جوگاڑ!


ذکر چل رہا ہے پاناما کیس کے فیصلے کا اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں بہت سنجیدہ نوعیت کی تبدیلیاں متوقع تھیں۔ دنیا بھر میں پاناما پیپیرز کے سامنے آنے کے بعد جو ہلچل مچی، وہ کئی لوگوں کو اقتدار سے ہٹانے کا باعث بنی مگر پاکستان میں اس کیس نے لطیفہ سازی اور میم بازی کے نئے ریکاڑ قائم کیے۔

پاناما پیپرز سے یہ بات معلوم ہوئی کہ موجودہ وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کی کچھ ایسی جائیداد ہے جو پوشیدہ ہے اور اس کی منی ٹریل بھی واضح نہیں۔ ان کے خلاف نا اہلی کی درخواستیں جمع کرائی گئیں اور ہم ایک معزز قوم کی طرح انتظار کرنے لگے کہ عدالت جلد ہی وزیرِ اعظم کو نا اہل قرار دے دے گی اور اس معاملے کو دیکھ کر آنے والے عبرت پکڑیں گے اور آئندہ سے اس ملک میں بد عنوانی نہیں ہو گی۔

ظاہر ہے جس مقدمے کی بنیاد ہی ایک افسانوی اور یو ٹوپیئن تصور ہو اس کے ثبوت وکی پیڈیا اور کتابوں رسالوں میں ہی ڈھونڈھیں جائیں گے۔ کیس چلتا رہا، لطیفے بنتے رہے، طنز ہوتے رہے، کچھ لوگ اتنے جذباتی ہوئے کہ شیر وانیاں تک سلوا کر بیٹھ گئے مگر ایک بات اس بھولی قوم کو سمجھ نہیں آتی اور وہ یہ کہ جو لوگ یہ پو شیدہ جائیداد بناتے ہیں وہ آپ کے میری طرح بے وقوف نہیں ہوتے۔

یہ اللہ کے نوازے ہوئے لوگ ہوتے ہیں اور ان سے جلنے سے سوائے السر اور معدے کے امراض میں اضافے کے کچھ نہیں ہوتا۔ ظاہر ہے جی، جب آپ کسی کی روٹی پہ نظر رکھیں گے تو آپ کا رزق بھی اٹھ جائے گا۔ اپنی اپنی کھا، محنت کر حسد نہ کر۔

غالباً الف لیلیٰ کی ایک کہانی میں کسی بے چارے نانبائی نے علی الصبح اپنی ہانڈی کا ڈھکن اٹھایا تو اس میں ایک کٹا ہوا انسانی سر تھا کوئی نا شدنی قتل کر کے اس کا ثبوت مٹانے کو یہ حرکت کر گیا تھا۔ اب ظاہر ہے چھان بین تو ہونی ہی تھی کیونکہ ایک عادل بادشاہ کا دورِ حکومت تھا اور اس چھان بین کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ بادشاہ وزیرِ اعظم کو رات بھر کی مہلت دیتا تھا کہ گجر دم یا تو اس بات کا کھوج نکال کر لاؤ یا خاندان سمیت مرنے کو تیار ہو جاؤ۔

چھپانے والے کو بھی اس سے بہتر جگہیں مل سکتی تھیں لیکن کسی بہت ہی فرائیڈین سوچ کے تحت اس نے یہ تماشا کیا۔ رات بھر کی مہلت اور پھر پھانسی کا پھندہ، وزیرِاعظم کو نیند نہیں آرہی تھی۔ ان کی عقلمند بیٹی نے جو یہ ماجرا دیکھا تو کہا ابا جان آپ پریشان نہ ہوں میں کوئی جوگاڑ کرتی ہوں۔

وزیر زادی کا جوگاڑ کامیاب رہا اور سارا معاملہ با حسن و خوبی حل ہو گیا۔ بادشاہ نے اس سارے واقعے کو لکھوا کر اپنے کتب خانے میں محفوظ کر لیا تاکہ اگلی نسلیں اس سے سبق سیکھیں۔
سب جانتے ہیں کہ ہمیں بچپن ہی سے الف لیلیٰ جیسی اعلیٰ پائے کی تاریخی کتابیں پڑھنے کو دی جاتی ہیں۔ ایک عربی کہاوت ہے کہ بچپن کا علم پتھر پہ لکیر ہوتا ہے۔ وہ دن جاتا ہے اور آج کا دن آ تا ہے وزیر ہو یا غریب، جوگاڑ کرنا سب ہی سیکھ گئے اور اس طرح یہ جوگاڑو قوم وجود میں آئی۔

زمانہ بدل گیا مگر دور وہی رہا۔ ہر ہانڈی جب کھلتی ہے تو اس میں ایک کٹا ہوا سر نکلتا ہے، ہر بار ویسی ہی حیرت ہوتی ہے، ہر بار اسی طرح تحقیقات کا ڈول ڈالا جاتا ہے، صحافی گلے کی رگیں پھلا پھلا کر بولتے ہیں عوام خوش ہوتے ہیں کہ بس کچھ دن کی بات ہے ظلم اور نا انصافی کی یہ لمبی رات ختم ہونے والی ہے۔

مگر ہمیشہ خواب اور اس کی تعبیر، خواہش اور حقیقت کے درمیان کوئی بھانجی مار جاتا ہے اور ملزم صاف بری ہو کر اپنی لوٹی ہوئی دولت لے کر مزے سے بیرونِ ملک سدھارتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد واپس آکر مزید دولت لوٹتے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جوگاڑ کیا ہے اور کیسے لگایا جاتا ہے، یہ ایک مکمل علم ہے اور اس کو سیکھنے، سمجھنے اور ہضم کرنے کے لیے ایک عمر درکار ہے۔ اس کے ایک سادہ استعمال کو آج ایک مثال کی مدد سے واضح کرتے ہیں۔

چوری پہ چتراری۔ اس کی ایک مثال ریمنڈ ڈیوس کیس تھا۔ قاتل نے سینکڑوں لوگوں کے سامنے قتل کیا، قصاص دیا اور یہ جا وہ جا۔ خیر سے یہ اسی ملک میں ہوا جہاں کوئی مائی کا لعل بہن بیٹی کو جائیداد میں شرعی حصہ دیتا ہے اور نہ عورتوں کو ان کے شرعی حقوق تک حاصل ہیں، اور کرانے والے وہ لوگ تھے جو اسلام کو نظریۂ حکومت سمجھنے پر تیار ہی نہیں۔ دوسری، تیسری اور بہت سی اگلی مثالیں آپ خود ڈھونڈھ لیجیے۔

، جو گاڑ لگایے، لطیفے سنیے، سنائیے، خوش رہیے، ہنسی علا جِ غم ہے، فیض صاحب تو یوں ہی کہہ گئے

’تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا
اور یہ سفاک مسیحا میرے قبضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ہاں مگر تیرے سوا تیرے سوا تیرے سواء‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔