ہندوستان سے ایک خط ….


ramish-fatima2سرحد پار سے چٹھی آئی ہے۔ کچھ خوف ہے جو ہر اپنے کو ہوتا ہے ، کچھ فکر اور کچھ پریشانی ہے، ان ہونی کا خوف اور ناگہانی کا ڈر، وبا کے دنوں میں یہی ہوتا ہے۔ پتوں کا طوفان آتا ہے تو کوئی کرنل کو خط نہیں لکھتا۔ پھانسی گھاٹ پر گھاس نہیں اگتی ۔ ہماری دریاﺅں کی دھرتی ہے ، یہاں گھاس اگتی ہے اور یہاں خط بھی لکھے جاتے ہیں ۔ ابھی انتظار حسین رخصت ہوئے ہیں۔ ایک افسانہ انہوں نے لکھا تھا،’ ہندوستان سے ایک خط‘۔ اور اب ایک خط واقعی میں ہندوستان سے لکھا گیا ہے۔ چلئے، طے ہو گیا ، انتظار حسین رخصت ہوئے ہیں ، روایت سلامت ہے…. ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے….

تو بات یہ ہے تصنیف حیدر کہ سرحد پار گولیوں کا نہیں، چٹھیوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہے۔واٹس ایپ اور میسنجر کے ہوتے ہوئے بھی کبھی آواز سننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، سکائپ کے باوجود کبھی کسی تلخ بات پہ چہرے کے تاثرات یا کسی بات پہ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، لیکن کیا واقعی ہم ایک دوسرے کو نہیں جانتے؟ کچھ تصویریں ہیں، ادبی دنیا ہے، شاعری ہے، اسٹیٹس اپ ڈیٹ ہیں اور اتنا لوگ برسوں ساتھ رہ کے بھی نہیں سمجھتے جتنا اس ٹیکنالوجی نے ہمیں بتا دیا۔ لے دے کر شکریہ مارک زکربرگ ہی کا بنتا ہے کہ اس جنم کتھا کو رچنے میں اس ملحد نے کمال کر دکھایا، پہلے ہی کافروں کی زندگی میں آسانیاں تھیں کہ اس نے ملحد ہو کر اپنی آسانیوں میں اضافہ کر لیا اور پارسائی کے پتلے مشکلات جھیلتے رہیں گے۔

وہ ڈر اور خوف جو تمہارے دل میں میرے لیے ہے، اس کا علاج کوئی نہیں کہ ایسے دو چار لوگ جن کے خلوص پہ شک نہ کیا جا سکے، ان میں سے ایک تم بھی ہو اور پھر جہاں معاملات گالی، دھمکی اور گولی کے ہوں تو اپنوں کو پریشانی ہوتی ہی ہے۔ خیر کی بات یہ ہے کہ جن باتوں پہ میں کڑھتی ہوں، وہ معاملات تمہیں بھی ستاتے ہیں۔ ہماری پہچان تو فقط یہی ہے نا کہ اختلاف رکھتے ہیں، مگر گولی نہیں مارتے۔ لیکن یہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی کہ گھٹن تو وہ تھی جب میں چپ چاپ سب سہہ رہی تھی، اب بولتی ہوں تو گھٹن ان لوگوں کو ہوتی ہے جنہیں اپنا چہرہ نظر آتا ہے میری باتوں میں۔

کچھ سال پیچھے جاﺅں تو ایک یومِ منایا جا رہا تھا ، اس میں جانباز نعرہ لگا رہے تھے کہ سر تن سے جدا ہی سزا ہے، جانبازوں میں وہ فریبی ، منافق ، چغل خور اور ہر بات میں فتنہ فساد کھڑا کرنے والے سب شامل تھے جنہیں میں جانتی تھی، بھری دوپہر میں ایک سوال نے میرا ہاتھ تھاما کہ ایسا نعرہ کیوں ؟ یہ سزا زیادتی ہے ، ظلم ہے ، اور یہ سب اتنے پرجوش ہو کر یہ نعرہ کیوں لگا رہے ہیں؟ اس سوال نے باوفا محبوب کی طرح آج تک میرا ہاتھ تھامے رکھا ہے۔ کیا ہی کسی محبوب نے ساتھ نبھایا ہو گا جیسا اس نے نبھایا۔ پھر اس سوال کے بعد سوال ہی سوال تھے جن کے جواب تلاش کرنے تھے، کچھ کتابیں تھیں اور میں تھی۔ پھر جو شعور اور آگہی کی چتا جلی تو اس میں بہت کچھ راکھ ہو گیا۔

آٹھ دس سال کی عمر سے لے کر اوورآل پہنے اسپتال میں فرائض انجام دینے تک کہانی بدلی نہیں ہے ، سڑکوں پہ سڑک چھاپ ہوتے ہیں اور یہاں ڈگری یافتہ سینئر، کہانی وہی ہے، طریقہ واردات مختلف ہے۔ کچھ تبدیل نہیں ہوا ۔ اور ہوا تو فقط یہ کہ اذیتوں کے سامان کی گٹھڑی کھلتی جاتی ہے، تعلق پہ تعلق پامال ہوتا جاتا ہے، گلیوں، گھروں، خاندانوں اور زندگیوں کی کہانی سرحد پار بھی وہی ہے کیونکہ ابھی ہم عورت کو عزت دینے پہ تیار نہیں ہیں۔ عورت انکار کرے تو طعنہ پائے گی، اور پھر تیزاب اس کا مقدر ہے اور مرد اگر انکار کرے تو ایک اور مل جائے گی۔ ایسے میں اگر کوئی لڑکی محبتوں پہ یقین رکھتی ہو، اسکی اخلاقیات کا معیار مختلف ہو، سوال کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو اور آئینہ اٹھائے تو کسی کو اپنا چہرہ نظر آ جائے ، اس میں روایت سے ہٹ کے چلنے کی خودسری سوار ہو تو انجام کچھ بھی ہو، فرق نہیں پڑتا۔ موت آنی ہی ہے کہ چپ رہے تو اندر کی گھٹن اور بھیتر کی جلن مار دے گی۔

تمہارا خط ایک باکمال شخص کا بے مثال تحفہ ہے۔ اس لیے تم اپنی معصوم بدمعاشیوں سے کچھ وقت نکالو، کچھ مسیحائی دستگیر ہو تو یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ ذرا ماحول بدلتے ہیں ۔ ہم سب کا جب تک کہ کوئی گولی ہم تک نہ پہنچے، جب تک موت فنا کی کسی اور منزل پہ لے جائے، یہ آدھی ادھوری ملاقات کرتے رہیں گے، اس امید پہ کہ ایک دن نفرت کی سرحد کے اس پار پہنچیں گے جہاں نفرت اپنا معنی کھو بیٹھے گی۔ جہاں استاد اللہ رکھا کا طبلہ بجے گا، استاد بسم اللہ کی شہنائی گونجے گی ، اندرانی رحمان کا کتھک ہو گا ، شیما کرمانی کا بھارت ناٹیم ہوگا، امرتا شیر گل کی تصویر بنے گی، فیض کی نظم لکھی جائے گی ، ٹیگور کا گیت گایا جائے گا، بیدی کا افسانہ پڑھا جائے گا…. ایک خط ہی تو لکھا ہے تم نے…. وقت کی انگلی کو ابھی بہت کچھ لکھنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ہندوستان سے ایک خط ….

  • 24-02-2016 at 10:23 am
    Permalink

    عمدہ مضمون ہے۔ ڈاکٹر فاطمہ کو چاھئے لٹریچر کی طرف رخ کریں کامیاب رہیں گی۔
    متن کے حوالے سے عرض ہے کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ کبھی مذھب تو کبھی معاشرتی اخلاقیات کا سہارا لیکر عورت کو کم تر درجہ پر ایک کموڈٹی کے طور پر برتا جاتا ہے۔
    میں سمجھتا ہوں کہ عورت کو بحیثیت انسان رتبہ درکار ہے نہ کہ بحیثیت عورت کے۔

Comments are closed.