نواز شریف کے بعد اب زرداری کا پیچھا کروں گا : عمران خان


دادو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین عمران خان نے کہا کہ آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان بہت شاطر سیاستدان ہیں، اللہ مجھے ان جیسا عقلمند سیاستدان نہ بنائے جب کہ وقت ثابت کرے گا کہ ایک لومڑی کی طرح سیانا سیاستدان بھی تھا جس کا نام نوازشریف تھا کیوں کہ اسے کوئی بھی کرپٹ نہیں مانتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ زرداری میں ایک خاصیت ہے کہ انہوں نے اپنا ڈاکو پن چھپانے کی کوشش کی اور کبھی یہ نہیں کہا کہ میں پیٹ پھاڑ کر لوٹا ہوا پیسہ ملک میں واپس لاو¿ں گا اور نہ کبھی یہ کہا کہ میری باہر جائیداد نہیں تاہم آصف زرداری نے اپنی سیاسی سمجھ سے پیپلزپارٹی کو چھوٹی جماعت بنادیا جو ڈکٹیٹر بھی نہ کرسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف جے آئی ٹی میں پھنس گئے، اب میں سندھ میں آصف زرداری کے پیچھے آرہا ہوں اور ان دونوں حکمرانوں نے مل کر جو پاکستان کی بندر بانٹ کرکے ادھر تم ادھر ہم والا سسٹم بنایا ہوا ہے وہ ختم کروں گا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم کی اخلاقی حیثیت ختم ہوگئی ہے، پاناما سے لوگوں کو نوازشریف کا اصل چہرہ نظر آیا اور نوازشریف شریف بنتے تھے مگر اب پھنس گئے ہیں، میں آج سے نہیں بلکہ 30 سال سے نوازشریف کو جانتا ہوں جب کہ میں نے تو 18 سال قبل لندن میں ان فلیٹس پر نوازشریف کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس آیا تو پہلے ہمیں ٹی او آرز کی بتی کے پیچھے لگادیا گیا اور خواجہ آصف اسمبلی میں کہتے رہے کہ لوگ پاناما کیس کو بھول جائیں گے لیکن ہم نے ایسا ہونے نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کرپٹ حکمران باہر سے قرضے لیتے ہیں جو غریب عوام کو دینا پڑتا ہے اور سندھ کی عوام تو خاص طور پر سنے کیوں کہ سندھ کے لوگوں کو کرپشن نے تباہ کردیا، جہاں پینے کا صاف پانی نہیں، مگر یہ مخصوص طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا جارہا ہے۔

چیرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اس ملک میں جتنا پیسہ بنتا ہے اس میں سے 70 فیصد قرض کی مد میں چلا جاتا ہے اور اس سے پاکستان کو نقصان ہورہا ہے جب کہ پیپلزپارٹی کے ڈاکٹر عاصم کے اوپر 460 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے اور شرجیل میمن اور ایان علی نے لوٹ مار کی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ عمران خان نے جمعہ کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جلسے میں نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کروں گا، میری جنگ کرپٹ لوگوں کے خلاف ہے، اب پورے پاکستان میں جاو¿ں گا اور کرپشن کے خلاف تحریک شروع کروں گا جب کہ لوگوں کو بتاو¿ں گا کہ ایک کرپٹ انسان ملک کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے خیبرپختونخوا کی پولیس میں سیاست کا خاتمہ کرکے اسے تبدیل کردیا اور مشال خان کے کیس پر چیف جسٹس نے آئی جی خیبرپختونخوا کو کہا کہ جس طرح کی آپ کی کارکردگی ہے ہمیں کسی کمیشن کی ضرورت نہیں آپ اپنی تفتیش جاری رکھیں، اگر ایسے ہی دیگر صوبوں کی پولیس کو غیر سیاسی کردیا گیا تو ہی یہ نظام ٹھیک ہوگا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔