لوڈ شیڈنگ کا جادوئی حساب کتاب


جون کی گرمی تھی۔ رمضان کی آمد تھی۔ لاہور میں لوڈ شیڈنگ تقریباً سات آٹھ گھنٹے کی ہو رہی تھی اور دیہی علاقوں میں تقریباً بارہ گھنٹے کی۔ پھر اچانک ایک دن بجلی کے تقسیم کار ادارے این ٹی ڈی سی نے اعلان کر دیا کہ ملک میں بجلی کی طلب سترہ ہزار سات سو، اور پیداوار تیرہ ہزار نو سو میگاواٹ ہے۔ کچھ سمجھ تو نہیں آیا، کہ ان اعداد و شمار کی روشنی میں بجلی کی کمی صرف بیس فیصد ہے، جو پانچ گھنٹے سے کم بنتی ہے، تو پھر کیوں ملک میں چودہ گھنٹے بجلی جا رہی ہے۔ تو صورت حال کو جاننے کے لیے ہم نے این ٹی ڈی سی کے ایک اعلی افسر برق بٹ سے انٹرویو کے لیے وقت لیا۔ ان سے کی جانے والی گفتگو ہم اپنے قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کر رہے ہیں۔

ہم: برق صاحب، السلام علیکم۔

برق: جناب آپ کا کیمرہ مین کہاں ہے؟

ہم: جی کیمرہ مین تو نہیں ہے۔

برق: تو پھر انٹرویو کیسے دیا جا سکتا ہے؟ لگتا ہے کہ آپ میرا اور اپنا وقت ضائع کرنے کے لیے آئے ہیں۔ آپ تشریف لے جا سکتے ہیں۔

ہم: جناب، ہم نے سوچا تھا کہ آپ سے آپ کے کسی بیرونی دورے کی تصاویر لے کر وہ پوسٹ کر دیں گے سنا ہے کہ حال ہی میں آپ فرانس میں لوڈ شیڈنگ کی صورت حال کا مطالعہ کرنے کے لیے مہینہ بھر مقیم رہے ہیں۔ کیسا رہا پیرس؟ کیا وہ ویسا ہی ہے جیسا ہم نے سنا ہے؟ آئفل ٹاور کے سامنے کھینچی گئی اپنی تصویر ضرور دیں۔ وہ ہم سرورق پر لگائیں گے۔

برق: بھئی آپ تو بہت صاحب ذوق معلوم ہوتے ہیں۔ واقعی، پیرس کی تصاویر کا یہاں اس دفتر میں لی جانی والی تصاویر سے کیا مقابلہ۔

برق صاحب نے اپنے پی اے کو بلا کر بھرپور لوازمات کے ساتھ چائے لانے اور پیرس کی تصاویر کا ایک سیٹ ہمیں دینے کا حکم دیا۔

ہم: برق صاحب، کچھ بتائیے کہ آپ نے وہاں کیا مشاہدہ کیا۔ کس کس سے ملاقات رہی۔ وہاں کے محکمہ بجلی کے حکام سے مذاکرات کیسے رہے؟

برق: صاحب آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ فرانس جا کر بھی محکمہ بجلی ہی دیکھنا ہے؟ ہوا یوں کہ ابھی مہینے پہلے ایک پارٹی میں ایک سینئیر بیوروکریٹ سے ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بتا رہے تھے کہ پیرس روشنیوں کا شہر ہے۔ اور خاص طور پر شامیں ایسی ہوتی ہیں کہ لدھڑ سے لدھڑ بندے کے انگ انگ میں بجلی سی بھر جاتی ہے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہمارے ملک میں شام چھے سے گیارہ بجے ہی بجلی کا بحران شدت اختیار کر لیتا ہے، تو میں نے پیرس کی شاموں کی اس خصوصیت کا مشاہدہ کرنے کے لیے وہاں کا دورہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ وہاں کے تجربے سے فائدہ اٹھا کر وطن عزیز کی صورت حال میں بھی کچھ بہتری لائی جا سکے۔

ہم: اوہ، تو کچھ وہاں کی شاموں کے بارے میں ہی بتائیے۔

برق: چھوڑیے جناب۔ وہاں تو ہر شے روشن ہے۔ کس کس چیز کا ذکر کروں۔ آئفل ٹاور شام ڈھلے ہی بقعہ نور بن جاتا ہے۔ اس کے نزدیک واقع تفریح گاہوں میں قدم بے اختیار کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اور وہاں داخل ہوتے ہی چراغوں میں روشنی باقی نہیں رہتی ہے۔ پھر صبح آنکھ کھلتی ہے تو پچھلے دن کا ماجرا یاد ہی نہیں رہتا ہے۔ اس شام دوبارہ وہی تجربہ نئے سرے سے حاصل کرنا پڑ جاتا ہے۔

ہم: اندھیرے اجالے کے اس کھیل کا آپ نے کتنے عرصے مطالعہ کیا ہے؟

برق: دورے کا بجٹ تو تقریباً ایک ہفتے کا تھا۔ اس کو کہہ کہلا کر دو ہفتے تک کرانا پڑا تھا۔ پھر واپس آنا پڑ گیا۔ لیکن دل ابھی تک وہیں اٹکا ہوا ہے۔

ہم: اچھا تو اب وطن عزیز کی صورت حال کی طرف آتے ہیں۔ پیرس کے اس مطالعاتی دورے سے اخذ کردہ نتائج کو یہاں کس طرح اپلائی کیا جا سکتا ہے؟

برق: ہمیں اس سٹیج تک پہنچنے میں ابھی دو تین سو سال لگ جائیں گے۔ لیکن رفتار کو تیز تر کرنے کے لیے ہر سال گرمیوں میں وہاں کا دورہ کرنا مفید رہے گا۔ بہرحال پہلے قدم کے طور پر ہم نے لاہور میں، کہ قیام پاکستان سے قبل ہندوستان کا پیرس کہلاتا تھا، ہم نے ایک بڑا پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ انشا اللہ اگلے چار مہینے سے کم وقت میں ہم مینار پاکستان پر قمقمے لگا کر اسے آئفل ٹاور کے مقابل لے آئیں گے۔

ہم: اچھا یہ بتائیے، کہ آپ کے محکمے کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب سترہ ہزار سات سو، اور پیداوار تیرہ ہزار نو سو میگاواٹ ہے۔ اس صورت میں تو ہمارے پاس انیس گھنٹوں کے لیے بجلی موجود ہے، لوڈشیڈنگ کسی صورت میں بھی پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے۔ لیکن اسی اعلان کے مطابق لوڈشیڈنگ شہروں میں بارہ گھنٹے اور دیہات میں سولہ گھنٹے کی ہو رہی ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ چودہ گھنٹے کی اوسط لوڈشیڈنگ کے مطابق تو ہمارے پاس صرف ساڑھے سات ہزار میگاواٹ بجلی دستیاب ہے، جبکہ دعوی تقریباً چودہ ہزار میگا واٹ کا کیا جا رہا ہے۔ یہ چھے ہزار میگاواٹ کہاں جا رہے ہیں؟

برق: کچھ لائن لاسز ہیں۔

ہم: برق صاحب، یعنی اٹھاون فیصد بجلی لائن لاسز کی نذر ہو رہی ہے؟ ویسے لائن لاسز کو کیا ہم سادہ زبان میں بجلی کی چوری کہہ سکتے ہیں؟

برق: ایسا کہنا غلط ہو گا۔ دیکھیں بجلی کی ایک بڑی مقدار ٹرانمیشن کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔ باقی ماندہ معمولی سی مقدار ہی چوری ہوتی ہے۔

ہم: ٹرانسمیشن میں تو تقریباً تین چار فیصد بجلی ہی ضائع ہوتی ہے۔

برق: جی ہاں، بجلی کی یہ بڑی مقدار ٹرانسمیشن کے دوران ضائع ہو جاتی ہے۔

ہم: اور باقی پچپن چھپن فیصد لاسز کا آپ کیا کر رہے ہیں؟

برق: ہم اس چوری کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ہی ہم نے اس کے خلاف ایک ملک گیر آپریشن کیا تھا اور ایک لائن مین کو معطل کر دیا گیا ہے جو کہ ایک پورے شہر کے دو گھروں کو غیر قانونی طور پر بجلی فراہم کر رہا تھا۔

ہم: اچھا اب رمضان شروع ہو گیا ہے۔ حکومت نے رمضان میں سحری اور افطاری کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے اور بجلی کی پیداوار کے لیے اربوں روپے دینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ بجلی کا مسئلہ صرف پانچ چھے گھنٹے تک ہی ہو گا۔ لیکن پہلے روزے میں لاہور میں بمشکل سحری اور افطاری کے وقت ہی پانچ چھے گھنٹے کے لیے بجلی آئی۔ ورنہ باقی دن میں لوڈشیڈنگ میں غیرمعمولی اضافہ رہا تھا۔ اس پر آپ کے کیا کمنٹ ہیں؟

برق: دیکھیں پانچ چھے گھنٹے کا وعدہ تھا۔ پانچ چھے گھنٹے ہم نے بجلی فراہم کر دی ہے۔ ہم حکومت کے وعدے کو ہرگز بھی نظرانداز نہیں کر سکتے ہیں۔ انشا اللہ باقی سارا رمضان ہم وعدےکی پابندی کریں گے۔

ہم: بہت شکریہ برق صاحب۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ حکومت تک رمضان پیکیج واپس لینے کی درخواست پہنچا دی جائے۔ خدا حافظ۔

1 جولائی 2014


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 666 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar