سیالکوٹ والی بیبیوں کی باقی شہروں میں بھی ضرورت ہے


ایک پشتو بولنے والا بہت کم پڑھا لکھا دیہاتی اور غریب وضع قطع کا آدمی پاکستان کی ایک جیل میں پچھلے کوئی دس بارہ سال سے قید ہے۔ وہ کے پی کا رہنے والا تھا لیکن راولپنڈی شفٹ ہو چکا تھا۔ اس کو سیشن کورٹ سے عمر قید کی سزا ہوئی تھی اور اب اپیل کا مقدمہ ہائیکورٹ میں ہے۔ اپیل بھی اس نے یا اس کے گھر والوں نے نہیں کی یہ جیل سے براہ راست آئی ہوئی اپیل ہے جو بے یار و مددگار قیدیوں کے لئے کی جاتی ہے۔ کوئی جج کیس سننا نہیں چاہتا۔ کوئی وکیل کیس لڑنا نہیں چاہتا۔ مقدمے کی فائل ایک بنچ سے دوسرے بنچ پر بھیج دی جاتی ہے۔ کوئی امید باقی نہیں ہے۔ اس بندے کے حوش و حواس بھی اب کم ہی کام کرتے ہیں۔ اس کے گھر والے بھی شاید ہی ملنے آتے ہوں۔ بے چارے غریب لوگ تھک گئے ہوں گے۔

آپ نے بوجھ لیا ہو گا کہ اس پر الزام کیا ہے۔ ٹھیک سمجھے آپ، بلاسفیمی کا الزام ہے۔ کوئی چھ سال قبل ایک اچھے جسٹس صاحب کے سامنے فائل آئی تو انہیں رحم آ گیا۔ انہوں نے سوچا اس کو سن ہی لیا جائے۔ حوصلہ کر کے ایک تاریخ بھی نکال دی۔ کوئی وکیل نہیں تھا تو جج صاحب نے ایک وکیل کو بھی درخواست کہ کی اس بندے کو وکیل کی سخت ضرورت ہے اور ہمت کر کے اس کی مدد کر دیں۔ وکیل صاحب بھی ایک خدا ترس آدمی تھے۔ انہوں دل میں سوچا تو سہی کہ جج صاحب یہ کیا مقدمہ میرے ذمے کر رہے ہیں، میرے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں لیکن حامی بھر لی اور مقدمے کی تیاری کے لئے فائل لے لی۔ وکیل صاحب کو مقدمے کی تیاری کے دوران پتا چلا کہ فائل کے علاوہ پولیس کے پاس کچھ آدھ جلے کاغذات بھی موجود ہیں۔

فائل پڑہنے کے بعد وکیل صاحب اس شخص کو ملنے جیل بھی چلے گئے۔ جیسا کہ امید تھی ملزم ایک عام پاکستانی مذہبی شخص نکلا۔ کوئی پڑھا لکھا اور مغرب زدہ بھی نہیں کہ اس پر ملحد یا مرتد ہونے یا کسی سازش کا الزام عائد کیا جا سکے۔

اسی بارے میں: ۔  چوہدری نثار علی خاں بنام محمد نواز شریف

کہانی یہ نکلی کہ وہ شخص پاکیزہ کاغذات کو بے حرمتی سے بچانے کی خاطر جمع کر لیا کرتا تھا اور پھر جب کافی کاغذات جمع ہو جاتے تو قبرستان جا کر انہیں جلا دیتا۔ اپنے تئیں وہ ان کاغذات کو بے حرمتی سے بچا رہا ہوتا تھا۔ ایک دن ایسے ہی مشن پر وہ راولپنڈی کے ایک قبرستان میں موجود تھا اور پاکیزہ کاغذات جلا رہا تھا کہ ایک مولوی صاحب کا ادھر سے گذر ہوا۔ مولوی صاحب کو شک ہوا کہ وہ شخص پاکیزہ کاغذات کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ مولوی صاحب کے پوچھنے پر اس شخص نے اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق وضاحت کی کہ وہ بے حرمتی نہیں کر رہا بلکہ ان کاغذات کو بے حرمتی سے بچانے کی خاطر جلا رہا ہے۔ مولوی صاحب کو اس شخص کی بات کا یقین نہ آیا۔ تھوڑی منہ ماری بھی ہو گئی اور مولوی صاحب نے وہ ادھ جلے کاغذات بھی گواہی کے طور پر اٹھا لئے۔ اس شخص کے خلاف قرانی آیات کی بے حرمتی کا مقدمہ درج کروا دیا۔ مولوی صاحب نے ایک اور شخص کو بھی گواہ کے طور پر ساتھ شامل کر لیا اور ایف آئی آر میں یہ جھوٹ بول دیا کہ وہ دونوں قبرستان سے گذر رہے تھے جب انہوں نے اس شخص کو ان پاکیزہ کاغذات کی بے حرمتی کرتے دیکھا۔ وہ غریب آدمی گرفتار ہو کر تھانے اور پھر جیل پہنچ گیا اور آخری خبریں آنے تک، جو کہ کوئی پانچ سال پرانی ہیں، وہ جیل میں ہی تھا۔

وہ جسٹس صاحب جنہوں نے اس کا مقدمہ سننے کا حوصلہ اور ارادہ کیا تھا وہ بھی کسی وجہ سے سن نہیں سکے۔ مقدمے کی ایک تاریخ ضرور نکلی مگر اس دن لسٹ میں بہت نیچے ہونے کی وجہ سے اس کی باری نہ آسکی اور اس کے بعد آج تک تاریخ نہیں نکلی۔

اسی بارے میں: ۔  کالو قصائی بنام ارباب خاندان!

میں سوچ رہا تھا اس کا ایک حل تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ سیالکوٹ والی مبینہ طور پر جنت کی حق دار خواتین کو یہ ٹاسک بھی دے دیا جائے۔ اس شخص کی جیل سے جان چھوٹ جائے گی۔ درد دل رکھنے والے جج اور وکیل جو اسے بے گناہ سمجھتے ہیں بری کرنا چاہتے ہیں مگر ایسا کر نہیں پا رہے ان کی فکر اور احساس گناہ بھی ختم ہو جائے گا۔ جاتے جاتے ان بیبیوں کے لئے جنت کا درجہ بھی بڑھ جائے گا۔

ویسے بھی اس ملک میں خوف کا عالم یہ ہے کہ ہمارے سارے لیڈروں نے مشال کے قتل کے بارے میں کچھ بھی اچھا برا بولنے سے پہلے 48 گھنٹے انتظار کیا اور تبھی بولے جب یقین ہو گیا کہ مشال پر الزام جھوٹا تھا۔ اب بھی یہ سوال تو کوئی پوچھ ہی نہیں رہا کہ اگر الزام سچا ہو تو پھر کیا مشتعل ہجوم کو خود ہی سزائے موت سنانے اور اس پر عمل کرنے کا اختیار دینا ابھی بھی ٹھیک ہے یا یہ کام عدالتوں کا ہے اور انہی پر چھوڑنا لازمی ہے۔

بتاتا چلوں کہ بلاسفیمی کے الزام کے علاوہ بھی ایسے موقع آتے ہیں جب قتل کو اس ملک میں ٹھیک سمجھا جاتا ہے۔ اس میں عورتوں کو زندہ دفن کرنا اور زندہ جلانا بھی شامل ہے۔ ایسے موقعے پر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بھائی بے چارہ کیا کرتا، یہ سب کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ آخر ٖغیرت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 135 posts and counting.See all posts by salim-malik