وزیر اعظم مستعفی نہ ہوئے تو ملک گیر تحریک چلائیں گے: لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن


لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے پاناما کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وزیراعظم مستعفی نہ ہوئے تو وکلا ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ یہ مطالبہ ہفتے کے روز لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری ذوالفقار علی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اخلاقی طور پر نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

خیال رہے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے جمعرات کو پاناما لیکس کے معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔

چودھری ذوالفقار علی نے خبردار کیا کہ اگر وزیر اعظم نے سات روز میں استعفیٰ نہ دیا تو عدلیہ بحالی سے بڑی تحریک چلائی جائے گی۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملک کی پہلی وکلا تنظیم ہے جس نے پاناما پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ چودھری ذوالفقار علی نے اپنے مطالبے کے حق میں جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ اس لیے جائز ہے کیوں کہ وزیر اعظم کے ماتحت افسران وزیر اعظم کے خلاف غیر جانبداری سے تحقیقات نہیں کر سکتے۔

اس موقعے پر نائب صدر لاہور ہائیکورٹ بار راشد لودھی نے کہا کہ پہلی مرتبہ کرپشن سپریم کورٹ کا موضوع بنی ہے اور منی ٹریل پر سپریم کورٹ نے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کا موقف مسترد کر دیا ہے اور اب وہ وزیر اعظم کے عہدے پر رہنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  سجن جندل اور نواز شریف کی ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی

واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی ایسوسی ایشن ہے اور پنجاب بھر میں اس کے ارکان کی تعداد 24 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکریٹری عامر سعید راں نے کہا کہ’20 اپریل کے فیصلے نے وزیر اعظم کے خلاف فرد جرم عائد کر دی ہے۔ فیصلے میں دو ججوں نے واضح کر دیا ہے کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔‘ عامر سعید کا کہنا ہے کہ ’لگتا ہے حکمرانوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔‘

لاہور ہائیکورٹ بار کے عہدیداروں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر لائحہ عمل ترتیب دینے کے لیے وکلا کنونشن بھی بلایا جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 843 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp