکت کی وجہ سے دینا پڑی۔ جس مقصد کے حصول کے لئے اتنی طویل جنگ لڑنی پڑی اس منزل تک پہنچے کا کریڈٹ حسین حقانی کو جاتا ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد آپریشن کو یقنی بنایا۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہ تاریخی آپریشن ہوا اور اس آپریشن میں سیاسی حکومت کے ساتھ کلیدی رول ادا کرنے والے اہم محرک حسین حقانی سے خود پیپلز پارٹی کی قیادت نے منہ موڑ لیا اور حسین حقانی کو یہ سبق دیا کہ کبھی بھی کمزور دوست کے ساتھ مل کربڑی منزلوں تک نہیں پہنچا جا سکتا۔ وہ کسی بھی وقت راستے میں ساتھ چھوڑ سکتا ہے جیسے حقانی کا ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ اس بات سے تو کوئی نظریں نہیں چرا سکتا کہ پاکستان میں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی ایک فر سودہ ڈاکٹرائن طویل عرصے سے موجود ہے۔اور اُسامہ بن لادن کو جن لوگوں کی نظر میں گڈ طالبان سمجھا جاتا رہا وہ ہی اس آپریشن سے خفا بھی ہوئے اور حسین حقانی کو ناکردہ گنا ہوں کی سز ا تسلسل سے مل رہی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  لیاقت علی عرف احسان اللہ احسان عرف بھولا!

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 15 کہتا ہے کہ کسی بھی شخص کو ایک جرم میں دو دفعہ سزا نہیں دی جا سکتی۔ ریا ست کی نظر میں حسین حقانی کے جرائم میں میموگیٹ کے علاوہ ان کی چاروں تصانیف بھی شامل ہیں۔ جن میں سے ایک (پاکستان: فوج اور ملاﺅں کے درمیان) ہے جس میں اُنہوں نے گزشتہ 70 برسوں میں پاک امریکہ تعلقات اور فوج اور ملاﺅں کے مفادات اور گٹھ جوڑ پر بڑے اہم نکات اُٹھائے ہیں۔ ہم طالب علموں کی نظرمیں تو اس کتاب کو نصاب کا حصہ ہونا چاہئے۔ جس میں ایسے اہم رازوں سے پردہ اُٹھایا گیا ہے جہنیں نصف صدی تک چھپایا گیا۔ اس کتا ب میں ایسے تلخ حقائق بیان کئے گئے ہیں کہ ریاست کےلئے حسین حقانی کو منتوں سے چپ کروانے کی نوبت آ پہنچی ہے جبکہ دوسر ی طرف واشنگٹن پوسٹ میں لکھے جانے والے حقانی کے اس آرٹیکل کے بعد قومی اور بین الاقوامی سیاست پر گہر ے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ برناڈ برش (Bernard Baruch) نے دنیا میں سب سے پہلے سرد جنگ کا لفظ استعمال کیا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں سچائی سے منہ نہیں موڑنا چاہیے، ہم سرد جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس وقت اس سچ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی  اور انٹر نیشل اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ایک سرد جنگ جاری ہے اور جس میں کلید ی اختلاف افغان جنگ کے بیانے پر ہے۔ حسین حقانی کے اس کالم کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ پیپلزپارٹی اور آصف زرداری کو ہوا ہے جنہیں اس آرٹیکل میں بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کے سامنے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا حامی ظاہر کیا گیا ہے۔ ایبٹ آباد آپریشن اور اُسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کلید ی کردار آصف زداری اور حسین حقانی کا ظاہر کیا گیا۔ اور امریکہ کے ساتھ دوستی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگلے قدموں پر جا کر کھیلنے کی جو سزا پیپلز پارٹی کو پاکستان میں مقد مات، ہیت مقتدرہ کی ناراضی اور انتقامی رویے کی صورت میں ادا کرنا پڑی ان سب قربانیوں کی امریکہ کو یاد دہانی آصف زرداری کرواتے رہے۔ بظاہر تو پیپلز پارٹی نے حسین حقانی سے لاتعلقی کا اظہار کیا الیکن دراصل یہ آرٹیکل پیپلز پارٹی کو امریکن اسٹیبلیشمنٹ کے قریب لے آیا جس کا ثبوت حقانی کے آرٹیکل کے چند دن بعد آصف زداری کے امریکن جریدے (فورس برگ) کو دئیے گے انٹر ویو میں ملتی ہے جہاں انہوں نے دہشت گر دی کے خلاف جنگ میں پی پی پی حکومت کی قربانیوں اور امریکہ سے دوستانہ تعلقات رکھنے کے اثرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔ اس بات کی شنید بھی ہے کہ امریکہ کا نرم گوشہ 2018 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کی طر ف ہو گا جبکہ صف بندیاں دیکھنے میں واضح نظر آرہی ہیں۔ آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کوئی اچھی سیاسی روایت نہیں جو میثاقِ جمہوریت کی نفی ہے لیکن اس ملاقات کے ذریعہ پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ نے اشاروں کنایوں میں اپنی ہمدردیوں کا اظہار کر دیا ہے۔ کالم کی ابتدا میں طالب علم نے دو گھوڑوں پر سواری کرنے والے جس سوار کی طر ف اشارہ کیا تھا وہ شخصیت آصف زرداری ہیں۔ جو بَیک وقت پاکستانی اور عالمی اسٹیبلیشمنٹ کے کندھوں پر ایوانِ اقتدار میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ امریکن جریدے کو آ صف زرداری نے اپنے دئیے گئے انٹرویومیں یہ پیغام دیا ہے کہ امریکہ کے مفادات کے لئے خطے میں سب سے موثر کردار آصف زرداری اور پیپلز پارٹی ہی ادا کرسکتے ہیں جن کا ماضی اس بات کا گواہ ہے۔جبکہ مقامی اسٹیبلیشمنٹ کو بھی یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان کی ریاست اور امریکہ کے تعلقات کے درمیان سردمہری اورخلیج بھی ختم کروا سکتا ہوں اس لیے کہ واشنگٹن میں بھی مضبوط تعلقات اور نرم گوشہ ہمارے ساتھ ہے جس کی دلیل ٹرمپ کی حلف برداری کی دعوت میں شرکت ہے۔ آصف زرداری کا خیال ہے کہ وہ پاکستانی ریاستی بیانیے کو 2018 میں درست سمت میں آگے لے کر چل سکتے ہیں۔ اس سارے منظر پر یہی تبصرہ کافی ہے

اسی بارے میں: ۔  ستر لاکھ سال پرانے گینڈے کا سینگ

توڑی جو اُس نے ہم سے تو جوڑی میرے رقیب سے

انشا تو میرے یار کے بس توڑ جوڑ دیکھ


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔