پارلیمانی مائیکروویو اور آئینی دھمکیاں


12784407_10153230132721783_1283289789_nنوید نسیم

جب سندھ رینجرز کرپشن کے خلاف کراچی آپریشن کی چھتری تلے پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں کو گرفتار کر رہی تھی۔ تب تو وزیر اعظم سمیت ساری وفاقی کابینہ اپنی بے بسی ظاہر کر رہی تھی۔ اب جبکہ نیب نے شریف برادران کے خلاف کیسز کو نبٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے تو وزیر اعظم نواز شریف نیب کو آئینی دھمکیاں دینے پر اُتر آئے ہیں۔

منگل کے روز وزیر اعظم نے نیب کو پنجاب میں ممکنہ کارروائی سے متعلق تنبیہ کی کہ اگر نیب کے چیئرمین قمرالزمان چوہدری نے ان کے تحفظات دور نا کئے تو حکومت نیب سے متعلق قانون میں ترمیم کا سوچ سکتی ہے۔

سلام ہے طرز جمہوریت کو جس میں ایک بار کسی کو اکثریت مل جائے تو وہ جب چاہے، جیسا چاہے اور جہاں چاہے کسی بھی موجودہ قانون میں ترمیم کرسکتا ہے اور اگر ترمیم سے کام نا چلے تو نئی قانون سازی میں بھی وقت نہیں لگتا۔ بوقت ضروت تو نیا قانون بذریعہ پارلیمانی مائیکروویو چند منٹوں میں تیار کر لیا جاتا ہے۔ بیشک حزب اختلاف والے جلدی میں بذریعہ مائیکروویو بنائے قانون سے متعلق مائیکروویو کے جتنے مرضی نقصانات گنوائیں۔

موجودہ حالات میں تو پاکستان مسلم لیگ نواز کے لئے کسی موجودہ قانون میں ترمیم یا نئی قانون سازی کرنا ایسے ہی جیسے پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کو ہرانا۔

نواز لیگ اگر پنجاب اور وفاق میں بااختیار ہے تو پیپلز پارٹی بھی سندھ میں اکثریت رکھنے پر پارلیمانی مائیکروویو کا خوب استعمال کرتی ہے۔ جس کی ایک مثال سندھ پروسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2015 ہے۔ جس کے تحت حکومت کسی بھی عدالت میں زیر سماعت کیس کو واپس لے کر ملزم کو رہا کروا سکتی ہے۔

بیچاری ایم کیو ایم کے سیاسی ستارے گردش میں ہونے کی وجہ سے نا تو متحدہ وفاقی حکومت میں شامل ہے اور نا ہی سندھ کی صوبائی حکومت میں۔ ایسے حالات میں متحدہ کبھی پیپلز پارٹی کی طرف مفاہمتی نظریں اٹھاتی ہے اور کبھی نواز لیگ کی طرف۔ مگر دونوں ہی نظریں ملانے سے انکاری ہیں۔

اب جبکہ نیب پنجاب میں کارروائی کرنے کا عزم کر بیٹھی ہے تو یقیناً نواز لیگ کی چیخیں نکلیں گی اور اگر ایسی صورت حال میں نواز لیگ پیپلز پارٹی سے مدد مانگتی ہے تو پیپلز پارٹی یقیناً وفاق کی جانب سے سندھ رینجرز کو زبردستی اختیارات دلوانے اور حالیہ دنوں میں ایف آئی اے کی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی یاد دلائے گی۔ ویسے بھی نواز لیگ پاکستان تحریک انصاف کے دھرنے کی وجہ سی پیدا ہونے والی سنگین صورتحال میں پیپلز پارٹی کی فراہم کردہ مدد کی قرض دار ہے۔ ایسے میں مشکل ہی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے۔

نیب کے پاس شریف برادران کے خلاف دو ایسے کیسز ہیں جو کہ ایک دہائی گزر جانے کے باوجود نبٹے نہیں اور اب نیب نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ 31 مارچ تک ان کیسز کو نبٹائے گی۔

ان میں ایک کیس اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ جس کے ذریعے 125 ملین کی لاگت سے رائیونڈ روڈ سے جاتی عمرہ تک سڑک کی تعمیر ہے۔ اس کے علاوہ ایک کیس 1999 میں ایف آئی اے میں ناجائز بھرتیوں کا ہے۔ نیب میں ایک کیس وزیر اعظم کے سمدھی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر بھی درج ہے۔ جوکہ اختیارات کا غلط استعمال اور ظاہر کردہ آمدنی سے متضاد بنائے گئے اثاثوں سے متعلق ہے۔

گزشتہ منگل کے روز جب وزیر اعظم بہاولپور میں نیب پر گرجے تو وزیر اعظم کی بے بسی ان کے چہرے سے عیاں تھی اور وزیر اعظم کی ایک وفاقی ادارے کے سامنے بے بسی آئندہ آنے والے حالات کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ جو کہ ممکن ہے کہ اس جمہوریت کے لئے خطرہ ہو جس کے تحت حاصل اختیارات کو نظریہ ضرورت کے تحت نواز لیگ اور پیپلز پارٹی اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہی ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ نیب کے پیچھے بھی وہی محرکات ہیں جو کہ سندھ میں جاری کراچی آپریشن کے پیچھے ہیں۔ اگر وہ محرکات سندھ کی دو بڑی پارٹیوں سے نہیں ڈرے تو وہ یقیناً پنجاب میں کارروائی سے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔

میاں صاحب ابھی تو بس 31 مارچ کی تاریخ طے ہوئی ہے۔ آگے آگے دیکھیئے ہوتا ہے کیا۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

­


Comments

FB Login Required - comments