عدالتی فیصلہ اور مہتاب حلوائی کی چم چم


عمومی طور پر جب گھر سے فون آتا ہے تو بندہ سب کام کاج چھوڑ کر تخلیہ میں فون سننا پسند کرتا ہے کہ نہ جانے کیا خبر ہو یا مسئلہ درپیش ہو۔ ایسا ہی فیصل آباد کے مٹھائی کے کاریگر مہتابے کے ساتھ بھی ہوا۔ فون کا آنا تھا کہ مہتابے نے کام چھوڑا اور باہر آگیا۔ اطلاع ملی کہ نذیراں کی بکری کا بچہ گاما، نہ جانے کہاں غائب ہوگیا یاکوئی لے گیا۔ بچی گامے کی جدائی میں غم سے نڈھال ہے۔ کچھ کھا پی نہیں رہی، بخار میں علیحدہ پھک رہی ہے۔ تم تو خود جانو ہو۔ گھر میں تو کسی کی سنتی نہیں، تمہارا آنا لازم ہو چکا ہے۔ گامے کا بھی کھوج لگواو اور نذیراں کی طبیعت جب تک بحال نہیں ہوتی، گھر ہی رکواور بچی کا دل بہلانے کوکوئی ولایتی گڑیا بھی لے آنا۔ نذیراں سب سے چھوٹی اور مہتابے کی لاڈلی بیٹی تھی۔ خبر بجلی بن کر گری، دوڑا دوڑا دکان کے مالک کے پاس پہنچا، اول و آخر ساری داستان سنائی اور گاؤں جانے کے لیے چھٹی مانگی کہ معاملہ نازک ہے۔

مالک نے چھٹی دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ دو دن بعدعدالت عظمیٰ کا پانامہ لیکس پر تاریخی اور صدیوں یاد رہنے والا، فیصلہ آنے والا ہے اگر تم جیسا ماہر چم چم بنانے والا کاریگر چلا گیا تو گاہکوں کی طلب کیسے پوری کی جائے گی۔ جانا ہے تو کام پورے کرکے دو دن بعد جانا تاکہ گاہکوں کو پریشانی نہ ہو۔ مہتابے کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ چھٹی نہیں ملے گی کیونکہ اس کا باپ آفتاب بھی اسی دکان پر زندگی گزار گیا۔ باپ کی اور اچھا اور محنتی کاریگر ہونے کی وجہ سے مہتاب کی قدر مالک کی نظروں میں لا محالہ تھی لیکن دکان کے معاملات خوش اسلوبی سے چلانا بھی اس کی ذمہ داری تھی۔ جواب سن کر مہتابے کے تو ہوش اڑ گئے اور نذیراں کا معصوم چہرہ نظروں کے سامنے آگیا۔

مہتابے کو اپنے ابا کی باتیں یاد آنے لگیں۔ اس کا باپ اکثر روہانسی آواز اور شکل میں بتایا کرتا تھا کہ جس دن سابق منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی اس دن موتی چور کے لڈو اسی نے بنائے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے لڈو پلک جھپکتے بک گئے تھے۔ مالک تو خوش تھا لیکن آفتابے کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھاکہ کسی کی موت پر قوم اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے، لڈو کھائے۔ دور آمریت کے اختتام کے بعد تو ہر کس و ناکس نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو سیاسی و ذاتی انتقام سے تعبیر کیا اور بعد میں تو خود عدالت عظمیٰ نے بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دیا۔

مہتابے نے فیصلہ کیا کہ وہ گاوں اب تو ضرور جائے گا کیونکہ وہ عدالت کے کسی ایسے تاریخی فیصلے کا حصہ نہیں بنے گا جو ملک و قوم کو تاریکی میں لے جائے۔ قوم کو چاہے عقل آئے یا نہ آئے۔ مہتاب نے ان پڑھ ہونے کے باوجود تاریخ سے سبق حاصل کرلیا ہے۔ قوم کب تاریخ سے سبق حاصل کرے گی اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔