پانامہ میں بھیگتی ڈوبتی سیاست اور کابل کے اشارے


کپتان نے اپنی قوم کے تمام مسائل کا درست اندازہ لگایا ہے۔ وہ سمجھ گیا ہے کہ اس کی قوم سدھرنے والی نہیں ہے۔ اس کو دھلائی کی ضرورت ہے۔ اسی قومی دھلائی کے لیے پہلے اس نے سونامی چڑھا کر کے پی ڈبویا، سوری دھویا۔ اب قوم کو لے کر پانامہ نہر میں دھونے نکلا ہوا ہے۔ قوم بھی ایسی ہے وہ وہاں بھی آرام سے ڈوب جاتی ہے جہاں پانی ہی نہ ہو۔

عدالت نے مہربانی کی ہے اچھی طرح پکانے تڑپانے کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ پانامہ کیس کا فیصلہ دیکھ کر لگتا ہے یہ مقدمہ آل پاکستان حلوائی ایسوسی ایشن نے کیا تھا۔ سارے پاکستان میں باسی مٹھائی تک بک گئی ہے۔ معزز عدالت معاف کرے سارے پاکستان پر توہین عدالت لگنی ہے۔ یہ فیصلہ صدیوں تک یاد رکھنے کا عدالتی اعلان بڑا واضح تھا۔ خیر سے ہمیں اے بی سی نہیں آتی اور فیصلہ انگریزی میں ہے۔

عدالت ملک میں تعلیم عام کرنے کو تلی ہوئی ہے۔ پچھلی بار خلیل جبران کی پوری نظم یاد کرائی تھی قوم کو۔ رپوٹر حضرات خلیل جبران کو ڈھونڈتے رہے تھے کہ کسی طرح راضی ہو جائے اور لائیو بیپر دے کر خود اپنی نظم ترنم سے سنا دے۔ اس بار فیصلے میں گاڈ فادر کی تعریف کی ہے۔ اب اسے پتہ نہیں کہاں ڈھونڈنا ہے کہ آئے اور بابائے قوم کی جگہ سنبھال کر ہمیں ترقی دے۔

پاکستان میں تاجر نیک لوگ ہوتے ہیں یہ بولتے نہیں ہیں بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں کمائی کرتے ہیں۔ فاٹا کے لوگ اتنے نیک نہیں ہوتے ہیں کم از کم ان کے ساتھ ہمارا ریاستی سلوک یہی بتاتا ہے کہ ان میں کوئی فرق ہے ضرور۔ فاٹا کے قبائل کی کافی بڑی اکثریت کا روزگار باڑہ مارکیٹوں سے بندھا ہوا ہے۔ باڑہ میں تو اب کوئی مارکیٹ باقی نہیں بچی البتہ وہاں کہ تاجر پشاور میں حیات آباد کے پاس کارخانو مارکیٹ میں کام کرتے ہیں۔ ان مارکیٹوں میں قانون کی ناک مروڑ کر بلکہ مروڑے بغیر بھی باہر سے مال منگوایا جاتا ہے۔

فاٹا کے یہ دکاندار کافی منہ پھٹ بھی ہوتے ہیں کہ دکاندار تو ہوتے ہیں لیکن اس سے بھی پہلے قبائلی ہوتے ہیں۔ پاکستان میں جب بھی کرپشن کے خلاف کوئی مہم چلتی ہے۔ یہ قبائلی دکاندار ہاتھ اٹھا اٹھا کر یہ مہم چلانے والوں کی شان میں غزلیں پڑھتے ہیں۔ ٹی وی پر جب کوئی غصے میں عوامی زبان بولنے لگ جائے تو اس کی جگہ ٹوں ٹوں لگا دی جاتی ہے۔ کارخانو مارکیٹ کے یہ دکاندار بھی وہی ٹوں ٹوں کرتے ہیں اور ایسے کرتے ہیں کہ بڑے سے بڑے نیکو کار کے ایمانداری والے کیڑے فوری مر جائیں۔ وہ بس اتنا ہی کہتے ہیں کہ اگر کرپٹ لوگوں کے پیچھے پڑو گے تو کاروبار کیسے چلے گا۔ یہی کرپٹ تو خریدار بھی ہیں جو ہر جگہ خریداری کرتے ہیں تو کاروباری سرکل چلتا ہے۔ جب ان کو اپنی پڑتی ہے تو یہ اور ان کے گھر والے مارکیٹوں میں نہیں آتے انڈسٹری کا بھٹہ بیٹھنے لگتا ہے۔

فاٹا والوں کی یہ آبزرویشن آپ کو عجیب ہی لگی ہو گی۔ ان کو ان کے حال پر چھوڑتے ہیں آگے کابل چلتے ہیں۔ پاکستانی افغان اشرافیہ سے واقف نہیں ہیں۔ یہ عدم واقفیت ہمارا ہی نقصان کرتی ہے اور ہم بہت کچھ سمجھنے سے رہ جاتے ہیں۔ افغان اس خطے پر لمبا عرصہ حکومت کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے جگہ جگہ جنگیں لڑی ہیں اپنا اقتدار مستحکم کرنے کے لیے۔ کبھی جیتے ہیں کبھی ہارے ہیں۔ افغان اشرافیہ برصغیر میں ہونے والی تبدیلیوں کو سب سے پہلے نوٹ کرتی ہے۔ اگر آپ دہلی اور اسلام آباد کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کابل پر نظر رکھنا بڑا ہی فائدہ دیتا ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال ہے دو ہزار تیرہ کے الیکشن سے بہت پہلے یعنی سال دو قبل ہی کابل کی اہم شخصیات بشمول حامد کرزئی نوازشریف سے رابطے میں آ گئے تھے۔ انہوں نے حسب معمول بروقت بھانپ لیا تھا کہ نوازشریف اگلے حکمران ہیں۔

عمران خان نے حال ہی میں آرمی چیف جنرل باجوہ سے ایک ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کی کہانی بہت دلچسپ ہے کہ اس ملاقات میں اصل کردار افغان سفیر کا تھا۔ پاکستان میں جب بم دھماکوں کی لہر کے بعد افغان باڈر بند کیا گیا تو پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیل وال عمران خان کے پاس پہنچے۔ انہوں نے عمران خان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی پختونوں کے قائد ہیں۔ وہ افغان سرحد کھولنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ افغان سفیر کے توجہ دلانے پر ہی عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کا وقت مانگا تھا۔ یہ ملاقات افغان سرحد کھلنے کے بعد ہی ممکن ہو سکی لیکن اس کا پس منظر یہی تھا۔

پانامہ گیٹ کے فیصلے میں عدالت نے ایک جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔ اس جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے تجربہ کار افسران کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ سب اہتمام اس لیے کیا گیا تھا کہ اس کمیٹی پر اعتماد کیا جا سکے۔ یہ اعتماد دلانا اس لیے ضروری تھا کہ کپتان اور اس کی پارٹی پرسکون رہیں۔ کپتان اور اس کی پارٹی صورتحال کو کتنا سمجھی ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ کپتان کے سیاسی مشیر شیخ رشید ہیں کہ وہ اپنی پارٹی سے بھی زیادہ انہی کی سنتے ہیں۔ شیخ رشید سیاستدان تو اچھے ہی ہیں لیکن ان کا کردار سمجھنا ہو تو اس وڈی پھپو کو یاد کر لیں جو ہر گھر میں ایک ہوتی ہے۔ ہر فساد میں موجود پائی جاتی ہے کئی رونقیں اسی کے دم قدم سے ہوتی ہیں۔ جو اس کے پیچھے چلے اور اس کی مانے اسی کے بیڑے غرق ہوتے ہیں۔

پی پی نے کپتان اور اس کی پارٹی کے ساتھ پارلیمنٹ میں اتحاد کر لیا ہے بلکہ اسے اپنے پیچھے لگا لیا ہے۔ جے آئی ٹی پر اعتراض داغ دیا ہے جس کے جواب میں آئی ایس پی آر کی ڈانٹ ڈپٹ والی ٹویٹ بھی آ گئی ہے۔ اس سب کا اصل نقصان کپتان کی سیاست کو ہی ہونا ہے۔ پاکستان کی باقی سیاسی جماعتیں اب اس پر اتفاق کر چکی ہیں کہ وہ سول معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونے دیں گی۔ کپتانی کے پھپو مارکہ سیاسی مشیر شیخ رشید صورتحال سمجھ گئے ہیں۔ انہوں نے غصہ بھی نوٹ کر ہی لیا ہو گا کہ وہ خود بھی دعوی کرتے رہتے ہیں کہ جی ایچ کیو ان کے حلقے میں آتا ہے۔ شیخ رشید اب ریویو پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہو گا کہ جے آئی ٹی نہیں بنے گی۔ افغان بھی تبھی کپتان کے ساتھ رابطے میں دیر سے آئے ہیں کہ اسے سیاسی فریق تو سمجھتے ہیں سیاست کا اچھا کھلاڑی ہرگز نہیں سمجھتے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 244 posts and counting.See all posts by wisi